قافیہ:
یہ لفظ ‘قفو’ سے ہے۔جس کے معنی پیروی کرنے اور پیچھے آنے والے کے ہیں۔اردو شاعری میں قافیہ ایسے الفاظ کو کہتے ہیں جو اشعار میں ردیف سے پہلے بار بار آتے ہیں اور ہم آواز ہوتے ہیں۔انھیں ‘ہم قافیہ الفاظ ‘ کہا جاتا ہے۔مثلاً:
- ہم قافیہ الفاظ :
- عام: آم، نام، جام، کام ، گام، لام، تام
- آنا: جانا، کھانا، لانا، پانا، دانا، کانا، گانا، نانا
- سہارا: سنوارا، دھارا، ستارا، اُتارا، اُبھارا، نظارا
- خبر: اَبر ، جبر ، صبر ، قبر
- نعمت : رحمت، برکت، عظمت
- کھلانا : پلانا، سلانا، دھلانا، جھلانا
- دُعا: ہوا، جوا،
- سدا: ادا، گدا، صدا، لدا
- آن: شان ، بُرہان ، نان، جان، کان، مان
- مالی: خالی ، جالی ، لالی، تھالی ، ٹالی
- ہم : کم، نم، جم، بم
- جاں : مکاں، اذاں، نہاں
- بڑھا: چڑھا، پڑ ھا، کڑھا ، گڑھا
- باجا: راجا، آجا، کھا جا
- پہلا : نہلا، دہلا، شہلا، ٹہلا
- پھڑکنا:دھڑکنا، کھڑکنا، جھڑکنا، لڑھکنا
- غالباً : نسبتاً ، قدرتاً ، فطرتاً ، دفعتاً