- تعارف شاعر: (۱۷۴۸۔۱۸۲۴)
- اصل نام غلام ہمدانی، مصحفیؔ تخلص تھا۔
- امرتسر میں پیدا ہوئے۔
- جوانی میں دہلی آگئے۔
- جب دہلی کے حالات بگڑے تو لکھنٔو آ گئے۔
- زندگی کا بیشتر حصہ پریشانیوں میں گزرا۔
- غیر معمولی صلاحیت اور اہلیت کے مالک تھے۔
- کلام کا ذیادہ حصہ غزلیات پر مشتمل ہے۔
- ان کے کلام میں جمال پسندی،دھیما پن اور نفاست ہے۔
- اردو میں مصحفیؔ کے آٹھ دیوان ہیں۔
- تشریحات
- ؎ جو ہم سے وعدۂِ دیدارِ یار ٹھہرے گا
تو کچھ نہ کچھ یہ دلِ بے قرار ٹھہرے گا حلِ لغت: وعدہِ دیدارِ یار:ملاقات کا وعدہ،وعدہ ٹھہرنا: وعدہ کرنا، دلِ بےقرار:بےچین دل،
دل ٹھہرنا:دل کو سکون ملنا۔
مفہوم: اگر محبوب ملاقات کا وعدہ کرلے تو بےچین دل کو سکون مل جائے گا۔
وضاحت: ہر محب کی تمنا ہوتی کہ کسی طرح محبوب کا دیدار یا ملاقات ہوجائے۔مگر اس بات پر اُسے راضی کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اگر محبوب ملاقات کا وعدہ کرلےتو محب کی کچھ نہ کچھ تسکین ہوجائے۔حالانکہ وعدہ کر لینا اس بات کا یقینی امر نہیں کہ ملاقات ضرور ہوگی۔لیکن ایک امید ضرور پیدا ہوجاتی ہے اور محب قدرے مطمئن ہو جاتا ہے۔شاعر بھی اپنے محبوب سے ایسے ہی وعدے
کا متمنی ہے۔
مماثل شعر:
؎ نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
فنی محاسن:
مرکبِ اضافی ( وعدۂِ دیدارِ یار، دلِ بےقرار)
محاورہ (دل ٹھہرنا۔سکون آنا)
-
مفاہیم
- ۲۔اے صبح کی ہوا! کلی کی آواز پر اپنی منزل کی جانب روانہ ہو جا،تاکہ بہار کے قافلے میں شامل ہو سکے۔
۳۔اگر قبر میں میرا دل اِسی طرح دھڑکتا رہے گا تو کتبہ گر جائے گا۔
۴۔اے محبوب!تمہاری تیرجیسی پلکوں کے سامنے میرا دل کیسے ٹھہر سکے گا۔
۵۔دنیا کی زندگی چند روزہ ہے۔اس کا خوب مزہ اٹھا لو۔
۶۔اے میرے دوست!میری موت سے پہلے جلد مجھ سے آن ملو۔
۷۔اے دوستو! مصحفیؔ کولحد میں دفن نہ کرو، وہ بےقرار قبر میں ٹھہر نہ سکے گا۔
- مماثل اشعار
- ؎چلنے والے نکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا کچلےگئے ہیں
؎زلزلہ دہر میں یونہی نہیں آتا ہمدم
کوئی بےتاب تہِ خاک تڑپتا ہوگا
؎ یارب نگاہِ یار پہ لائسنس کیوں نہیں
یہ بھی تو قتل کرتی ہیں بندوق کی طرح
؎ میں نے پوچھا کہ زندگی کیا ہے
ہاتھ سے گر کے جام ٹوٹ گیا
؎ اب آ بھی جا کہ تیرے ملنے کی چاہ میں
ٹالا ہے آج موت کو بڑے اہتمام سے
؎ اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
- فنی محاسن
-
۲۔رعایتِ لفظی کا استعمال، تشبیہ اور مرکبِ اضافی (جرسِ غنچہ)۔
۳۔صنعتِ تعلیل( قبر میں دل کا دھڑکنا)، مرکبِ اضافی ( تہِ خاک، سنگِ مزار)
۴۔مرکبِ اضافی (ناوکِ مژگاں، دلِ بےقرار)
۵۔صنعتِ تضاد ( گل،خار)،صنعتِ مراعات النظیر(باغ میں موجود تمام چیزوں کا ذکر)
۶۔محاورہ(دم لبوں پر آنا)، مرکبِ اضافی (شبِ انتظار)۔
۷۔صنعت تعلیل (قبر میں بےقراری)۔