ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

کلیم اور ظاہر دار بیگ۔ماخذ: ناول توبتہ النصوح۔مصنف: ڈپٹی نذیر احمد

تعارف  ناول نگار

  • ۱۸۳۶۔۱۹۱۲ء
  • ضلع بجنور( بھارت) میں پیدا ہوئے۔
  • پندرہ برس کی عمر میں دہلی آ گئے، کچھ عرصہ ایک مسجد کے مکتب میں دینی تعلیم حاصل کی۔
  • آپ نے ادب، عربی، فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔
  • ۱۸۵۶ میں مدرس کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔بعد میں ترقی کرکے ڈپٹی انسپکٹر مدارس ہو گئے۔
  • آپ نے قانون انکم ٹیکس اور تعزیراتِ ہند کا اردو ترجمہ کیا، اس کے صلے میں تحصیل دار بنا دیئے گئے۔بعد میں ڈپٹی کلکٹر ہو گئے۔ترقی کرتے کرتے ممبر بورڈ آف ریوینیو ہو گئے۔
  • ریٹائر ہونے پر دہلی واپس آ گئے اوربقیہ زندگی علمی اور ادبی مشاغل میں بسر کیَ
  • آپ عمر بھر سر سید کے رفیق اور معاون رہے۔
  • تحریک علی گڑھ کو شبانہ روز محنتوں  اور کوششوں سے کامیاب کرایا۔
  • ان کی علمی اور ادبی خدمات کے صلے میں ایڈنبرا یونیورسٹی نے ’’ ایل ایل ڈی‘‘ ،، پنجاب یونیورسٹی نے ’’ ڈی او ایل‘‘ کی ڈگریاں دیں۔
  • گورنمنٹ سے ’’ شمس العلماء ‘‘اور ’’ خان بہادر‘‘ کے خطاب پائے۔
  • آپ کو اردو کا پہلا ناول نگار کہا جاتا ہے۔
  • آپ نے معاشرتی اصلاح کے لئے کئی ناول لکھے۔آپ کی زبان میں دہلوی زندگی کا عکس ملتا ہے۔
  • سبق کا مرکزی خیال:

     توبتہ النصوح ایک اصلاحی ناول  ہے۔اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جو بچے اپنے والدین سے ناراض ہو کر گھر سے نکل جاتے ہیں انھیں بدنامی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

    کلیم ایک شاعر تھا۔اس کا باپ اس کو نیکی کی ہدایت اور نصیحت کرتا ہے؛ لیکن وہ باپ کو ناراض کرکے اور بغیرکچھ کھائے پئے گھر سے چلا جاتا ہے۔اس کا قریبی دوست  مرزا ظاہر دار بیگ بھی اسکی کوئی مدد نہیں کرتا۔کلیم کو بھوکا رہ کر مسجد میں رات بسر کرنی پڑتی ہے۔

    مرزا ظاہر دار بیگ کا بیٹا اس پر چوری کا الزام لگا کر تھانے پہنچا دیتا ہے۔وہ اپنی پہچان بتاتا ہے ۔تھانیدار دو سپاہیوں کے ساتھاسے اسکے گھر بھیجتا ہے کہ اگر پہچان لیں تو چھوڑ دینا ورنہ  واپس لاکر حوالات میں بند کر دینا۔معلوم ہوا کہ باپ کی ناراضی ، اللہ کی ناراضی ہے،

    • الفاظ معنی
    • کواڑ۔ دروازے کا تختہ
    • اپنے تیئں۔ اپنے آپ کو
    • دبلا ڈیل۔ دبلے پتلے جسم کا
    • کرنجی۔نیلی
    • کھڑنجے کا فرش۔اکھڑی اینٹوں کا فرش
    • بندہ نوازی۔ احسان کرنا
    • بچھونا۔ بستر
    • اشتداد۔ شدت، ذیادتی
    • کٹڑے۔ چھوٹا سا کوچہ
    • سرائیں۔ ہوٹل، مہمان خانے
    • شمہ۔ ذرہ
    • مسجدِ ضرار۔منافقین کی مسجد
    • بے ہنگام۔ شور
    • اختلاجِ قلب۔دل کی دھڑکن کا بڑھنا
    • نیتِ شب حرام۔رات کے وقت جو نیت کی جائےوہ حرام ہوتی ہے
    • استراحت۔ آرام
    • سخن سازی۔ باتیں بنانا
    • رخنہ اندازی۔رکاوٹ ڈالنا
    • دیو اشتہا۔ بھوک
    • بھڑ بھونجا۔ دانے بھوننے والا
    • متبنٰی۔کسی دوسرے کی اولاد کو بیٹا بنانا
    • چشمِ زدن۔پلک جھپکنے میں، فوراً
    • بھاڑ۔ چنے بھوننے کی بھٹی
    • تنبیہ پکڑنا۔سبق حاصل کرنا ، عبرت پکڑنا
    • گجر دم۔صبح سویرے
    • چرب زبانی۔چکنی چپڑی باتیں
    • متغیر۔ تبدیلی ، بدلنا
    • الوانِ نعمت۔ رنگا رنگ نعمتیں
    • ہجو۔ کسی کی برائی میں نظم بیان کرنا
    • سڑی۔ پاگل
    • حقوقِ معرفت۔ جان پہچان کی باتیں
    • ہیئت کذائی۔ بری حالت
    • افکارِ تازہ۔ تازہ شاعری 
    •  اقتباس کی تشریح کا طریقہ 
    • اقتباس: (کلیم نے جو مسجد میں آ کر دیکھا۔۔۔۔۔۔کلیم مایوس ہو چکا تھا۔)

      حوالہ سبق: کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ۔(توبتہ النصوح)

      حوالہ و تعارفِ  مصنف:

      سیاق و سباق:

    •   کلیم دہلی کےایک کھاتے پیتے گھرانے کا فرد تھا۔وہ نصوح کا بیٹا تھا جو ایک مقبول شخص تھا۔نصوح نے اپنی اولاد کو نماز روزے کا پابند بنانے  کے لئے کوششیں کیں۔کلیم نے باپ کی بات نہ مانی اور ناراض ہوکر اپنے دوست مرزا  ظاہر دار بیگ  کے ہاں چلا آیا۔مرزا ظاہر دار بیگ اپنے آپ کو ایک امیر کبیر شخص ظاہر کرتا تھا۔لیکن جب کلیم اس کے ہاں پہنچا تواس کے سب دعوے جھوٹ ثابت ہوئے۔مرزا ظاہر دار بیگ نے رات کے قیام کے لئےکلیم کو محلے کی  ایک ویران مسجد میں بھیج دیا۔

    • تشریح

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *