ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

نظم۔مناظر ِ سحر (جوؔش ملیح آبادی)

تاریخ: September 6, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تشریحاتِ غزل و نظم, درس و تدریس, شاعروں کے تعارف

نظم۔مناظر ِ سحر (جوؔش ملیح آبادی)

تعا ر ف ِ  شا عر :

  • اصل نام شبیر حسن خان تھا۔ جوشؔ تخلص کرتے تھے۔
  • ملیح آباد ( لکھنؤ) میں پیدا ہوئے۔نسلاً آفریدی تھے۔
  • والد بشیر احمد بشیرؔ بھی ایک اچھے شاعر تھے۔
  • مختلف ادبی رسائل اور آل انڈیا ریڈیو سے وا بستہ رہے۔
  • ادبی خدمات کے صلے میں ہندوستانی حکومت نے”پدما بھوشن ادبی ایوارڈ”دیا۔
  • قیام پاکستان کے بعد کراچی میں رہائش اختیار کی۔ اسلام آباد میں انتقال ہوا، وہیں مدفون ہیں۔
  • شاعری کی ابتدا نو برس سے کی۔ابتدا  میں غزلیں  کہیں۔جلد ہی نظم کی طرف مائل ہوگئے۔
  • آپ کو شاعرِ فطرت ، شاعر انقلاب اور شاعرِ شباب بھی کہا جاتا ہے۔
  • آپ کی شاعری میں گھن گرج ،  بہا ؤ ، منا ظرِ فطرت کی  عکا سی ،  ا نقلا بی  رنگ ،  و لو لہ  انگیزی ، ذخیرۂ  ا لفا ظ کی  وسعت ،  دلکشی  اور  رعنا ئی   پائی جاتی ہے۔
  • مجمو عہ ہا ئے  کلا م : شعلہ و شبنم ، روح ِ ادب، نقش و نگار ، فکر و نشاط ، حرف و حکایات، آیات و نغمات ، سیف و سبو ، عرش و فرش  اور  یادوں کی بارات وغیرہ

 

بند نمبر 1 :    کیا روح فزا  ، جلوۂ رخسار سحر ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ہر ذرۂ نا چیز میں ہے طُور کا شعلہ

نئے الفاظ کے معنی : روح فزا: روح کو تازہ کرنے والا ، رخسار ِ سحر : صبح کا جلوہ ، کشمیر دلِ زار: دل کشمیر کی طرح مہک رہا ہے،عرق: حسن ، رُخ : چہرہ ، ناچیز : معمولی ، طور کا شعلہ: کوہِ طور کی تجلّی

مفہوم: صبح کا منظر دل کو سکون دیتا ہے۔دل کشمیر کی طرح مہک رہا ہے آنکھوں کے سامنے جنت کے نظارے ہیں۔ہر پھول پر شبنم ہے۔ہر شے پرتاثیر ہے۔ہر سمت حوروں کا سا حُسن اور طور جیسی تجلّی ہے۔

مماثل شعر: شبنم کے وہ گُلوں پہ گُہر ہائے آبدار            پھولوں سے سب بھرا ہوا دامانِ کوہسار

محاسن:        مسدس ترکیب بند ،  صنعت ِ تلمیح ،  صنعت مراعات النظیر ، تشبیہ ، مرکبات ِ اضافی، تراکیب

بند نمبر 2 :   لرزش وہ ستاروں کی ، وہ ذروں کا تبسم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔شانوں پہ پریشان ہیں یا بال پری کے

نئے الفا ظ کے معنی : لرزش : جھلملانا ، تبسم  : مسکراہٹ ، فدا: قربان ، ترنم : نغمگی ، گردوں : آسمان ، سپیدی: سفیدی ، تصادم : ٹکراؤ          یا        ملنا  ، جلوؤں : نظارے ، تلاطم : طوفان یا جوش و خروش ، گیسو: بال

مفہوم: صبح کے وقت ستاروں کا جھلملانا ، ذروں کا مسکرانا ، چشموں کا بہنا ، آسمان پر سفیدی اور سیاہی کا ملنا  ۔ یوں لگتا ہے کہ جلووں کا اک طوفان ہے ، نغموں کا جوش ہے۔صبح کی ہوا کسی پری کے کندھوں پر پھیلے ہوئے گیسو کی طرح لگتے ہیں۔

مماثل شعرَ : پنہاں نظر سے روئے شبِ تار ہو گیا                   عالم تمام مطلع ِ انوار ہوگیا

محاسن: مسدس ترکیب بند ، صنعت مراعات النظیر ، تشبیہ  ، مرکبات اضافی و عطفی

بند نمبر 3  : وہ پھیلنا خوشبو کا وہ کلیوں کا چٹکنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کہتی ہے نسیمِ سحری ” عیدِ سحر“ ہے

 نئے  الفاظ کے معنی : چٹکنا : کھِلنا ،       جھلکنا : چمکنا  ،                گُلِ تر : شبنم سے بھیگے پھول ، نسیمِ سحری : صبح کی ہوا ، عید ِ سحر : صبح کی عید

مفہوم ؒ ہر طرف پھول کھلے ہوئے ہیں۔ اُن کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔ مدھم چاندنی میں سمندر چمک رہا ہے۔ تاروں کی چھاؤں میں شبنم سے تر پھول مہک رہے ہیں۔ ہوا سے سبزہ جھوم رہا ہے اور شاخیں لہرا رہی ہیں۔ صبح کی ہوا کہہ رہی ہے کہ یہ صبح کی عید ہے۔

مماثل شعر: پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار               اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن

محاسن: مسدس ترکیب بند ، صنعت مراعات النظیر ، تشبیہ ، مرکب اضافی

بند نمبر  4 : خُنکی وہ بیاباں کی، وہ رنگینئی صحرا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔شبنم  سے وہ دھوئے ہوئے رخسار گُلوں کے

نئے الفاظ کے معنی : خنکی : ٹھنڈک ، بیاباں : ویرانہ ، رنگینی : دلکشی  ، مصفا : پاک صاف ،  انبار : ڈھیر  یا ہجوم ، رخسار : گال

مفہوم:  صبح کے وقت صحرا کی ٹھنڈک اور رنگینی قابل ِ دید ہوتی ہے۔ سر سبز وادی اور پاک صاف تالاب  خوش نما دکھائی دیتے ہیں۔ آسمان پر ایک روشن چمکدار ستارہ ہے  اور جنگل کے بیچ ایک بہتا دریا۔ہر طرف شبنم سے دھلے پھول مہک رہے ہیں۔

مماثل شعر:  وہ جھومنا درختوں کا، وہ پھولوں کی مہک              ہر برگِ گُل پہ قطرۂ شبنم کی وہ جھلک

محاسن: مسدس ترکیب بند ، صنعت مراعات النظیر ، تشبیہ ، مرکبات ِ اضافی و عطفی

بند نمبر 5 : وہ روح میں انوارِ خدا ، صبح وہ صادق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیراہنِ یوسف کی وہ تاثیر ہوا میں

نئے الفاظ کے معنی : انوارِ خدا: خدا کے جلوے ، صادق : سچا ، زرّیں : سنہرا ، اُفق : آسمان ، لبریز : بھرا ہوا ، نغمۂ داؤد : حضرت داؤد کے گیت ، پیراہنِ یوسف : حضرت یوسف کا کرتا ، تاثیر : اثر

مفہو م : صبح  صادق کے جلووں سے روح میں خدا کے انوار نظر آتے ہیں۔چاروں جانب پھیلا ہوا حُسن جسے دیکھ کر ہر آنکھ عاشق ہوجائے۔یہ منظر اور وقت انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہے۔  مشرق سے آسمان پر سنہری کرنیں پھیلی ہوئی ہیں۔پرندوں کی آواز میں حضرت داؤد ؑ  کی سی نغمگی اور گویا ہوا میں حضرت یوسف ؑ کے کُرتے کی سی تاثیر ہے۔ 

مماثل شعر: چلنا نسیمِ صبح کا رہ رہ کے بار بار         کُو کُو وہ قُمریوں کی وہ طاؤس کی پُکار

محا سن :  مسدس ترکیب بند ، صنعت تشبیہ ، صنعت مراعات النظیر ، صنعت تلمیح ، مرکب اضافی

بند نمبر 6 : وہ برگ گُلِ تازہ ، وہ شبنم کی لطافت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔  ۔ ۔وہ حمد میں ڈوبی ہوئی آواز اذاں کی

نئے الفاظ کے معنی : برگِ گُل : پھول کی پتی ، لطافت : پاکیزگی ، خندہ : مسکرانا ، اصنام : ( صنم کی جمع) بُت ، زاہد : پرہیز گار ،  برہمن : پنڈت ( اونچی ذات کے ہندو)،  صباحت : خوبصورتی ،  ناقوس : سنکھ (جسے ہندو عبادت کے وقت بجاتے ہیں) ،

مفہوم: تازہ کھِلے ہوئے پھولوں پر شبنم کی پاکیزگی ہے۔ہر طرف حُسن مسکرارہا ہے۔پنڈت بتوں کے جلوے دیکھ رہے اور  سنکھ  بجا کر پوجا کررہے ہیں۔دوسری جانب حمد  میں ڈوبی اذان کی آواز آرہی ہے۔

مماثل شعر: درِ قبول وا ہوا ، دعا کا وقت آگیا                چلو نمازیو چلو ، اُٹھو پجاریو اُٹھو

محاسن: مسدس ترکیب بند ،  صنعت مراعات النظیر ، صنعت تضاد ، تشبیہ۔مرکبات ِ اضافی ،  تراکیب

بند نمبر 7 : آقا کا غلاموں سے ہے یہ قُرب کا ہنگام! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے روح ! خودی چھوڑ  کہ نزدیک ” خدا“ ہے

نئے الفاظ کے معنی : قُرب : قریب ، نزدیک ، ہنگام : وقت ، سرشار : خوش ، آلام : مصیبتیں ، خودی : مراد اپنا آرام سوچنا یا غرور مفہوم:اس وقت اللہ اپنے بندوں سے قریب ہوتا ہے۔  لوگوں کے دِل خوش ہوتے ہیں اور مصیبتیں دور ہوتی ہیں۔اللہ کی رحمت انعام بن کر نازل ہوتی ہے۔اس وقت آرام نہیں  بلکہ اللہ کے قریب ہوکر اس کی رحمت طلب کرنی چاہیئے۔

مماثل شعر: نہ ہو مایوس تُو اپنے خُدا سے                   بدل جاتی ہے بد بختی دُعا سے

محاسن: مسدس ترکیب بند ، صنعت مراعات النظیر ، صنعت تضاد ، تشبیہ۔

خالی جگہیں

  • جوشؔ کا اصل نام شبیر حسن خان تھا۔
  • جوش ؔ کو شاعرِ فطرت اور شاعرِ انقلاب بھی کہا جاتا ہے۔
  • جوش ؔ کا ذخیرۂ الفاظ بہت وسیع تھا۔
  • نظم مناظرِ سحر کی ہئیت مسدس ترکیب بند ہے۔
  • برہمن اونچی ذات کے ہندووں یا پُجاریوں کو کہتے ہیں۔
  • رونے میں جو لذت ہے تو آہوں میں مزا ہے۔
  • اے روح ! خودی چھوڑ کہ نزدیک خدا ہے۔

(مرتب کنندہ : شاکرہ کا ظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *