ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

قواعد: رموزِ اوقاف

تاریخ: August 29, 2026 مصنف: shakra زمرہ: درس و تدریس, صرف و نحو, قواعد

رموز ِ اوقاف

تعریف

رموز رمز کی جمع ہے ۔جس کا مطلب ہے اشارہ کرنا ۔ جبکہ اوقاف وقف کی جمع ہے ۔ جس کا مطلب ہے ٹھہراؤ ۔

اردو میں وہ اشارے یا علا متیں جو کسی تحریر میں ایک جملے کو دوسرے جملے سے یا جملے کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے الگ  کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں  رموز اوقاف کہلاتی ہیں ۔

ختمہ ۔

اسے وقف ِ مطلق ، وقف ِ تام یا وقف ِ کامل بھی کہتے ہیں ۔ جبکہ انگریزی میں فُل اسٹاپ کہتے ہیں۔

بھر پور ٹھہراؤ یا  جملے کے مکمل اختتام پر یہ علامت لگائی جاتی ہے۔

مثال :

1۔ میں روزانہ فٹ بال کھیلتا ہوں ۔

2۔ نورین کل کوئٹہ سے آ رہی ہے۔

مخففات کے درمیان بھی اس علامت کو استعمال کیا جاتا ہے۔

جیسے : پی ۔ آئی ۔ اے

ایم۔ بی۔ بی۔ ایس

 

سکتہ ،  

اسے وقف ِ خفیف بھی کہتے ہیں ۔ انگریزی میں اسے کوما کہتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا اور مختصر وقفہ ہوتا ہے۔ اس علامت پر ہلکا سا توقف کر کے آگے بڑھ جانا ہوتا ہے۔یہ عبارت کی فصاحت کے لئے مفید ہے۔ یہ دو اسموں ، ضمیروں ، اوصاف ، اشیاءکے درمیان بھی لگاتے ہیں۔

مثال :

1۔ گندم ، چاول ، گنّا ، مکئی اور کپاس پاکستان کی اہم فصلیں ہیں ۔

2۔کراچی ، لاہور ، پشاور ، کوئٹہ ، اسلام آباد پاکستان کے مشہور شہر ہیں ۔

استفہامیہ/ سوالیہ ؟

اسے وقف ِ کامل یا علامت ِ استدلال بھی کہتے ہیں ۔ کسی سوالیہ جملے کے اختتام پر اس علامت کو لگایا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے ایک عام جملے اور سوالیہ جملے کے درمیان فرق واضع ہوجاتا ہے۔

مثال :

1۔ کیا آپ بازار جا رہے ہیں؟

2۔میری کتاب کہاں ہے ؟

3۔آپ کو کون سا پھل پسند ہے ؟

4۔ کیا تم میچ جیت گئے ؟

5۔آپ لاہور سے کب واپس آئیں گے ؟

وقفہ     ؛

اسے نصف وقف بھی کہا جاتا ہے ۔ جہاں سکتہ سے ذیادہ ٹھہراؤ کی ضرورت ہو  ، طویل جملے کے اجزاء کو علیحدہ کرنے اور زور دینے کے لئے   یا جب جملے کا ایک حصہ ختم ہو چکا ہو اور بات ابھی جاری ہو  ؛ وہاں یہ علامت استعمال کی جاتی ہے۔

مثال :

1۔لاہور پنجاب کا ؛ کراچی سندھ کا ؛ کوئٹہ بلوچستان کا اور پشاور خیبر پختونخواہ کا دارالخلافہ ہے ۔

2۔اسلم کو دوبئی گئے کتنے دن ہو گئے ؛ ایک مرتبہ بھی فون نہیں کیا ۔

رابطہ :

اسے وقف ِ لازم یا علامت ِ پیرا بھی کہتے ہیں ۔جب عبارت میں وقفہ سے ذیادہ ٹھہراؤ ظاہر کرنا مقصود ہو تب یہ علامت استعمال کی جاتی ہے ۔ یہ علامت قول لکھنے ، کہاوت ، ضرب المثل ِ حکایت ، مصنف کا نام  یا الفاظ معانی لکھنے کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔

مثال :

1۔ کسی دانا کا قول ہے : آج کا کام کل پر نہ ڈالو۔

2۔ مشہور کہاوت ہے : نا      نو من تیل ہوگا ، نا رادھا ناچے گی ۔

3۔ قائد اعظم نے فرمایا : کام ، کام اور صرف کام۔

 

 

 

تفصیلیہ :-

اِسے علامت ذیل بھی کہتے ہیں ۔ کسی بات کی تفصیل بتانے سے پہلے یہ علامت استعمال کی جاتی ہے ۔یہ درج ذیل ، حسب ذیل  جیسے الفاظ کے بعد لگائی جاتی ہے ۔

مثال

1۔ پاکستان کے بڑے شہر یہ ہیں :-

2۔ آج کے کاموں کی فہرست درج ذیل ہے :-

3۔پاکستانی اجناس کے نام یہ ہیں :-

4۔اسٹور کے سامان کی فہرست حسب ذیل ہے :-

واوین “ ”

اسے علامت ِ اقتباس بھی کہتے ہیں ۔ کسی جملے میں اگر کسی کا قول یا تحریر نقل کرنا ہو وہاں یہ علامت استعمال کی جاتی ہے۔

مثال

1۔                                        نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے  : “ دنیا آ خرت کی کھیتی ہے ۔ ”

2۔مشہور مقولہ ہے : “ خدا ا ُن کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں ۔ ”

3۔ قائد اعظم نے فرمایا : “ کام ، کام اور صرف کام ۔ ”

 

 

قوسین / خطوط وحدانی  (۔۔)

قوسین کو خطوط ِ وحدانی یا علا مت ِ ہلالی بھی کہتے ہیں ۔ اس علامت کے اندر عبارت کے وہ حصے لکھے جاتے ہیں جو جملۂ معترضہ کے طور پر آتے ہیں ۔اِن کا رواں مضمون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔یہ علامت عام طور پر ڈراموں یا مکالموں میں استعمال کی جاتی ہے ۔

مثال

1۔شاعرمشرق ( علامہ اقبال ) عظیم شاعر ہیں۔

2۔ مشتاق احمد یوسفی ( مشہور مزاح نگار ) کی نئی کتاب بازار میں آ گئی ہے۔

3۔ وکیل صاحب ( ہمارے پڑوسی) آج کل سکھر میں رہتے ہیں ۔

ندائیہ/ فجائیہ/استعجابیہ !

٭ اسے علامت ِ تعجب بھی کہتے ہیں ۔ جب کسی کو پکارنا ، اپنی جانب متوجہ کرنا یا بلانا ہو  ۔ اس وقت یہ علامت استعمال کی جاتی ہے۔اس وقت اسے ندائیہ کہتے ہیں۔جیسے :

اے لڑکو !  ،  بھائی جان ! ، میاں صاحب ! ، عزیز طلباء !

٭ جب عبارت میں کسی دکھ ، سکھ ، غصہ ، رنج ، خوشی ، نفرت ، خوف یا کسی جذبے کا اظہار کرنا ہو اس وقت بھی یہ علامت استعمال کی جاتی ہے۔ جیسے :

اُف  ! ، واہ ! ، آہ ! ، آخ چھی ! ،تھو ! آہا ! اونہہ !

٭ جب فقرات میں تمنّا ، دعا ، حیرت ، حسرت جیسی کیفیات کے اظہار کے لئے الفاظ استعمال کئے جائیں ۔تو ان کے سامنے بھی یہ علامت لگائی جاتی ہے ۔ تب اسے استعجابیہ کہتے ہیں ۔ جیسے

   اے خدایا ! ، اللہ اکبر ! ،      اوہ   ! ،   ہا ئیں !

خط / لکیر ــــــ

یہ علامت ِ قوسین ہی کی طرح استعمال ہوتی ہے۔یہ  کسی لفظ یا جملے کو عبارت سے جدا کرتی ہے ۔ یہ بھی جملۂ معترضہ کے طور پر آتی ہے۔

مثال

1۔ شاعر مشرق ـــــــعلامہ اقبالؔ ـــــــعظیم شاعر ہیں ۔

2۔ حاجی صاحب ــــــــ جو ہمارے پڑوسی تھے ــــــــکل رات رضائے الہٰی سے انتقال کر گئے۔

3۔کراچی ـــــــ  روشنیوں کا شہر ـــــــ سندھ کا دارالخلا فہ ہے ۔

4۔ طلحہ ــــــــ میرا بچپن کا دوست ـــــــ کل لاہور سے آ رہا ہے ۔

علامت ِ حذف —-

جب کسی عبارت کے کچھ الفاظ دانستہ طور پر نہ لکھنا ہوں ۔ وہاں اس علامت کو استعمال کیا جاتا ہے ۔

مثال

1۔سیاست دانوں کو محب ِ وطن ہونا چاہیئے۔ مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔

2۔ میں تو سب کو عزت دیتی ہوں مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو۔۔۔۔۔

3۔محمد حسین آزاد نے ولی دکنی کو شاعروں کا باوا آدم کہا ہے اور۔۔۔

4۔من اپنا پرانا پاپی ہے۔۔۔۔۔

 

علامت ِ حاشیہ

حاشیہ کسی متن میں موجود کسی لفظ کے معنی ، وضاحت یا تشریح  کو کہتے ہیں۔کتابوں یا رسالوں میں متن کے ایک طرف یا نیچے سادہ صفحہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس جگہ اصل متن کے کسی لفظ کے معنی یا وضاحت درج ہوتی ہے جو اصل عبارت کا حصہ نہیں بن سکتی۔تحقیقی و تنقیدی کام اور تصنیف و تالیف کے کام کے لئے حاشیہ نگاری ایک لازمی جزو ہے۔

مثال

1۔ میں نے ڈھوڈا ؎ کھایا۔

2۔ ڈاکٹر سپرنگر ؎ صاحب تخمینہ کرتے ہیں ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔ ڈھوڈا : سوھن حلوہ

2۔سپرنگر : دہلی کالج کے آسٹریلوی پرنسپل، یورپی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا

علامت ِ ترک

 

عبارت میں کسی لفظ کے چھوٹ جانے پر یہ علامت لگائی جاتی ہے ۔جب عبارت میں کوئی لفظ لکھنے سے رہ جائے تو یہ علامت لگا کر اوپر وہ لفظ لکھ دیا جاتا ہے۔

مثال :

                                                                                                                               نہیں

1       ۔میں    روز      روز        دعا   ئیں    /   مانگا کرتا۔

علامت ِ تخلص

اسے علامت ِ بیت بھی کہتے ہیں ۔وہ نام جو شعراء اپنے کلام میں استعمال کرتے ہیں ؛ اس پر یہ علامت کگائی جاتی ہے۔

مثال

1۔ یاد ہے سیر ِ چراغاں  ناصر ؔ

2۔زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ

3۔سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو

خط ِ فاصل

اسے علامت ِ تغیر بھی کہتے ہیں ۔اگر عبارت میں موجود کسی دو الفاظ میں سے ایک  لفظ کا انتخاب کرنا ہو تو اُن کے درمیان یہ علامت / لگا دی جاتی ہے۔ اس کا استعمال اکثر کسی درخواست یا فارم میں نظر آتا ہے۔

مثا ل

1۔ میں / ہم پکنک پر جاؤں گا  /جائیں گے۔

2۔ یہاں اپنے والد /شوہر کا نام لکھیں۔

3۔ میں پری انجینئر نگ /پری میڈیکل / جرنل سائنس کا طالب علم ہوں۔

علامت ِ مصرعہ

یہ علامت  عبارت میں کسی مصرعے کا حوالہ  دینے کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔ یعنی کہ پورا شعر نہ لکھا جائے ۔ اس کی جگہ شعر کا صرف ایک مصرع لکھا جائے ۔کچھ اشعار ایسے ہوتے ہیں جن کا صرف ایک مصرع ضرب المثل بن جاتا ہے  یا بہت مشہور ہو جاتا ہے تو پھر ان کا  ایک  ہی مصرع لکھا جاتا ہے  ۔وہاں یہ علامت لگائی جاتی ہے ۔

 ع ۔تند ر ستی  ہز ا ر  نعمت   ہے

              ع ۔کی  محمد ؐ  سے  و فا  تُو  نے  تو  ہم  تیرے  ہیں

علامت ِ شعر –      ؎

کسی عبارت میں کسی شعر کو لکھنے سے پہلے  اس علامت   کو استعمال کیا جاتا ہے ۔

؎      دیار ِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح شام پیدا کر

 

علامت ِ ۔۔۔الخ

یہ علامت الیٰ آخر کا مخفف ہے۔ اس میں عبارت کے کچھ الفاظ لکھ کر کچھ نقطے ڈالے جاتے ہیں اور پھر آخر میں الخ لکھ دیتے ہیں ۔اسے اکثر معلوم اقتباس یا شعر میں لکھا جاتا ہے۔

مثال

1۔ اگرچہ متوتر انقلابات ، تخت گاہوں کی بربادی۔۔۔۔۔۔۔الخ

2۔دل سے جو بات نکلتی ہے اثر۔۔۔۔۔الخ

علامت ِ صفحہ ؃؃

کسی عبارت صفحے کے حوالے  کے لئے یہ علامت استعمال ہوتی ہے۔

مثال

منشیات کے استعمال کے مضر اثرات کا پہلے ذکر ہو چکا ہے ؃14

مخففات ( مخفف)

وہ مختصر علامات جو اصل لفظ یا فقرے کی جگہ لگائی جائیں انہیں مخففات کہتے ہیں ۔

مثال

ﷺ کی جگہ        ۔ ؐ 

  رضی اللہ عنہا کی جگہ ۔

             رحمتہ  اللہ  کی جگہ ۔

قبل مسیح کے لئے ۔ ق م

ہجری کے لئے۔ ھ

عیسوی کے لئے ۔ ء

رموز اوقاف (ورک شیٹ)

  1. مجھے بریانی بہت پسند ہے ۔
  2. آنکھیں بڑی نعمت ہیں ۔
  3. آتش ، باد ، آب اور خاک  عناصر ہیں ،
  4. وۃ آئینہ دیکھ ، اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
  5. جو کرے گا سو پائے گا ؛ جو بوئے گا سو کاٹے گا ۔
  6. پاکستان کے بڑے بڑے دریا یہ ہیں :-
  7. تمہاری طبیعت کیسی ہے ؟
  8. مہمان ، میزبان  ، چھوٹے  ، بڑے ـــــــــ سب ملا کر کُل پندرہ افراد تھے۔
  9. سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو
  10. آج رحیم صاحب ( مرحوم ) کے صاحبزادے میرے پاس آئے تھے۔
  11. سقراط 470 ق م پیدا ہوا۔
  12. وہ خود کو میرا دوست کہتا ہے مگر۔۔۔۔۔۔
  13. میں اقرار کرتا / کرتی ہوں ۔
  14. اے اللہ ! ہم پر رحم فرما۔
  15. شیکسپئر کا قول ہے : دنیا ایک اسٹیج ہے۔
  16. دادا جان نے کہا ، “ شام سے پہلے گھر آجانا۔ ”
  17. بانگ ِ درا ، بال ِ جبریل ، ضرب ِ کلیم اور ارمغان ِ حجاز  علامہ اقباؔل کی کتابیں ہیں ۔
  18. حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے حکم سے مُردوں کو زندہ کر دیتے تھے۔

                                 ہدایت

  • ۔ اللہ پاک اُسے جلد / دے۔

(  مرتب کنندہ  : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *