تعارف مصنف
- مولوی ذکا اللہ 1832ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔
- آپ ریاضی، اردو اور فارسی کے معلم رہے۔
- آپ سر سید احمد خان کی تحریک کے اہم رکن تھے۔
- آپ نے زندگی کا بیشتر حصہ تصنیف و تالیف میں گزارا اور کئی اصلاحی مضامیں لکھے۔
- آپ کی تحریروں سے حقیقت پسندی جھلکتی ہے۔
- آپ نرم مزاج، وسیع اخلاق، منکسرالمزاج،روشن دماغ،متنوع معلومات، خیر خواہ عامہ خلق ، فیاض طبع اورصلح کُل تھے۔
- تصانیف: تاریخِ ہندوستان، کرزن نامہ،آئینِ قیصری وغیرہ۔
-
مرکزی خیال
مولوی ذکااللہ نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ جھوٹ چاہے کسی قسم کا ہو قابلِ مذمت ہے۔اس برائی سے فساد کا دروازہ کھل جاتا ہے۔جب یہ برائی انفرادی سطح سے اجتماعیت کی طرف سرائیت کرتی ہے تو معاشرے اور قومیں تباہ و برباد ہوکر رہ جاتی ہیں۔مصنف نے جھوٹے لوگوں کی اقسام اور خصلتیں بیان کی ہیں۔مصنف کہتے ہیں کہ انسانوں میں رشتہ بندی زبان کی وجہ سے ہے۔اس سے وہ میل ملاپ بڑھائے اورخوشی غمی میں شریک ہو۔
نئے الفاظ کے معانی
- پروانہ تقرر۔ ملازمت کا آرڈر
- کریم النفس۔ شریف
- صلح کُل۔ سب سے بنا کر رکھنے والا
- خیر خواہ۔ ہمدرد
- فیاض طبع۔ سخی
- پرلے درجے۔ کم تر حیثیت
- استوار۔ مظبوط
- جنگ زرگری۔ دکھاوے/مصنوعی لڑائی
- متمکن۔ براجمان/بیٹھی ہوئی
- خانہ نشین ہونا۔ گھر میں بیٹھنا
- مرنجان مرنج۔ عاجز اور ہمدرد انسان
اہم مشقی سوالات کے جوابات
1۔ جھوٹے آدمی کے حافظے کے بارے میں مولانانے جو ضرب المثل بیان کی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ جھوٹے آدمی کا حافظہ نہیں ہوتا۔ہر جھوٹ بولنے والا کچھ عرصہ بعد ہی اپنی جھوٹی بات بھول جاتا ہے۔اور جب کسی دوسرے موقعے پر وہی بات دہراتا ہے تو اسے اپنا جھوٹ یاد نہیں رہتا ۔اس لئے وہ غلط بیانی کر دیتا ہے۔
3۔مصنف نے جھوٹوں کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔پہلے وہ جو جھوٹی بات کہہ کر اُسے دل سے سچا مانتے ہیں۔جبکہ دوسرے جھوٹے وہ ہوتے ہیں جو اپنی کہی ہوئی جھوٹی بات کو دل سے بھی جھوٹا ہی مانتے ہیں۔ان کا مقصد ہوتا ہے کہ لوگ اسے سچا مانیں۔
5۔جھوٹ سے سچ کا جاننا اس لئے مشکل ہوتا ہےکہ جھوٹا بڑی مہارت سےجھوٹ بولتا ہے کہ اس پر سچ کا گمان ہوتا ہے۔اور لوگ اس پر اعتبار کرلیتے ہیں۔
7۔ جھوٹا آدمی دل سے اپنی بات کو سچ مانتا ہے۔بعض لوگ فائدے کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں۔کچھ لوگ عادتاً ہر بات پر جھوٹ گھڑ لیتے ہیں۔کچھ موقع محل کی مناسبت سے جھوٹ بولتے ہیں۔ایسے لوگوں میں ذیادہ تر تاجر طبقہ اور اہلِ پیشہ لوگ شامل ہوتے ہیں۔شعراء بھی اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔
معروضی سوالات
- سبق ٗ جھوٹے آدمیٗ کتاب محاسن الاخلاق سے لیا گیا ہے۔
- آئینِ قیصریٗ مولوی ذکااللہ کی کتاب ہے۔
- ٗدروغ گو را حافظہ نبا شدٗ فارسی زبان کی ضرب المثل ہے۔
- مولوی ذکااللہ کو ریاضی کا مضمون بہت پسند تھا۔
- تمام قوائے عقلیہ کا دیوتا حافظہ کو کہا گیا ہے۔
- حافظہ تمام ملکاتِ نفسانی کا رئیس ہے۔
- بچوں کو جھوٹ کے علاوہ سرکشی پر سزا دینی چاہئیے۔
- وکلاء جھوٹ کی بنیاد پر مقدمات لڑتے ہیں۔
- نطق سے مراد بولنا ہے۔
- تمام قوائے عقلیہ کا دیوتا حافظہ کو افلاطون نے قرار دیا۔
سیدہ اُمِ شاکرہ کاظمی
لیکچرار اردو
فضائیہ انٹر کالج، ملیر۔