تعارف مصنف
- ڈاکٹر عبادت بریلوی اردو زبان کے مشہور محقق اور نقاد تھے۔
- آپ اورینٹل کالج کے صدر شعبہء اردو اور پرنسپل رہے۔
- آپ کی بیشتر کتابیں ہندو پاکستان کی یونیورسٹیوں میں شاملِ نصاب رہیں۔
- آپ کی تنقید کا انداز وضاحتی تجزیے کا ہے جو عام طور پر ہمدردانہ ہوتا تھا۔
- آپ سادہ، دل نشین اور دلیل کے ساتھ اپنے مؤقف کی وضا حت کرتے تھے۔
- آپ ادبی پیچیدگیوں میں الجھنے کی بجائے معنوی سطح پر رہتے ہوئے اپنا تجزیہ منطقی استدلال کے ساتھ پیش کرتے تھے۔
- آپ کے ہاں تحقیق اور تنقید کا رشتہ ذیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔
- تصانیف: تنقیدی زاویے، اردو تنقید کا ارتقاء، غزل اور مطالعہء غزل۔ غالبؔ کا فن، جدید شاعری، جدید اردو ادب اور میر تقی میرؔ وغیرہ۔
الفا ظ کے معنی
- نامور۔ مشہور
- ارتقاء۔ آگے بڑھنا/ترقی کرنا
- منطقی استدلال۔عقلی دلیل
- شعور۔ سمجھ
- مشاطگی۔ بنانا سنوارنا
- حائل ہونا۔ رکاوٹ ڈالنا
- غوروغوص۔سوچ بچار
- عناصر۔اجزاٰ
- مدوجزر۔ اتار چڑھاؤ
- تلاطم۔ لہروں کا اوپر نیچے ہونا
- نو وارد۔ نیا آنے والا
- بیشتر۔ذیادہ تر
- تجزیہ۔جائزہ لینا
- مسلمہ۔ تسلیم شدہ
- دل موہ لینا۔ اچھا لگنا
- تغیرات۔ تبدیلیاں
- بادِ سموم۔ گرم زہریلی ہوا
- روشناس۔ واقف
- ودیعت ڈالنا۔ پیدا کرنا
- جامہ پہنانا۔شکل دینا/ ترتیب دینا
- آشکارا۔ ظاہر ہونا
- فنونِ لطیفہ۔ مصوری، موسیقی، سنگ تراشی،مجسمہ سازی
سبق کا مرکزی خیال
ادب اور انسانی زندگی لازم وملزوم ہیں۔اِن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ادب اور انسانی زندی کی سوچ،اس کے ماحول، اس کے رسم و رواج اور اس کے رویوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ادب انسان کو مہذب بناتا ہے۔اس کی سوچ اور فکر کو وسعت عطا کرتا ہے۔اس کا ماضی، حال اور مستقبل سے رشتہ جوڑتا ہے۔اس کے احساسات و جذبات کو زبان عطا کرتا ہے۔اس لئے ادب کے بغیر انسانی زندگی ادھوری ہے۔ادب انسان کی مسیحائی بھی کرتا ہےاور ارتقاء کی منازل بھی طے کرتا ہے۔
اہم سوالات کے جوابات
2۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے ادب کی نوعیت کو روحانی قرار دیا اور دوسری اشیاء کا تعلق مادیت سے جوڑا ہے۔ادب کی تخلیق انسان کی فطری خواہش ہے جس سے اس کو سکون ملتا ہے اور معاشرے کے دوسرے افراد بھی اس میں دلچسپی لیتے ہیں۔لیکن وہی ادب قابل ٹھہرتا ہے جس میں آفاقیت پائی جاتی ہو۔ایسا ادب انسان کے جمالیاتی ذوق کوپیدا کرتا ہے۔ادب کو نکھار عطا کرتا ہے۔خوب صورت چیز کو خوب صورت الفاظ کا جامہ پہنا کر حسین صورت میں پیش کرتا ہے۔
اہم سوالات کے جوابات
3۔ تنقید سے مراد کسی ادب پارے یا کلام کی اچھائیوں اور برائیوں پر تبصرہ کرنا۔مضمون“ کچھ ادب کے بارے میں“ اس تعریف پر کسی حد تک پورا اترتا ہے۔مصنف نے ادب کی غرض و غایت کو منطقی انداز سے بیان کیا ہے اور دب کے انسانی زندگی پر اثرات اور سماجی و معاشرتی زندگی میں اس کے مقام و مرتبے پر جامع انداز میں تبصرہ کیا ہے۔
اہم خالی جگہیں
- انسان کے اندر حُسن کا احساس سب سے قوی ہے۔
- زمانے کی مشاطگی اس کو ذیادہ سے ذیادہ سنوارتی ہے۔
- ادب کے قدم ترقی کی شاہراہوں پر آگے بڑھتے چلے گئے۔
- احساسِ جمال کا ہونا انسان کے اندر لازمی ہے۔
- ” کچھ ادب کے بارے میں“ ایک تحقیقی مضمون ہے۔
- سوتا سے مراد چشمہ ہے۔
- سبق ” کچھ ادب کے بارے میں“ کتاب ” تنقیدی زاوئیے“ سے لیا گیا ہے۔
- ادب کی تحقیق میں مادے کو دخل نہیں۔
- انسان سماجی مخلوق ہے۔
- بڑے ادب میں فطری کارفرمائی ہوتی ہے۔
- انسان فطرتاً حسن کا شیدائی ہوتا ہے۔
- ادب کے علاوہ دوسری تخلیقات کا تعلق مادے سے ہے۔
- آفرینش سے مرادپیدائش ہے۔
- انسان جس چیز کی بھی تخلیق کرتا ہے اس میں سب سے پہلے تو اسے خود ذاتی سکون ملتا ہے۔
- یہ فنکار کا کمال ہے کہ وہ بد صورت چیز میں بھی حسن کی رعنائی اور دلکشی پیدا کردے۔
-
سیدہ اُمِ شاکرہ کاظمی
لیکچرار اردو
فضائیہ انٹر کالج، ملیر۔