تعارفِ مصنف
پنڈت رتن ناتھ سرشار کا شمار اردو ادب کے ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے۔آپ مختلف اخباروں اور رسالوں کے مدیر رہے۔اردو ناول کے فروغ اور ارتقاء میں آپ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔آپ کی تخلیقات نے بہت شہرت پائی۔آپ کا ناول فسانۂ آزاد اودھ کے اخبار میں قسط وار شائع ہوتا تھا۔ان کے ناولوں میں سیر سپاٹے، ہنسی مذاق اور عجیب و غریب کمالات موجود ہیں۔آپ کا قلم رواں ، پختہ اور انداز خقیقت سے قریب تھا۔آپ نے اپنی نثر کو آرائش سے محفوظ رکھا۔تاہم محاورات، روزمرہ،تمثیل اور تشبیہ کا خوب صورت استعمال نظر آتا ہے۔
تصانیف: فسانۂ آزاد، شمس الضحیٰ، اعمال نامہ روس،الف لیلیٰ، خدائی فوجدار اور کامنی وغیرہ۔
سبق کا مرکزی خیال
رتن ناتھ سرشار کا ناول“ فسانہ آزاد“ بہت شہرت کا حامل ہے۔ یہ ناول لکھنوی معاشرت کا آئینہ دار ہے۔
اس ناول میں سرشار نے اودھ کے حکمرانوں کی امورِ سلطنت سے عدم دلچسپی اور غفلت کی سچی تصویر کھینچی ہے۔وہ شراب و کباب کے رسیا تھے۔اُن کی شاہ خرچیاں عروج پر تھیں۔انہیں گھربار تک کی فکر نہ تھی۔نوکر ان کی آنکھوں کے سامنے لوٹ مار کا بازار گرم کر رہے تھے۔ مصنف نے مختلف کرداروں کے ذریعے اس وقت کی تصویر کشی کی ہے۔
نئے الفاظ کے معانی
- پانچوں گھی میں۔ عیش و عشرت کرنا
- سرکڑاہی میں۔ خوب مزے کرنا
- شاہ خرچیاں۔ فضول خرچیاں
- مد میں ۔ حساب میں
- سڑی۔ بوسیدہ/باسی
- اول مال۔ عمدہ
- محیر العقول۔ عقل کو حیران کر دینے والی
- راندے۔ دھتکارنا
- داروغہ۔ تھانیدار
- مل و جن۔ کُل وزن
-
¨لکھ لٹ۔ لاکھوں روپے اُڑا دینے والا
¨مردک۔ ذلیل آدمی
¨گیدی ۔بےوقوف
¨بری ٹھہرنا۔ معاملہ خراب ہونا
¨الٹی آنتیں گلے پڑنا۔نیکی کے بدلے برائی گلے پڑنا
¨اندھیر نگری چوپٹ راج۔لاقانونیت
¨ساجھا۔ مشترکہ
¨کتر بیونت۔کانٹ چھانٹ
¨قرولیاں بھونکنا۔ پیٹ میں چاقو مارنا
¨ٹیڑھی کھیر۔ مشکل کام
¨کائیاں۔ چالاک
¨خرس۔ ریچھ
-
معروضی سوالات
¨فسانۂ آزاد ضنف کے لحاظ سے ناول ہے۔
¨”دبدبۂ آصفی“ کے ایڈیٹر رتن ناتھ سرشار تھے۔
¨داروغہ ایک بد دیانت، دھوکہ باز اور نمک حرام شخص تھا۔
¨داروغہ نواب صاحب کو دونوں ہاتھ سے لوٹ رہا تھا۔
¨خوجی نے داروغہ اور بزاز کی چوری پکڑ لی۔
¨واہ ری پھوٹی قسمت
¨فسانۂ آزاد میں لکھنئو کی معاشرتی زندگی کی عکاسی ملتی ہے۔
¨حضور! یہ خوجی صاحب تو بڑے تیکھے آدمی ہیں۔
سیدہ اُمِ شاکرہ کاظمی
لیکچرار اردو
فضائیہ انٹر کالج، ملیر
-