غزلیات ِ غالب ؔ
تعارف غالبؔ
- اٹھارویں صدی کے یہ آفاقی شاعر آگرہ میں پیدا ہوئے۔
- اصل نام اسداللہ خان اور لقب مرزا نوشہ تھا۔
- شاہی دربار سےنجم الدولہ، دبیرالملک اور نظام جنگ کا خطاب عطا ہوا۔
- پہلے اسدؔ تخلص کرتے تھے، بعد میں غالبؔ ہوگئے۔
- آپ کا خاندان ایران سے اور سلسلہ نسب بادشاہوں سے ملتا ہے۔
- آپ کے دادا شاہ عالم کے زمانے میں دہلی آئےاور جاگیر پائی۔جو چھین گئی۔
- والد سپاہی تھے جو جنگ میں مارے گئے۔چچا نے غالبؔ کی پرورش کی۔
- ساری زندگی گردشِ ایام سے بنرد آزما ہوتے رہے۔
- شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔پہلے فارسی اور پھر اردو میں شعر کہنے لگے۔
- ان کی شاعری جدتِ بیان، اچھوتے مضامین،دشوار پسندی، ایجازواختصار،فلسفیانہ نکات اور انسانی نفسیات کی ترجمان ہے۔
- فارسی اور اردو کے دیوان ان کی یادگار ہیں۔ان کے دیوان کو ہندوستان کی الہامی کتاب کہا جاتا ہے۔
- آپ کے خطوط اردونثر میں سرمایہ ہیں۔
- ۱۸۶۹ میں دہلی میں وفات پائی،وہیں جامع مسجد کےنزدیک انکا مزار ہے۔
۱ ؎ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی ا نتظار ہوتا
حلِ لغت: وصالِ یار۔محبوب کا انتظار
مٖفہوم: ہماری قسمت میں محبوب کا وصال ہی نہیں تھا۔اچھا ہوا کہ ہمیں موت آگئی۔اگر اور زندگی ہوتی تو وہ بھی انتظار ہی میں گزرتی۔
وضاحت: ہماری قسمت میں محبوب سے ملاقات ہی نہیں ہے۔یہ خوش بختی ہمارے مقدر ہی میں نہیں ہے۔ ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہاگر ایک اور زندگی عطا ہو بھی جائے ؛ تب بھی انتظار ہی ہمارا مقدر ہے۔انتظار کی کوفت سے تو موت بہتر ہے۔اس طرح اس اذیت سے تو نجات ملے گی۔گویا موت نے میری لاج رکھ لی؛ ورنہ میں انتظار میں تڑپتا ہی رہتا۔
مماثل شعر: ؎ عشق وہ کھیل نہیں ہے جسے بچے کھیلیں جاں نکل جاتی ہے صدمات کو سہتے سہتے
محاسنِ شعر : مرکبِ اضافی ( وصالِ یار)
۲۔ ؎ ترے وعدے پر جئے ہم۔۔۔۔۔
مفہوم: تری ملاقات کے وعدے کے باوجود جو ہم زندہ ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہمیں ترے وعدوں پہ اعتبار نہیں رہا؛ اگر اعتبار ہوتا تو ماے خوشی کے ہم مر ہی جاتے۔
مماثل شعر: ؎ میں ان کے وعدۂ فردا کا ہو گیا ہوں اسیر یقیں نہیں تھا مگر اعتبار کرتا رہا
۳ ۔ ؎ تری نازکی سے جانا کہ۔۔۔۔
مفہوم: تیرے نخروں سے میں تیرے دل کا حال سمجھ چکا ہوں کہ جھوٹا وعدہ ہے؛ کیونکہ سشے دل سے کیا ہوا عہد توڑنا ناممکن ہے۔
مماثل شعر: ؎ مرے محبوب نے وعدہ کیا ہے پانچویں دن کا کسی سے سن لیا ہوگا کہ دنیا چار دن کی ہے
۴ ۔ ؎ کوئی میرے دل سے پوچھے۔۔۔۔۔
مفہوم: تیرا مدہوش نگاہوں سے میری جانب دیکھنا مجھے گھائل کر رہا ہے۔
مماثل شعر: ؎ دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی دونوں کو اک جھلک میں رضامند کرگئی
محاسن: مرکب اضافی ( تیرِ نیم کش )
َ۵ ؎ یہ کہاں کی دوستی ہے۔۔۔۔۔
مفہوم: دوست نصیحت کرنے والا نہیں بلکہ مشورہ دینے اور ہمدردی کرنے والا ہونا چاہئیے۔
مماثل شعر: ؎ محبت کو سمجھنا ہے تو ناصح خود محبت کر کنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہو
۶۔ ؎ رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ۔۔۔۔
مفہوم: اگر پتھر میں چنگاری کی جگہ غم ِ عشق ہوتا تو پتھر سے بھی خون جاری ہو جاتا۔
مماثل شعر: ؎ دل کا سکون لٹ گیا،روح کا چین چھن گیا یعنی مرض یہ لادوا کرگیا دل کو بے قرار
محا سن : صنعت تعلیل، مرکبِ اضافی( رگِ سنگ)
۷ ۔ ؎ غم اگرچہ جاں گسل ہے۔۔۔۔
مفہو م : دل کا مقدر غم ہے جو جان گھلا دیتا ہے ؛چاہے وہ عشق کا ہو یا روزگار کا۔
مماثل شعر: ؎ غم ہائے روزگار سے فرصت جو مل سکی سوچوں گا میں بھی فرق گناہ و ثواب کا
محا سن : مرکبِ اضافی( غمِ عشق، غمِ روزگار)
۸ ۔ ؎ کہوں کس سے میں کہ کیا ہے۔۔۔۔
مفہو م : شبِ غم موت سے بڑی مصیبت ہے۔موت تو ایک بار آتی ہے؛ مگر یہ بار بار آتی ہے۔
مماثل شعر: ؎ مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
محا سن : سہلِ ممتنع،بیان کی صفائی مرکب اضافی( شبِ غم)
۹۔ ؎ ہوئے مر کے ہم جو رسوا۔۔۔۔
مفہو م : مر کے رسوا ہونے سے بہتر تھا کہ ہم دریا میں غرق ہوجاتے۔اس طرح ہمارا پردہ رہ جاتا۔
مماثل شعر : ؎ مری لحد کو مٹانے لگے وہ یہ کہہ کے مٹے ہوئے ہیں جو ان کا نشان کیا ہوگا
محا سن : مرکب اضافی(غرقِ دریا)
۱۰۔ ؎ اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ۔۔۔۔۔
مفہوم: ا للہ وحدہُ لاشریک ہے۔
مماثل شعر: ؎ لاکھ پردوں میں تو ہے بے پردہ سو نشانوں میں بے نشاں تو ہے
محا سن : نظریہ وحدت الوجود
۱۱ ۔ ؎ یہ مسائلِ تصوف یہ تیرا بیان غالبؔ ۔۔۔۔
مفہوم: میں روحانیت اور تصوف کے مسائل کا حل بہت بہتر بتا سکتا ہوں۔اگر شراب نوشی نہ کرتا تو لوگ ولی سمجھتے۔
مماثل شعر: ؎ نکل جاتی ہے سچی بات جس کے منہ سے مستی میں فقیہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا
محا سن : مرکبِ اضافی (مسائلِ تصوف)
(تیار کردہ: شاکرہ کاظمی)