ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

مضمون نویسی

تاریخ: August 29, 2026 مصنف: shakra زمرہ: درس و تدریس, قواعد, مضامین

قواعد۔     مضمون نویسی

تعارف

نثر میں مضمون نویسی کا اپنا مقام ہے۔ اس اہمیت کی بنیادی وجہ اس صنف کی وسعت ہے۔ دنیا کے کسی بھی موضوع پر طبع آزمائی کرتے ہوئے مضمون تحریر کیا جا سکتا ہے۔

اردو زبان میں مضمون نگاری کی باقاعدہ ابتدا سر سید احمد خان سے ہوئی۔انہوں نے اس فن کو کمال تک پہنچایا۔اپنے رسالہ ” تہذیب الاخلاق ” میں مذہبی ، سیاسی ، ادبی ، علمی ، معاشرتی ، تاریخی ، اور فکری موضوعات  پر بکثرت مضامین لکھے۔

تعریف

 کسی متعین موضوع پر اپنے خیالات اور جذبات و احساسات کا تحریری اظہار مضمون کہلاتا ہے۔

مضمون نویسی کے لئے موضوع کی کوئی قید نہیں۔اِس میں ہر نوع کے مسائل پر اظہارِ خیال کیا جا سکتا ہے۔خواہ وہ تاریخی ہوں یا جغرافیائی ، دینی ہوں یا دنیاوی ، تہذیبی ہوں یا ثقافتی ، ادبی ہوں یا لسّانی ، معاشی ہوں یا معاشرتی ، علمی ہوں یا تکنیکی ، تنقیدی ہوں یا تحقیقی  ؛ ہر موضوع پر مضمون تحریر کیا جا سکتا ہے ۔

عناصر

مضمون نگاری میں بالعموم ایک خاص ترتیب کا التزام کیا جاتا ہے۔ مضمون خواہ کسی بھی موضوع پر ہو  ، فنّی لحاظ سے اس کے تین درجے ہیں ۔

                                                 1۔       تمہید                     2۔ نفسِ  مضمو        ن                        3 ۔ اختتامیہ

 

1۔تمہید:

یہ مضمون کا ابتدئی حصہ ہوتا ہے ۔ جو مختصر ، جامع اور دلچسپ ہونا چاہیئے ۔ یہ تعارف اتنا دل پذیر ہونا چاہیئے کہ قاری مضمون پڑھنے کی جانب  راغب ہو جائے۔

2۔ نفسِ مضمون :

 یہ مضمون کی اصل روح ہے ۔ اس  میں موضوع کے مواد کو ترتیب اور تسلسل سے عمدہ طور پر  پیش کیا جانا چاہیئے۔ غیر ضروری بات اور ایک ہی بات کو بار بار دہرانے سے گریز کرنا چاہیئے۔الفاظ ، محاورے اور اصطلاحات  کا انتخاب درست  اور برجستہ ہو ۔

3۔ اختتامیہ :

 یہ مضمون کا آخری حصّہ ہے جو تمہید کی طرح مختصر ، جامع اور مکمل  ہو کہ بنیادی نکات واضح ہو جائیں ۔ 

رہنمائی کے لئے چند نکات

  • مضمون لکھنے کے بارے میں دی گئی ہدایات کو غور سے پڑھیں۔
  • وہ عنوان منتخب کریں جس سے متعلق آپ کے پاس وسیع معلومات ہوں اور آپ کو اعتماد ہو کہ اس موضوع پر آپ بہت اچھا لکھ سکیں گے۔
  • موضوع پر خوب غور کرکے مواد کو ذہن میں اکٹھا کر لیں۔متعلقہ نکات کو لکھ کر ان کا خاکہ تیار کرلیں ۔
  • مضمون قلم بند کرتے وقت ترتیب و تسلسل کا خیال رکھیں ۔
  • اپنی بات کو دہرانے سے گریز کریں ۔
  • غیر متعلقہ تفصیل شامل نہ کریں ۔
  • زبان آسان ، سادہ اور چھوٹے جملے لکھیں ۔
  • مشکل الفاظ اور طویل واقعات سے گریز کریں۔
  • مضمون ہمیشہ پیراگراف بنا کر لکھئے۔ہر پیراگراف میں صرف ایک نکتے پر بحث ہونی چاہیئے۔تاہم ان پیروں کا باہم مربوط و ہم آہنگ ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔
  • بحث کا آغاز کسی شعر یا مقولہ سے کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اس سے مضمون کی دلکشی دوچند ہوجاتی ہے،
  • موقع محل کی مناسبت سے اشعار ، اقوال اور ضرب الا مثال بھی استعمال کی جانی چاہیئں  جو درست ہوں ۔
  • املا ، قواعد اور صرف و نحو کی درستی کا خیال رکھیں ۔
  • ذخیرۂ الفاظ اور معلومات ِ عامہ کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔
  • الفاظ جاندار اور اندازِ بیان دلکش ہونا چاہیئے۔
  • آخری پیرا میں تمام بحث کا خلاصہ یا نچوڑ نہایت جامع انداز میں لکھ کر اپنی رائے دینی چاہیئے۔
  • مضمون مکمل کرنے کے بعد نظرِ ثانی کریں اور غلطیوں کی اصلاح کریں۔

ہدایات

  • معلومات میں اضافے کے لئے مطالعہ اور مشاہدہ پر توجہ دیں۔
  • اخبارات و رسائل کا باقاعدگی سے مطالعہ کریں ۔
  • مؤثر اظہارِ خیال کے لئے مشق کیجئے۔
  • ذخیرۂ الفاظ اور معلومات میں اضافے کی کوشش کریں اور کتابیں پڑھیں۔

اہم عنوانات

  • احترامِ والدین
  • حقوقِ نسواں
  • نظم و ضبط کی اہمیت
  • کفایت شعاری
  • امتحان میں نقل کا بڑھتا ہوا رجحان
  • پسندیدہ شاعر / مصنف
  • وقت کی پابندی
  • ماحولیاتی آلودگی
  • شجر کاری
  • رشوت ستانی کے نقصانات
  • اتحاد کی برکتیں
  • خود انحصاری
  • بے محنتِ پیہم کوئی جوہر نہیں کھُلتا
  • سگریٹ نوشی/ منشیات کے نقصانات
  • قومی زبان –اردو- کی اہمیت
  • دورِ حاضر میں طلبہ کی ذمہ داریاں
  • رزقِ حلال ہی باعث ِ سکون ہے
  • سیاست اور دین کا تعلق
  • اساتذہ کا احترام
  • پڑوسیوں کے حقوق
  • مخلوط تعلیم
  • سب سے پہلے پاکستان
  • کھیلوں کی اہمیت
  • چھوٹوں کی رہنمائی بڑوں کا فرض—-وغیرہ

1۔سیر و سیاحت کا شوق:

  • نئے تفریحی و تاریخی مقامات دیکھنے کا موقع
  • نئے لوگوں سے ملنا، نئی زبانیں جاننا
  • معلومات میں اضافہ
  • ذہنی تھکن اور پریشانیوں سے نجات
  • منصوبہ بندی اور تیاری

 

   2 ۔سماجی بہبود اور ہمارے فرائض:

  • محلے داروں/ پڑوسیوں کا خیال رکھنا
  • پس ماند گان کی بہتری کے لئے کوشش
  • حقوق العباد کی اہمیت
  • ساتھیوں میں آگہی پیدا کرنا
  • کچھ مشہور سماجی ادارے اور کارکن

3۔مذہبی تہوار:

  • مذہبی ، تاریخی اور ثقافتی پسِ منظر
  • تفریح اور خوشی کا موقع
  • لوگوں کا آپس میں ملنا جلنا
  • روایات
  • مختلف طریقوں سے منانا
  • لذیذ پکوا ن

 

 

4۔ہمارے عام ہسپتال :

  • مالی وسائل کی کمی
  • غیر معیاری ادویات
  • حفظانِ صحت کے اصولوں سے لا علمی
  • بے اصول اور نا اہل لوگوں کی گرفت
  • سرکاری لا پروائی اور عدم دل چسپی
  • عام آدمی اور غریب کے لئے مشکلات

( مرتب کنندہ : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *