- تعارف شاعر: (۱۷۲۱۔۱۷۸۵)
- آگرہ میں پیدا ہوئے۔
- آپ مشہور صوفی شاعر تھے۔
- آپ کا سلسلہ نسب خواجہ بہأ الدین نقشبندی سے ملتا ہے اور والدہ کی طرف سےحضرت عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم تک جا پہنچتا ہے۔
- آپ نے اپنی شاعری میں تسلیم و رضا اور عظمتِ انسانی جیسےمضامین کو بڑی خوبصورتی سے باندھا ہے۔
- ان کے کلام میں سوز اور روانی ہے۔
- غزل کو گل و بلبل کی روایت سے نکال کرعرفان و تصوف کی پاکیزگی سےہم کنار کیا۔
- آپ کی غزلوں کا مقصد کائنات اور خالقِ کائنات کے تعلق کو سمجھانا اوراسی کی روشنی میں زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانا ہے
تشریحات
-
شعر نمبر 1:قتلِ عاشق کسی۔۔۔
مفہوم: اس سے پہلے عاشقوں کو بے دریغ قتل کرنے کا رواج نہ تھا۔
مماثل شعر: ؎
ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن نہ تھیں تری انجمن سے پہلے سزا خطائے نظر سے پہلے عتاب جرم سخن سے پہلے
محاسن: مرکبِ اضافی ۔ (قتلِ عاشق )
شعر نمبر2: رات مجلس میں ترے حسن کے ۔۔۔۔
مفہوم: محبوب کے حسن کے شعلے کی بھڑک کے سامنے شمع کی کوئی حیثیت نہ تھی۔
مماثل شعر:؎
وہ آئے بزم میں اتنا تو میرؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
محاسن: صنعت مراعات النظیر ، مبالغہ آمیزی۔
شعر نمبر 3:ذکر میرا ہی وہ کرتا تھا۔۔۔۔
مفہوم:میرا دوست حالِ دل مجھ سے چھپاتا ہے اور مجھے نظر انداز کرتا ہے۔
مماثل شعر: ؎
دوسروں سے کیوں میری باتیں سنا کرتا ہے وہ
سامنے آ کر تو یکسر اجنبی بنتا ہے وہ
محاسن: سہلِ ممتنع
شعر نمبر 4: باوجود یہ کہ پر و بال نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
مفہوم: انسان اشرف المخلوقات اور مسجودِ ملائک ہے۔
مماثل شعر:؎
جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر
اُن کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو
محاسن: صنعتِ تلمیح (فرشتے، آدم)، کِنایہ ( آدم-حضورؐ) ،
واقعہ معراج کا ذکر۔
شعر نمبر5:پرورش غم کی ترے۔۔۔۔
مفہوم:تو مجھے اتنا عزیز ہے کہ ترے ہاتھوں ملنے والا غم بھی گواراہے۔
مماثل شعر:؎
اذیت، مصیبت، ملامت ، بلائیں
ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
محاسن: صنعت تشبیہ( داغ۔ناسور)
شعرنمبر6:محتسب آج تو مے خانے۔۔۔۔
مفہوم: محبت میں ناکام لوگوں سے انکی ناکامی کا احوال پوچھنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
مماثل شعر:؎
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
محاسن: محاورہ( شیشے کی طرح چُور)
شعر نمبر 7: درد کے ملنے سے اے یار !برا کیوں مانا
اس کو کچھ اور سوا دید کے، منظور نہ تھا
مفہوم: میں تو صرف دید کی خواہش رکھتا تھا، میرے دوست کو اتنی سی خوشی بھی گوارا نہیں۔
مماثل شعر:؎
دم لے کے ایک لمحہ چلے جائیں گے فقیر
سن کر تمہارے حسن کی تعریف آگئے
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
محاسن: مقطع کا شعر، شکوہ
مشقی سوالات
سوال نمبر1:
ردیف کی تعریف: اس کے لغوی معنی پیچھے آنے والے کے ہیں۔اصطلاح میں کسی شعر کے آخر میں آنے والے وہ مستقل کلمات جو ہوبہو دہرائے جاتے ہیں، ردیف کہلاتے ہیں۔
مثال: قتلِ عاشق کسی مقتول سے کچھ دور نہ تھا
پر ترے عہد کے آگے تو یہ دستور نہ تھا
وضاحت: یہاں ْْْ نہ تھاٗٗ ردیف ہے۔
سوال نمبر 2: ہم قافیہ الفاظ
روئیے، دھوئیے، سوئیے، کھوئیے، ڈھوئیے، ڈبوئیے
سوال نمبر 3: کنایہ قریب:وہ اشارہ جو فوری سمجھ آجائے
؎ کیوں سنے عرض مضطرب مومنؔ
صنم آخر خدا نہیں ہوتا
وضاحت: صنم کا کنایہ محبوب کے لئے ہے۔
کنایہ بعید:وہ اشارہ جو فوری سمجھ نہ آئے
؎ صبح آیا جانب مشرق نظر
اک نگارِ آتشیں رخ سر کھلا
وضاحت: نگار آتشیں رخ کا کنایہ سورج کے لئے ہے۔
سوال نمبر 6:صنعت مراعات النظیر:
کلام میں ایک ہی مضمون سے تعلق رکھنے والےمناسب الفاظ یا چیزوں کا ذکر کرنا مراعات النظیر کہلاتا ہے۔
صنعت حسنِ تعلیل:
کلام میں کسی شے کے ظاہر ہونے کی ایسی وجہ بیان کرنا جو حقیقت پر مبنی نہ ہو،مگر اس خوبی سے استعمال کیا جائے کہ بھلا معلوم ہو۔
صنعت لف و نشر:
لف کا مطلب لپیٹنا اور نشر کے معنی پھیلانا۔شعر کے ایک حصے میں چند چیزوں کا ذ کر کرنا، پھر اس کی مناسبت سے چند دوسری چیزوں کا ذکر کرنا۔
صنعتِ تلمیح:
اس کے لفظی معنی کلام میں کسی آیت، حدیث،شخصیت یا واقعے کاذکر کرنا۔
تضمین:
جب شاعر اپنے کلام میں کسی دوسرے شاعر کا مصر ع استعمال کرتا ہے۔وہ اس شعر کو واوین میں لکھتا ہے۔
-
شاکرہ کاظمی