ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

گرامر کی اہم خالی جگہیں

تاریخ: August 29, 2026 مصنف: shakra زمرہ: درس و تدریس, قواعد

گرامر کی اہم خالی جگہیں

 

  1. ایسا جملہ جو مبتدا ، خبر اور فعل ناقص سے مل کر بنے  جملہ اسمیہ  کہلا تا ہے ۔
  2. ”ماں کہتی ہے ، میرا چاند آیا ” ۔ علم بیان کی رُو سے اس جملے میں ‘ چا ند ‘ استعارہ ہے ۔
  3. قواعد کی رُو سے ” میرا بھائی ” مرکب ناقص ہے ۔
  4. ” میں پاکستان میں رہتا ہوں ۔” یہ جملہ علم بیان کی رُو سے مجاز مرسل ہے ۔
  5. ناول کی کہانی کی بنیاد حقیقی زندگی پر ہوتی ہے ۔
  6. ایک چیز کو کسی خاص وصف کی وجہ سے دوسری چیز کے مانند قرار دینا تشبیہ کہلاتا ہے ۔
  7. غزل یا قصیدے کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں ۔
  8. قواعد کی رُو سے ” اجڑے دیار ” استعارہ ہے ۔
  9. شعر کے آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ کو قافیہ کہتے ہیں۔
  10. شعر کے آخر میں قافیے کے بعدآنے والے وہ الفاظ جو بار بار دہرائے جائیں ، انہیں  ردیف کہتے ہیں ۔
  11. ” وہ جائے ” فعل مضارع ہے ۔
  12. ایسے الفاظ جن کے دو مفہوم ہوں ذو معنی الفاظ کہلاتے ہیں ۔
  13. ایسی کہانی جس میں زندگی کے کسی ایک پہلو یا کردار کو اختصار سے بیان  کیا جاتا ہے ؛ افسانہ کہلاتا ہے ۔
  14. وہ خط جو کسی صاحب اختیار کو اپنےحالات و مسائل سے آگاہ کرنے کے لئے لکھے جاتے ہیں رسمی خط کہلاتے ہیں ۔
  15. ” غم کھانا ” قواعد کی رُو سے محاورہ ہے ۔
  16. غیر رسمی خط کو آدھی ملاقات بھی کہا جاتا ہے ۔
  17. ڈراما یونانی لفظ  ڈراؤ سے ماخوذ ہے ۔
  18. ڈراما کے معنی ہیں کچھ کر کے دکھانا ۔
  19. کسی ایک متعین موضوع پر بات چیت کو مکالمہ نویسی کہتے ہیں ۔
  20. اہلِ زبان کی عام بول چال کو روز مرہ  کہتے ہیں ۔
  21. ایسا جملہ جس میں مسند اور مسند الیہ دونوں اسم ہوں وہ جملہ اسمیہ کہلاتا ہے ۔
  22. ایسا جملہ جس میں مسند اور مسند الیہ دونوں فعل ہوں ، وہ جملہ فعلیہ کہلاتے ہیں ۔
  23. خط دو قسم کے ہوتے ہیں ، رسمی اور غیر رسمی ۔
  24. دو یا دو سے ذیادہ لفظوں کا ایسا مجموعہ جو پورا مفہوم ادا نہ کرے اور سننے والے پر اس کا مطلب واضح نہ ہو مرکب ناقص کہلاتا ہے۔
  25. دو یا دو سے ذیادہ لفظوں کا ایسا مجموعہ جو پورا مفہوم ادا کرے اور سننے والے پر اس کا مطلب اچھی طرح واضح ہو جائے مرکب تام  کہتے ہیں ۔
  26. مرکب تام کو جملہ بھی کہتے ہیں ۔
  27. جس نظم کے ہر بند میں ایک ہی مصرع بار بار دہرایا جائے اسے ٹیپ کا مصرع کہتے ہیں ۔
  28. غزل کا ہر شعر موضوع کے اعتبار سے مکمل  ہوتا ہے ۔
  29. غزل کا آخری شعر جس میں تخلص کا استعمال ہو ، اسے مقطع کہتے ہیں ۔
  30. مرکب کی دواقسام ہوتی ہیں ۔
  31. ردیف کے لغوی معنی پیچھے جانے والاہے۔
  32. استعارہ مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔
  33. حسن مطلع سے مراد غزل یا قصیدے کا دوسرا شعر ہے
  34. شعر یا عبارت میں کسی مشہور تاریخی واقعے یا شخصیت کی طرف اشارہ کرنا اصطلا حاً تلمیح کہلاتا ہے ۔
  35. مطلع کے دونوں مصرعوں میں قافیہ ہونا ضروری ہے ۔
  36. ” وہ لومڑی کی طرح چالاک ہے ۔” اس جملے میں لومڑی مشبہ بہ ہے ۔
  37. رابطۂ استوار قواعد کی رُو  سے مرکب اضافی ہے ۔
  38. غزل کے آخری شعر میں اگر شاعر اپنا تخلص  استعمال نہ کرے تو اسے غزل کا آخری شعر کہیں گے مقطع نہیں ۔
  39. علم بیان کی اصطلاح میں کسی چیز کے معنی عاریتاً یا مستعار لے کر اسے دوسری چیز کے لئے استعمال کرنا استعارہ کہلاتا ہے ۔
  40. ” علی شیر ہے ۔” اس جملے میں ” شیر ” قواعد کی رُو سے مستعار منہ ہے ۔
  41. جس غزل میں ردیف نہ ہو اسے غیر مردف غزل کہتے ہیں ۔
  42. مشتاق اور بیزار معنوی اعتبار سے ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔
  43. ” اپنے سفید بالوں کا خیال کرو ۔” اس جملے میں ‘ سفید بال ‘ قواعد کی رُو سے کنایہ ہے۔
  44. قرض کی لین دین میں رسیدلکھی جاتی ہے۔
  45. ” دو گز زمین ” قواعد کی رُو سے کنایہ ہے۔
  46. ” فصل ِ خزاں ” قواعد کی رُو سے مرکب اضافی ہے۔
  47. ” کی طرح ” حرف ِ تشبیہ ہے ۔
  48. مسند اسم اور فعل ہو سکتا ہے ، لیکن مسند الیہ ہمیشہ اسم ہوتا ہے ۔
  49. لفظ ‘ مضمون ‘ اپنی اصل کے اعتبار سے عربی زبان کا لفظ ہے۔
  50. ” کمرہ کیا ہے آئینہ ” علم بیان کی رُو سے مجاز مرسل ہے۔

(تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *