گرامر کی اہم خالی جگہیں
- ایسا جملہ جو مبتدا ، خبر اور فعل ناقص سے مل کر بنے جملہ اسمیہ کہلا تا ہے ۔
- ”ماں کہتی ہے ، میرا چاند آیا ” ۔ علم بیان کی رُو سے اس جملے میں ‘ چا ند ‘ استعارہ ہے ۔
- قواعد کی رُو سے ” میرا بھائی ” مرکب ناقص ہے ۔
- ” میں پاکستان میں رہتا ہوں ۔” یہ جملہ علم بیان کی رُو سے مجاز مرسل ہے ۔
- ناول کی کہانی کی بنیاد حقیقی زندگی پر ہوتی ہے ۔
- ایک چیز کو کسی خاص وصف کی وجہ سے دوسری چیز کے مانند قرار دینا تشبیہ کہلاتا ہے ۔
- غزل یا قصیدے کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں ۔
- قواعد کی رُو سے ” اجڑے دیار ” استعارہ ہے ۔
- شعر کے آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ کو قافیہ کہتے ہیں۔
- شعر کے آخر میں قافیے کے بعدآنے والے وہ الفاظ جو بار بار دہرائے جائیں ، انہیں ردیف کہتے ہیں ۔
- ” وہ جائے ” فعل مضارع ہے ۔
- ایسے الفاظ جن کے دو مفہوم ہوں ذو معنی الفاظ کہلاتے ہیں ۔
- ایسی کہانی جس میں زندگی کے کسی ایک پہلو یا کردار کو اختصار سے بیان کیا جاتا ہے ؛ افسانہ کہلاتا ہے ۔
- وہ خط جو کسی صاحب اختیار کو اپنےحالات و مسائل سے آگاہ کرنے کے لئے لکھے جاتے ہیں رسمی خط کہلاتے ہیں ۔
- ” غم کھانا ” قواعد کی رُو سے محاورہ ہے ۔
- غیر رسمی خط کو آدھی ملاقات بھی کہا جاتا ہے ۔
- ڈراما یونانی لفظ ڈراؤ سے ماخوذ ہے ۔
- ڈراما کے معنی ہیں کچھ کر کے دکھانا ۔
- کسی ایک متعین موضوع پر بات چیت کو مکالمہ نویسی کہتے ہیں ۔
- اہلِ زبان کی عام بول چال کو روز مرہ کہتے ہیں ۔
- ایسا جملہ جس میں مسند اور مسند الیہ دونوں اسم ہوں وہ جملہ اسمیہ کہلاتا ہے ۔
- ایسا جملہ جس میں مسند اور مسند الیہ دونوں فعل ہوں ، وہ جملہ فعلیہ کہلاتے ہیں ۔
- خط دو قسم کے ہوتے ہیں ، رسمی اور غیر رسمی ۔
- دو یا دو سے ذیادہ لفظوں کا ایسا مجموعہ جو پورا مفہوم ادا نہ کرے اور سننے والے پر اس کا مطلب واضح نہ ہو مرکب ناقص کہلاتا ہے۔
- دو یا دو سے ذیادہ لفظوں کا ایسا مجموعہ جو پورا مفہوم ادا کرے اور سننے والے پر اس کا مطلب اچھی طرح واضح ہو جائے مرکب تام کہتے ہیں ۔
- مرکب تام کو جملہ بھی کہتے ہیں ۔
- جس نظم کے ہر بند میں ایک ہی مصرع بار بار دہرایا جائے اسے ٹیپ کا مصرع کہتے ہیں ۔
- غزل کا ہر شعر موضوع کے اعتبار سے مکمل ہوتا ہے ۔
- غزل کا آخری شعر جس میں تخلص کا استعمال ہو ، اسے مقطع کہتے ہیں ۔
- مرکب کی دواقسام ہوتی ہیں ۔
- ردیف کے لغوی معنی پیچھے جانے والاہے۔
- استعارہ مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔
- حسن مطلع سے مراد غزل یا قصیدے کا دوسرا شعر ہے
- شعر یا عبارت میں کسی مشہور تاریخی واقعے یا شخصیت کی طرف اشارہ کرنا اصطلا حاً تلمیح کہلاتا ہے ۔
- مطلع کے دونوں مصرعوں میں قافیہ ہونا ضروری ہے ۔
- ” وہ لومڑی کی طرح چالاک ہے ۔” اس جملے میں لومڑی مشبہ بہ ہے ۔
- رابطۂ استوار قواعد کی رُو سے مرکب اضافی ہے ۔
- غزل کے آخری شعر میں اگر شاعر اپنا تخلص استعمال نہ کرے تو اسے غزل کا آخری شعر کہیں گے مقطع نہیں ۔
- علم بیان کی اصطلاح میں کسی چیز کے معنی عاریتاً یا مستعار لے کر اسے دوسری چیز کے لئے استعمال کرنا استعارہ کہلاتا ہے ۔
- ” علی شیر ہے ۔” اس جملے میں ” شیر ” قواعد کی رُو سے مستعار منہ ہے ۔
- جس غزل میں ردیف نہ ہو اسے غیر مردف غزل کہتے ہیں ۔
- مشتاق اور بیزار معنوی اعتبار سے ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔
- ” اپنے سفید بالوں کا خیال کرو ۔” اس جملے میں ‘ سفید بال ‘ قواعد کی رُو سے کنایہ ہے۔
- قرض کی لین دین میں رسیدلکھی جاتی ہے۔
- ” دو گز زمین ” قواعد کی رُو سے کنایہ ہے۔
- ” فصل ِ خزاں ” قواعد کی رُو سے مرکب اضافی ہے۔
- ” کی طرح ” حرف ِ تشبیہ ہے ۔
- مسند اسم اور فعل ہو سکتا ہے ، لیکن مسند الیہ ہمیشہ اسم ہوتا ہے ۔
- لفظ ‘ مضمون ‘ اپنی اصل کے اعتبار سے عربی زبان کا لفظ ہے۔
- ” کمرہ کیا ہے آئینہ ” علم بیان کی رُو سے مجاز مرسل ہے۔
(تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭