مغلیہ سلطنت کا بانی،عظیم فاتح،ظہیرالدین بابر
تعارف مصنف محمد حسین آزاد
- نام محمد حسین اور آزادؔ تخلص تھا۔
- شمس العلمأ خطاب تھا۔
- آپ معروف صحافی، ادیب اور عالم تھے۔
- سر سید کے ساتھی اور عناصر خمسہ کے اہم رکن تھے۔
- گورنمنٹ کالج لاہور میں عربی اور فارسی کے استاد مقرر ہوئے۔
- محمد ابراہیم ذوقؔ سے شاعری میں اصلاح لی۔
- بے شمار علمی و ادبی کارنامے سرانجام دیئے۔
- مشہور تصانیف: قصص الہند، سخندانِ فارس، آبِ حیات، نیرنگِ خیال، لغتِ آزاد وغیرہ ۔
سبق کے اہم نکات
- ظہیرالدین بابر نے ہندوستان پر پانچ بار چڑھائی کی۔
- پانی پت کے میدان میں بابر کی جنگ ابراہیم لودھی سے ہوئی۔
- بابر نے مغلیہ سلطنت کی بنیاد ڈالی۔
- ابراہیم لودھی ایک لاکھ فوج اور ایک ہزار جنگی ہاتھی لے کر میدان میں اترا۔
- بابر کی فوج میں بارہ ہزار جاں باز تھے۔
- بابر کےولی عہد ہمایوں نےآگرہ آ کر شاہی قلعے پر قبضہ کیا۔
- ابراہیم لودھی کی بوڑھی ماں نے ہمایوں کو کوہِ نور ہیرا پیش کیا اور جان بخشنے کی درخواست کی۔ہمایوں نے ان کے عزت و احترام کو برقرار رکھا۔
- بابر نے سلطنت کے انتظامات کو درست کیا۔
- اودے پور کے رانا نے بہت سے مسلمان اور ہندو سرداروں کو ملا کر ایک لاکھ کی فوج تیارکی تاکہ وہ بابر کو ہندوستان سے نکال دیں۔
- بابر نے اس جنگ کے لئے خاص تدابیر لیں،اپنی فوج کا حوصلہ بڑھایااور منت مان کر شراب سے توبہ کی ، فتح یاب ہوا۔
- ہمایوں سخت بیمار ہوا تو تین بار اس کے گرد پھرا اورکہا ’’ الہٰی! اس کی بلا میں نے اپنی جان پر لےلی‘‘۔وفات پائی۔
- جہانگیر نے اس کا شاندار مقبرہ بنوایا۔
(مرتب کنندہ : شاکرہ کاظمی )