ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

آنگن( نیا)۔ناول۔خدیجہ مستور

تاریخ: September 6, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

تعارف ناول نگار

تعارفِ مصنفہ

خدیجہ مستور بریلی کے ایک پٹھان گھرانے  سے تعلق رکھتی تھیں۔آپ کو علمی اور ادبی ماحول ملا۔افسانہ نگاری سے آپ نے ادبی زندگی کا آغاز کیا۔اُن کی اصل شہرت آدم جی انعام یافتہ ناول“ آنگن“ کی وجہ سے ہوئی۔یہ ناول اس عہد کی سماجی معاشی ناہمواری کی ایک مکمل اور سچی تصویر پیش کرتا ہے۔خدیجہ نے اپنی کہانیوں میں ذیادہ تر عورتوں کے مسائل کو پیش کیا ہے۔ان کا انداز تحریر  بہت سادہ و دلکش ہے۔

تصانیف: آنگن، زمین، بوچھاڑ، چند روز اور۔ تھکے ہارے، ٹھنڈا میٹھا پانی وغیرہ۔

ناول کی کہانی

ناول ّ آنگنٗ آدم جی ادبی ایوارڈ یافتہ ناول ہے۔ یہ ایک سیاسی ناول ہے۔لیکن اس میں سیاست کو براہِ راست پیش نہیں کیا گیا۔بلکہ افراد کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے اثرات و عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ ناول تحریکِ پاکستان سے قیامِ پاکستان  تک کے زمانے پر محیط ہے۔اس کا مرکزی کردار عالیہ ہے جس کے ذریعے ناول کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔چھمی عالیہ کی چچا زاد بہن ہے۔ماں کی موت کے بعد اس کے باپ نے دوسری شادی کرلی اور اس کو بڑے بھائی کے گھر چھوڑ گئے۔بڑے چچا کٹر کانگریسی  ہیں  جبکہ جمیل بھیا پکے مسلم لیگی ہیں ۔ گھر میں اسی وجہ سے تناۂ ہے۔عالیہ کی ماں انگریز نواز ہے۔بڑی چچی گھر کے خراب معاشی حالات اور بیٹے  کی جدائی  کی وجہ سے پریشان ہیں۔کریمن  بوا عہدِ رفتہ کا ایک وفادار کردار ہے۔

نئے الفاظ کے معنی

  • آویزش۔ لڑائی
  • بے نقط سنانا۔ گالیاں دینا
  • ناس جانا۔ غارت ہونا
  • بے ہنگم۔ بے سلیقہ
  • دھتیا راج۔دھوتی پہننے والے ہندووں کی حکمرانی
  • کھپت۔گنجائش
  • سوانگ رچانا۔بھیس بدلنا
  • کواڑ۔دروازے کا ایک پٹ
  • کوفت۔ الجھن
  • محیط۔ پھیلا ہواناول کی کہانی

    خدیجہ مستور اردو ادب میں افسانہ نگار اور ناول نگار کی حیثیت ہیں۔ان کا ناول آنگن ّّ آدم جی ادبی انعام یافتہ ناولٗٗ ہے

    اس ناول میں براہِ راست سیاست کو پیش نہیں کیا گیا۔بلکہ سیاست کا افراد کی زندگیوں پراثر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول تحریکِ پاکستان  سے قیامِ پاکستان تک کے زمانے پر محیط ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار ّّ عالیہٗٗ ہے۔عالیہ کی زبانی ہی ناول کی کہانی آگے چلتی ہے۔ یہ یو پی کا ایک گھرانہ ہے۔

    باپ کی قید اور موت کے بعد عالیہ اپنی ماں کے ساتھ بڑے چچا کے پاس اپنے آبائی گھر میں آجاتی ہے۔

     چھمی اس کی چچا زاد ہے ۔چھوٹے چچا اس کو بڑے چچا کے گھر چھوڑ کر دوسری شادی کرکے چلے گئے۔وہاں سے کچھ خرچہ بھیج  دیتے ہیں۔ چھمی شوخ و چنچل اور شریر لڑکی ہے۔ عالیہ اور کبھی چچا  کو تنگ کرتی ہے۔ مسلم لیگی بن کرجلوس نکالتی ہے۔بڑے چچا  ایک جگہ  چھمی کی شادی طے کردیتے ہیں۔چھمی ہنگامہ نہ کردے اس ڈر سے اس  کو نہیں بتاتے،لیکن گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔

    اس گھرانے کا ہر فرد سیاسی اختلاف رکھتا ہے۔

    عالیہ کی امی انگریزوں کی طرفدار ہیں اور اپنی انگریز بھابھی سے بہت مرعوب ہیں۔

    نجمہ پھوپھی انگریزی میں ایم اے تھیں اور مغرور تھیں۔سب کو حقارت کی نظر سے دیکھتی تھیں۔

     بڑے چچا کٹر کانگریسی ہیں۔جمیل بھیا بڑے چچا کے بیٹے تھے اور پکے مسلم لیگی تھے،اسی وجہ سے گھر میں کھینچا تانی کا ماحول تھا۔ شکیل چھوٹا بیٹا تھا  جو گھر چھوڑ کر بھاگ گیاتھا۔

    چچی کو سیاست سے کوئی سروکار نہیں۔بس وہ یہ چاہتی ہیں کہ گھر کے حالات اچھے رہیں۔

    کریمن بوا عہدِ رفتہ کا کردار ہے۔

    اہم سوالات کے جوابات

    1۔عالیہ اپنی چچا زاد بہن چھمی کے جہیز کے کپڑے سی رہی تھی۔کچھ دنوں بعد اس کی شادی ہونے والی تھی۔بڑی چچی نے شادی کے پانچ جوڑے عالیہ کو سینے کے لئے دے رکھے تھے۔

    2۔ بڑے چچا کو دیکھ کر چھمی کو پاکستان کا خیال ستانے لگتا۔کیونکہ وہ پکے کانگریسی تھے اور پاکستان بننے کے حق میں نہ تھے۔ چھمی نے اپنی شوخ و چنچل فطرت کی وجہ سے ان کو تنگ کرنے کا موقع تلاش کرتی رہتی تھی۔اور پاکستان کے حق میں جلوس نکالتی تھی۔کیونکہ وہ پاکستان بننے کے حق میں تھی

    اہم خالی جگہیں

    • آنگن سبق کے لحاظ سے ناول تھی۔
    • ہندوستان پہلے حکومت کرنا تو سیکھ لیں۔یہ جملہ اماں نے کہا۔
    • شکیل بڑی چچی کا بیٹا تھا۔
    • عالیہ چھمی کے جہیز کے کپڑے سی رہی تھی۔
    • چھمی عالیہ کی چچا زاد تھی۔
    • اماں ذہنی طور پر انگریز کے ساتھ تھیں۔
    • سوانگ رچانا سے مراد فریب دینا ہے۔
    • آنگن کا مرکزی کردار عالیہ ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *