شخصی خاکہ : علامہ اقبال ؔ
تعارف مصنف ( چراغ حسن حسرت ) :
- اصل نام چراغ حسن اور حسرتؔ تخلص تھا۔
- وہ بارہ مولا ،کشمیر میں پیدا ہوئے۔
- آپ ایک مشہور صحافی ، مزاح نگار ، خاکہ نگار اور شاعر بھی تھے۔
- حسرتؔ نے مختلف اخبارات میں کام کیا ۔
- ” سند باد جہازی ”کے نام سے فکاہیہ کالم لکھا ۔
- آخری دم تک ” روزنامہ امروز ” سے وابستہ رہے ۔
- آپ کی زبان سادہ ، رواں اور سلیس تھی۔الفاظ و تراکیب پر آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔
تصانیف : فکاہیات ، حرف و حکایت ، کیلے کا چھلکا ، پربت کی بیٹی ، ارطغرل ،دھوپ چھاؤں اور مردم دیدہ وغیرہ۔
خاکہ نگاری
اردو میں اسے مرقع نگاری ، قلمی تصویر اور قلمی چہرہ بھی کہتے ہیں ۔ کسی شے کا سرسری تعارف خاکہ کہلاتا ہے۔ اس میں کسی شخص کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے ۔ خاکہ نگار اپنے مشاہدے اور مطالعے کی روشنی میں شخصیت کے کسی ایک پہلو ، کردار یا اوصاف پر اس طرح روشنی ڈالتا ہےکہ شخصیت کی شبیہہ سامنے آجاتی ہے ۔ اس میں اختصار سے کام لیا جاتا ہے ۔
- چند ادبی شخصیتیں ۔۔شاہد احمد دہلوی
- دلی کی چند عجیب ہستیاں ۔۔اشرف صبوحی وغیرہ
کچھ سبق کے بارے میں
- یہ سبق چراغ حسن حسرتؔ کا لکھا ہوا سب سے بہترین شخصی خاکہ ہے
- خاکہ نگار نے اس میں برِ صغیر پاک و ہند کے ممتاز اور منفرد شاعر ، مفکر اور قومی رہنما علامہ اقبالؔ کی شخصیت کے بہت سے ایسے گوشے بے نقاب کیے ہیں جو بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔
- اس میں انہوں نے علامہ اقبال کے گھر آنے جانے والوں کا حال بیان کیا ہے ۔ علامہ صاحب کا ان سب سے رویہ اور برتاؤ بیان کیا ہے ۔ ان کا ڈیل ڈول اور پنجابی لب و لہجہ ، شعر سننے اور سنانے کے معاملے میں ان کا طرز عمل بیان کیا ہے۔اس کے علاوہ ان کی عادتیں اور کھانے کے معاملے میں ان کی عادتیں بیان کی ہیں ۔
خالی جگہیں
- ان دنوں نمک کی ستیا گرہ زوروں پر تھی۔
- موضوع روکھا پھیکا تھا مگر بیچ بیچ میں لطیفے بھی ہو جاتے تھے۔
- وہ جاڑے میں بڑے شوق سےشب دیگ پکواتے تھے۔
- علامہ اقبال عام طور پر پنجابی بولتے تھے۔
- علامہ اقبال کے مطابق مشاعروں نے شاعری کو غارت کر ڈالا۔
- چراغ حسن حسرت نے سند باد جہازی کے نام سے فکاہیہ کالم لکھے۔
- جن دنوں حسرت اقبالؔ سے ملے وہ میکلوڈ روڈ رہا کرتے تھے۔
- بقول مصنف اقبال کی کوٹھی کی خستہ حالی کا نقشہ مرزا غالبؔ کے مکان سے ملتا تھا۔
- ملاقات کے وقت مصنف نے کھدر کا لباس پہن رکھا تھا۔
| روز مرہ | محاورہ |
| یہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔روزانہ کی عام بول چال کو ” روز مرہ ” کہتے ہیں۔ یہ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جو خاص اہلِ زبان استعمال کرتے ہیں۔ یہ مفرد بھی ہو سکتا ہے۔ اسم ، فعل یا صفت بھی ہو سکتا ہے ۔ اس میں قیاس کو دخل نہیں ۔ نظم و نثر ، تحریر و تقریر میں اس کی پابندی لازمی ہے ۔اس سے کلام کو شُستہ ، فصیح اور میعاری سمجھا جاتا ہے ۔
مثلاً: بلا ناغہ کی جگہ ” بے ناغہ ” کہنا غلط ہے آئے دن کی جگہ ” روز روز ” کہنا غلط ہے روز بہ روز کی جگہ ” دن بہ دن ” غلط ہے بات کی کی جگہ ” بات کری ” غلط ہے دوا کھانا کی جگہ ” دوا لینا ا’ غلط ہے
|
محاورہ مطلقاً بات چیت کو کہتے ہیں خواہ وہ اہلِ زبان کی بول چال کے مطابق ہو یا مخالف ۔
دو یا دو سے ذیادہ مرکب الفاظ جو اپنے مجازی معنوں میں استعمال ہوں ، محاورہ کہلاتے ہیں ۔محاورہ مجازی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں ۔نظم و نثر ، تحریر و تقریر میں محاورے کی پابندی ضروری ہے۔ جیسے : دھوکہ کھانا ، قسم کھانا ، غم کھانا کمر باندھنا ، کام تمام کرنا ،دانت پیسنا تین حرف بھیجنا ، دل لگانا منہ میں خاک ۔ ہوا سے باتیں کرنا
|
( مرتب کنندہ : شاکرہ کا ظمی )