ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

شخصی خاکہ :  علامہ اقبال ؔ مصنف ( چراغ حسن حسرت  )

تاریخ: September 6, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

شخصی خاکہ :  علامہ اقبال ؔ

تعارف مصنف ( چراغ حسن حسرت  ) :

  • اصل نام چراغ حسن اور حسرتؔ تخلص تھا۔
  • وہ بارہ مولا ،کشمیر میں پیدا ہوئے۔
  • آپ ایک مشہور صحافی ، مزاح نگار ، خاکہ نگار اور شاعر بھی تھے۔
  • حسرتؔ نے مختلف اخبارات میں کام کیا ۔
  • ” سند باد جہازی ”کے نام سے فکاہیہ کالم لکھا ۔
  • آخری دم تک ” روزنامہ امروز ” سے وابستہ رہے ۔
  • آپ کی زبان سادہ ، رواں اور سلیس تھی۔الفاظ و تراکیب پر آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔

تصانیف : فکاہیات ، حرف و حکایت ، کیلے کا چھلکا  ، پربت کی بیٹی ، ارطغرل ،دھوپ چھاؤں اور مردم دیدہ وغیرہ۔

خاکہ نگاری

اردو میں اسے مرقع نگاری ، قلمی تصویر اور قلمی چہرہ بھی کہتے ہیں ۔ کسی شے کا سرسری تعارف خاکہ کہلاتا ہے۔ اس میں کسی شخص کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے ۔ خاکہ نگار اپنے مشاہدے اور مطالعے کی روشنی میں شخصیت کے کسی ایک پہلو  ، کردار  یا اوصاف پر اس طرح روشنی ڈالتا ہےکہ شخصیت کی شبیہہ سامنے آجاتی ہے ۔ اس میں اختصار سے کام لیا جاتا ہے ۔

  • چند ادبی شخصیتیں ۔۔شاہد احمد دہلوی
  • دلی کی چند عجیب ہستیاں ۔۔اشرف صبوحی وغیرہ

کچھ سبق کے بارے میں

  • یہ سبق چراغ حسن حسرتؔ کا لکھا ہوا سب سے بہترین  شخصی خاکہ ہے
  • خاکہ نگار نے اس میں برِ صغیر پاک و ہند کے ممتاز اور منفرد شاعر ، مفکر اور قومی رہنما علامہ اقبالؔ کی شخصیت کے بہت سے ایسے گوشے بے نقاب کیے ہیں جو بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔
  • اس میں انہوں نے علامہ اقبال کے گھر آنے جانے والوں کا حال بیان کیا ہے ۔ علامہ صاحب کا ان سب سے رویہ اور برتاؤ بیان کیا ہے ۔ ان کا ڈیل ڈول اور پنجابی لب و لہجہ ، شعر سننے اور سنانے کے معاملے میں ان کا طرز عمل بیان کیا ہے۔اس کے علاوہ ان کی عادتیں اور کھانے کے معاملے میں ان کی عادتیں بیان کی ہیں ۔

خالی جگہیں

  • ان دنوں نمک کی ستیا گرہ زوروں پر تھی۔
  • موضوع روکھا پھیکا تھا مگر بیچ بیچ میں لطیفے بھی ہو جاتے تھے۔
  • وہ جاڑے میں بڑے شوق سےشب دیگ پکواتے تھے۔
  • علامہ اقبال عام طور پر پنجابی بولتے تھے۔
  • علامہ اقبال کے مطابق مشاعروں نے شاعری کو غارت کر ڈالا۔
  • چراغ حسن حسرت نے سند باد جہازی کے نام سے فکاہیہ کالم لکھے۔
  • جن دنوں حسرت اقبالؔ سے ملے وہ میکلوڈ روڈ رہا کرتے تھے۔
  • بقول مصنف اقبال کی کوٹھی کی خستہ حالی کا نقشہ مرزا غالبؔ کے مکان سے ملتا تھا۔
  • ملاقات کے وقت مصنف نے کھدر کا لباس پہن رکھا تھا۔
روز مرہ محاورہ
یہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔روزانہ کی عام  بول چال کو ” روز مرہ ” کہتے ہیں۔ یہ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جو خاص اہلِ زبان استعمال کرتے ہیں۔ یہ مفرد بھی ہو سکتا ہے۔ اسم ، فعل یا صفت بھی ہو سکتا ہے ۔ اس میں قیاس کو دخل نہیں ۔ نظم و نثر ، تحریر و تقریر میں اس کی پابندی لازمی ہے ۔اس سے کلام کو شُستہ ، فصیح اور میعاری سمجھا جاتا ہے ۔

مثلاً:

بلا ناغہ کی جگہ  ” بے ناغہ ” کہنا غلط ہے

آئے دن کی جگہ ” روز روز ” کہنا غلط ہے

روز بہ روز کی جگہ ” دن بہ دن ” غلط ہے

بات کی کی جگہ ” بات کری ” غلط ہے

دوا کھانا کی جگہ ” دوا لینا ا’ غلط ہے

 

محاورہ مطلقاً بات چیت کو کہتے ہیں خواہ وہ اہلِ زبان کی بول چال کے مطابق ہو یا مخالف ۔

 دو یا دو سے ذیادہ مرکب الفاظ جو اپنے مجازی معنوں میں استعمال ہوں ، محاورہ کہلاتے ہیں ۔محاورہ مجازی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں ۔نظم و نثر ، تحریر و تقریر میں محاورے کی پابندی ضروری ہے۔

جیسے :

دھوکہ کھانا ، قسم کھانا ، غم کھانا

کمر باندھنا ، کام تمام کرنا ،دانت پیسنا 

تین حرف بھیجنا ، دل لگانا

منہ میں خاک ۔ ہوا سے باتیں کرنا

 

( مرتب  کنندہ  :  شاکرہ  کا ظمی  )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *