ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

شہرت ِ عام اور بقائے دوام کا دربار محمد حسین آزاد

تعارف مصنف

محمد حسین آزاد 5 مئی 1830ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد محمد باقر ایک عالم اور مجتہد تھے،اور شمالی ہند کے پہلےاردو اخبار ‘ دہلی اردو اخبار ”کے مدیر تھے۔ ان کا اپنا پریس تھا۔یہ اردو کے پہلے شہید صحافی تھےانہیں مسٹر ٹیلر کے قتل کے الزام میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔کم عمری میں ہی والدہ اور پھوپھی کا بھی انتقال ہوگیا۔آزاد پر ان تمام صدموں کا گہرا اثر پڑا۔

آزاد ایک اہم انشاء پرداز ، ناقد ، شاعر  ، ماہر تعلیم ، اخبار نویس ، نثر نگار اور محقق  تھے۔ انہوں نے اردو زبان کی تاریخ ، نشو نما اور اصلیت زبان پر تحقیقی مقالے لکھے۔آپ کو جدید اردو نظم کا بانی اور مجدد بھی کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ عربی اور فارسی کے بہت بڑے عالم تھے۔سنسکرت اور ہندی زبان  و ادب کی خوبیوں سے بھی آشنا تھے۔آپ نے تمثیلی  اور تخیلی مضامین میں خوب کام کیا۔ آپ ایک ایسے طرز کے بانی تھے  جس کا خاتمہ انہی کے ساتھ ہوا۔ان کا شاہکار ‘ آب ِ حیات“اردو زبان کی پہلی تاریخی ، تحقیقی اور تنقیدی کتاب ہے۔آپ کے دیگر ادبی کارناموں  میں قصص الہند ، دربار ِ اکبری ، نیرنگ ِ خیال ،  دیوان ِ ذوقؔ ، سخندان ِ فارس ، نگارستان ِ فارس ، نظم ِ آزاد  ، درسی کتب وغیرہ۔آزاد کو ان کی ادبی خدمات کے صلے میں ‘ شمس العلماء ” کا خطاب ملا۔

اپنی بیوی اور بیٹی کے انتقال سے انہیں بہت صدمہ پہنچا اور وہ ذہنی توازن کھو بیٹھے

خلاصہ

“نیرنگ ِ خیال ”مولانا محمد حسین آزاد کے تمثیلی مضامین کا مجموعہ ہے۔1880 میں یہ دو حصوں میں شائع ہوا۔اس  میں آزاد نےانگریزی ادب سے بھرپور استفادہ کیاہے۔ جانسن ، ایڈیسن اور گی ڈبلیو لائٹنر کی مہیا کردہ معلومات اور مضمون نگاری کے نمونوں کی روشنی میں انہوں نےاپنے انشائیوں کو ڈھالا ۔

مولانا محمد حسین آزاد نےاس مضمون میں یہ بتایا ہے کہ انسان مرنے کے بعد بھی اس دنیا سے نہیں جاتا۔ اس یک تو اس کی روح مرنے کے بعد بھی رہ جاتی ہے ، دوسری عالم بقا کی یادگار جس کی بدولت لوگ نام کی عمر سے جیتے ہیں اور شہرت دوام کی عمر پاتے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے اچھے اور بڑے کام کئے خواہ وہ ثواب یا  ناموری  کے لئے کئے ہوں   ؛   وہ تاریخ  میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتے ہیں۔اس بات کو وہ ایک خواب کے تناظر میں بیان کرتے ہیں جہاں مشاہیر ، بادشاہ ،  جنگجو، دانشور  ،محقق، فلاسفر، علماء اور شعراء وغیرہ کا خوبصورت دربار  لگایا گیا ہے۔اس  میں ہر ایک کو اس کی حیثیت کے مطابق نشست عطا کی گئی ۔مصنف نے ان کے کارناموں کا ذکر بھی کیا ہے  جس کی وجہ سے وہ اس دربار میں مقام پانے میں کامیاب ہوئے۔ مگر  ساتھ ہی ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی جانب اشارہ بھی کیا ہے۔

اس مضمون میں آزاد نے قاری کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اچھے اور قابلِ فخر کام کرنے کی کوشش کرے  تاکہ اس کے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی لوگ اس کو یاد رکھیں  اور اللہ کے ہاں بھی اس کا اجر ملے۔  

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

1۔(اے ملکِ فنا کے رہنے والو ……..اپنے عہد کے باعث ِ فخر رہے۔)

٭محمد حسین آزاد اس پیراگراف میں دنیا والوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے ختم ہوجانے والی دنیا کے لوگو ! ۔گویا احساس دلا رہے ہیں کہ انسان اور یہ دنیا  دونوں فنا ہو جانے والی ہیں ؛ اس لئے ہر ایک کو اگلی دنیا کے بارے میں سوچنا اور اس کی تیاری کرنی چاہیئے ۔ انسانی جسم فنا ہو جائے گا لیکن روح قائم رہے گی اور اگلے جہان میں اکٹھی ہونگیں اور اپنے اعمال کے مطابق سزا و جزا کی مستحق ہونگیں۔اس بات کو آزاد ایک خواب کے ذریعے بیان کر رہے ہیں کہ جیسے ایک دربار لگا ہوا ہے اور تمام نامور ہستیاں بلائی اور حسبِ مراتب بٹھائی جا رہی ہیں۔اُن کے مرتبے کا تعین ان کے زندگی میں کارناموں کے حساب سے لگایا جا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس دربار میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے  باعزت اور محب وطن لوگ موجود ہیں جن میں بادشاہ، حکمران ، فوجی ، عالم ، کھلاڑی ، ادیب اور شاعر ، فلاسفر ، محقق وغیرہ۔ انہوں نے زندگی وطن کی خاطر قربان کردی اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ ایسے مصنف اور شاعر جنھوں نے کبھی جھوٹ نہ لکھا۔ایسے عقل مند اور ذھین لوگ  جو اپنے شعبوں کے ماہر اور کارنامے انجام دینے والے ، یہ اپنے ملک و قوم  کے لئے باعثِ عزت رہے ہیں ۔ایسے تمام شان والے لوگ اس دربار میں مقام پاتے ہیں ۔اگر ہم غور کریں تو ایسی بے شمار ہستیاں ہمیں  نظر آئیں گی؛ جیسے حضرت محمد ؐ ،امام حسینؑ ،  قائد اعظم ، عبدالستار ایدھی ، میجر عزیز بھٹی ، ڈاکٹر عبدالقادر ، علامہ اقباؔل ، جابر بن حیان ، سر سید احمد خان  اور حکیم محمد سعید و غیرہ ۔ 

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

2۔(بقائے دوام دو طرح کی ہے ……شہرتِ دوام کی عمر پاتے ہیں)

بقائے دوام : ہمیشہ کی زندگی

٭آزاد  ان سطور  میں بقائے دوام یعنی ہمیشہ کی زندگی  کی وضاحت کر رہے  ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیشہ کی زندگی دو طرح کی ہوتی ہے۔پہلی تو یہ کہ انسان اس دنیا میں محدود عمر لے کر آیا ہے۔اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے بعد وہ مر جاتا ہے۔ اس کی روح اس کا جسم چھوڑ کر باہر نکل جاتی ہے، روح کبھی فنا نہیں ہوتی مگر  اس کا جسم فنا ہو جاتا ہے۔ گویا روح کبھی نہیں مرتی۔

دوسری یہ کہ انسان اپنے کارناموں کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔ وہ  اپنی زندگی میں ایسے کارنامے یا اچھے کام کرتا ہے  جس سے عام لوگوں کی بھلائی ہوتی ہے ، علم و ادب میں ، تحقیق  میں ، میدانِ جنگ میں یا فتوحات کے میدان میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیتا ہے  تو تاریخ کی کتابوں میں ہمیشہ اس کا ذکر ملتا ہے ، آنے والی نسلیں اس کے بارے میں پڑھتی ہیں اور جانتی ہیں ۔اس طرح مر کر بھی وہ نہیں مرتا ، بلکہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ 

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

3۔(نامورانِ موصوف  کے حالات …….کچھ کام کر جائیں  تو کر جائیں )

ناموران  :مشہور لوگ ،  ہوا کھانے : سیر کرنے ، دل افروز : دل روشن کرنے والی ،  میدانِ خیال : سوچ ، محاسب ِفکر:حساب دان ،  گوشِ سحاب : بادل ، سر پھوڑ : بہت محنت سے ، سینہ توڑ : مشکل کام انجام دینا ، ناخنِ تدبیر : صلاحیت)

٭آزاد اپنے خواب کا حال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں سیر کرتے ہوئے ایک سوچ سے بھی  بہت بڑے میدان میں جا پہنچا۔ وہاں بے شمار لوگ لوگ جمع ہیں ۔ لوگ اس قدر ذیادہ ہیں کہ ان کو گننا  ناممکن تھا۔ یہ سب ضرورت مند لوگ تھے ،اپنی اپنی کامیابی کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔اُسی میدان میں ایک بلند و بالا پہاڑ تھا جس کی چوٹی بادلوں سے بھی اوپر تھی۔یہ پہاڑ ایسا سخت اور خطرناک تھا کہ اس پر چڑھنا تقریباً نا ممکن تھا۔ اگر کوئی بہترین ماہر ہوتا  اور کوئی خاص تدبیر اپناتا تو شاید یہ ممکن ہو پاتا۔

گویا مصنف یہ کہہ رہے ہیں کہ اس وسیع و عریض دنیا میں بے شمار خلقت موجود ہے  اور ہر انسان کی یہ خواہش ہے اُس کو کامیابی ملے۔یہ بلند و بالا پہاڑ ہی دراصل کامیابی کی بلندی ہے۔ہر انسان کی منزل الگ الگ ہے۔کوئی اقتدار کو اپنی منزل سمجھتا ہے ، کوئی دولت کو ، کسی کے نزدیک عزت معیار ہوتا ہے اور کوئی صرف مخلوقِ خدا کی خدمت کو اپنا نصب العین سمجھتا ہے۔منزلِ مقصود کوئی بھی ہو ؛ کامیابی حاصل کرنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے ۔ جزا و سزا اسی کی بنیاد پر ہے۔

 

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

4۔(یکایک قلّہ کوہ سے ایک شہنائی کی سی …….اس کے نغموں کا مذاق رکھتے تھے۔)

قلّہ کوہ : پہاڑ کی چوٹی ، زندہ دلی  : حوصلہ بڑھنا / خوشی ، وسعت : کشادہ ، رفعت : بلندی ، مرتبہ انسانیت سے بڑھ کر :ہمت سے بڑھ کر ،  قدم مارنا : کوشش کرنا ، انبوہِ کثیر : بہت ذیادہ لوگ

٭آزاد کہتے ہیں کہ لوگ میدان میں جمع تھے کہ اچانک پہاڑ کی چوٹی سے ایک بانسری جیسی مدھر آواز آنی شروع ہوجاتی ہے۔ سب اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ یہ آواز لوگوں کے دلوں میں جوش و جذبہ اور حوصلہ بڑھا رہی ہے۔ مشکلات اٹھا کر آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کر رہی ہے۔ لوگ اپنی ہمت سے ذیادہ کوشش کررہے ہیں ۔ لیکن حیرت کی با ت یہ ہے بہت کم لوگ ہیں جو اس موسیقی کی آواز کو سن رہے ہیں اور اس پیغام کو سمجھ رہے ہیں۔

ہر انسان اپنی زندگی کو پرسکون گزارنا چاہتا ہے ، وہ آسانی پسند کرتا ہے ۔جب کہ کامیابی محنت کرنے  اور مشقت اٹھانے والوں کا مقدر بنتی ہے۔بڑے ارادے کے حصول سے کامیابی ملتی ہے۔مصنف کہہ رہے ہیں کہ اس دنیا میں کئی لوگ آتے ہیں ، اپنی زندگی گزار کر گمنام ہی چلے جاتے ہیں۔کیونکہ وہ صرف اپنی ذات  کے لئے ہی جیتے رہے۔ان کی زندگی کا مقصد صرف اپنی ذات کو آسانیاں فراہم کرنا تھا۔اسی لئے وہ آسان راستوں پر ہی سفر کرتے رہے۔اگر مقصد بڑا  ہو تو اس کے لئے محنت بھی ذیادہ کرنی پڑتی ہے ۔اور جب کامیابی ملے تو خوشی بھی ہوتی ہے۔کوشش تو سب ہی کرتے ہیں مگر کامیابی کسی کسی کو ملتی ہے۔ کچھ لوگ یہی سوچ کر محنت سے جی چراتے ہیں۔اور اس طرف توجہ نہیں دیتے۔

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

5۔(دوسری طرف جو نظر جا پڑی………ہمت کے ہیٹے اور طبیعت کے پست ہیں )

اقوامِ مختلفہ : مختلف قوموں کے ، عہد ہائے متفرقہ : مختلف زمانوں کے ، عمر ہائے متفاوتہ : ہر عمر کے لوگ

٭ یہاں مصنف علامتی زبان استعمال کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ جب لوگ  کامیابی حاصل کرنے کےلئے محنت کرنے لگتے ہیں تو کئی چیزیں ان کے راستے  کی رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں ؛ ان کی توجہ بھٹکاتی ہیں ۔ تاکہ ان میں پھنس کر لوگ اپنے مقصد سے  محروم رہ جائیں۔ ان میں غفلت ، عیاشی ، خود پسندی ، لاپرواہی ، سستی ، کم ہمتی اور کم علمی وغیرہ شامل ہیں۔مصنف نے ان کے لئے  ‘خوبصورت عورتوں’ کی علامت استعمال کی ہے۔جنھوں نے پریوں جیسا لباس پہنا ہوا ہے یعنی بہت حسین لگ رہی ہیں۔ یہ جعلی پریاں در حقیقت انسان کو مقصد سے بھٹکانے والے عناصر ہیں۔لوگ ان میں مگن ہو کراپنے اصل  مقصد سے غافل ہوجاتے ہیں۔بسا اوقات کامیابی کے راستے میں آنے والی مشکلات سے بھی انسان گھبرا جاتا ہے اور جلد حوصلہ ہار دیتا ہے ۔ اس   میں ہر  قوم ، ہر زمانے اور ہر عمر کے لوگ شامل ہیں۔مصنف ان کو کم حوصلہ  ، کاہل اور سست کہتے ہیں۔

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

6۔(دوسری طرف دیکھا کہ جو بلند حوصلہ ، …….سب نے ایک ایک راہ پکڑ لی۔)

چیدہ اور برگزیدہ : خاص اور پسندیدہ ، بلندی کوہ: مراد کامیابی، نغمہ آسمانی: مراد اللہ کی طرف سے ، فرشتہ رحمت: مراد اللہ کی مدد

٭آزا دبیان کرتے ہیں کہ دوسری جانب بلند حوصلہ اور ہمت والے لوگ ان سے ا ن سے الگ ہوکر کامیابی کی جانب متوجہ ہوئے۔جیسے جیسے یہ اپنی منزل کے قریب ہوتے جارہے تھے ان کے اندر ولولہ بڑھ رہا تھا ۔ محنت کرنے والے اللہ کے پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں۔یہ لوگ اپنے مقصد کی مناسبت سے اپنے ساتھ سامانِ سفر جمع کئے ہوئے تھے۔ہر ایک کا سامان مختلف تھا۔ جنگجوؤں کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی ، حکمرانوں کے ہاتھ میں پرچم تھا ،شعراء اور ادیب کے ہاتھوں میں کاغذ اور پنسلیں تھں۔ ریاضی دانوں کے پاس کمپاس تھا ، سیاحوں کے پاس قطب نما اور دور بین تھی ، بادشاہوں کے سر پہ تاج سجا تھا ، سپاہی فوجی لباس میں ملبوس تھے۔ غرض ہر کسی کے پاس  اس کی منزل مراد کی مناسبت سے بھاری سامان موجود تھا ۔ جب انسان کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرے تو اللہ کی طرف سے بھی مدد آجاتی ہے ۔میں بھی گرمجوشی اور جذبے کے ساتھ اسی گروہ میں شامل تھا ۔ مصنف کا مشورہ ہے کہ جب انسان کامیابی کے رستے میں سفر کر رہا ہو تو اسے چاہیئے کہ نمود و نمائش نہ کرے بلکہ ایک طرح کی گمنامی کی زندگی گزارے ۔ خاموشی سے محنت کرتا چلا جائے ۔ اس کی کامیابی خود ہی شور مچا دے گی۔کامیابی حاصل کرنے کے لئے کئی دشوار گزار راستوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ بلنگ ہمت انسان ہی اس پر سفر کرتے ہیں۔ سب لوگ اپنے اپنے راستےپر چل پڑے۔میں بھی اپنے گروہ کے ساتھ شامل ہو کر سفر پر روانہ ہو گیا۔

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

7۔(مسافرجلد جلد آگے بڑھے……..اور دروازے خود بخود کھل گئے ۔)

سپاٹے : تیز رفتاری ، غبار دل دھونا : تھکاوٹ ختم کرنا ، حور شمائل : حوروں جیسی شکل و صورت والی ، مشاق:شوق رکھنے والے ، خوش آمدید صفا آور دید:آپ کا آنا مبارک ہو ، خدائی لشکر :مراد محنتی لوگ ، ایستادہ ہوا:کھڑا ہوا ، صاحب مراتب:مراد کامیاب لوگ

٭تمام مسافر اپنے اپنے گروہ کےساتھ تیزی سے پہاڑ کی چوٹی تک پہنچے۔وہاں پہنچتے ہی پر سکون اور طاقت و زندگی عطا کرنے والی ہوائیں چلنے لگیں ۔میدان کے چاروں جانب نور پھیلا ہوا تھا جس پر  کبھی صبح صادق اور کبھی مغرب کا گمان ہوتا تھا؛ اس پر شہرت عام اور بقائے دوام کے حروف واضح نظر آرہے تھے ۔محنت کے بعد حاصل ہونے والی اس کامیابی  میں خوشی ، سکون اور تسلی محسوس ہو رہی تھی۔تھکاوٹ اتر گئی تھی۔اچانک وہاں ایک عالی شان محل نظر آیا  جس کے چاروں جانب بڑے بڑے پھاٹک تھے۔پہاڑ کی چوٹی پر وہی حوروں جیسی پری  بیٹھی بانسری بجا رہی ہے جس کی آواز  پر سب کھنچے چلے آئےتھے۔وہ سب کو دیکھ کر مسکرا رہی ہے۔اب اُس کی بانسری سے شاباش اور مبارک باد جیسے سُر نکل رہے ہیں۔ محنتی لوگ خدا  کا شکر ادا کر رہے تھے  کہ ایک آواز آئی ‘ آپ کا آنا مبارک ہو۔’یہ آواز سنتے ہی  سب کامیاب لوگ  اپنے اپنے فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔تاریخ دانوں کا ایک گروہ  دروازے پر کھڑا ہوگیا  تا کہ کامیاب لوگوں کو ان کے درجے کے اعتبار سے  محل میں داخل کرے۔ اس وقت بانسری سے پر جوش سُر نکل رہے تھے۔محل کے دروازے خود بخود کھُل گئے۔

آزاد نے اس پیرا میں تخیلاتی اور تمثیلی انداز کو بہت خوبصورتی سے اپنایا ہے۔منظر کشی بھی  بہترین انداز سے کی ہے۔    

پیرا گراف کی وضاحت و تشریح

8۔(دیکھا کہ ایک تختِ طلسمات کو بتیس پریاں اُڑائے……انھیں لے جاکر ایک مسند پر بٹھا دیا۔)

تخت ِ طلسمات : مراد کتاب سنگھاسن بتیسی، بتیس پریاں : مراد 32 حصے  تھے، دیرینہ سال بوڑھا : مہاراجا بکرما جیت سنگھ( مہاراجا بکرما جیت سنگھ نے 32 چیپٹر پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کا نام سنگھاسن بتیسی تھا ۔اس میں مشاہیر کے کانامے اور تذکرے تھے۔اس کی سچائی کے سب قائل تھے۔اس کے علاوہ آپ بکرما  شمسی کلینڈر کے بانی تھے۔)پنڈت : کشمیری  راجا ، مہاجن: سرمایہ دار، برہمن: اونچی ذات کے ہندو

٭آزاد کا  یہاں علامتی انداز ہے۔راجا بکرما جیت سنگھ  اور راجا بھوج  میں سے کون ذیادہ معتبر ہے۔اس سلسلے میں   کتاب ‘ سنگھاسن بتیسی ‘سے مدد لی گئی  ہےجوسنسکرت میں لکھی گئی  دیو مالائی کتاب ہے ، اصل  مصنف کا نام تو  معلوم نہیں ، لیکن1605میں چتر بھوج داس بھٹ نے فارسی ،  1631ء عہد شاہجہان میں سندر داس نے اس کو برج بھاشا میں ، پھر1804 میں  للو لال جی اور کاظم علی جوان نے مل کر اردو ترجمہ کیا۔اس کتاب کے   بتیس حصے ہیں  ۔اس کا مرکزی کردار راجا بھوج اور راجا بکرم ہیں۔جب راجا بھوج  راجا بکرم کے تخت پر بیٹھنے لگتا ہے تو  تخت پر لگی بتیس پتُلیاں جو پریوں جیسی لگتی تھیں اسے ایسا کرنے سے روکتی ہیں۔ہر پُتلی راجا بکرم کی ایک خوبی بیان کرتی ہے۔ مجبوراً راجا بھوج اس  سنگھاسن پر بیٹھ نہیں سکتا اور اسے گڑوا دیتا ہے۔دنیا کا پہلا کیلنڈر راجا بکرما جیت  نے  57 ق م  میں  اپنی شاکاس کے خلاف  فتح کو یادگار بنانے کے لئے تشکیل دیا جو آج بھی بھارت، پاکستان ،بنگلہ دیش اور نیپال وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔پریاں یہ کہہ کر اُڑ گئیں کہ جب تک کہ کیلنڈر رہے گا ، راجا بکرما کا نام بھی زندہ رہے گا۔اس کے کاموں کوسب مانتے تھے۔گویا قابلِ ذکر، اچھے  اور ہمیشہ رہنے والے کاموں کی بدولت ہی انسان بقائے دوام پاتا ہے ۔

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

9۔(ایک راجا کے آنے پر لوگوں میں کچھ قیل و قال ہوئی…….فصاحت و بلاغت کو زندگی جاوید بخشی ہے۔)

قیل و قال: بحث و تکرار، مصاحب: دوست، تمکنت:شان و شوکت ، اشیر باد: دعائے خیر، فصاحت:مستند اہلِ زبان کے مطابق کلام، بلاغت:تیز زبانی

٭آزاد یہاں راجا بھوج کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ٍکہ ان کی آمد پر لوگوں میں بحث و تکرار ہوئی کیونکہ وہ اپنے دو ساتھی تکبر اور بڑائی کو  بھی لانا چاہتے تھے۔ٍاس دربار میں ان کا داخلہ منع تھا۔اتنے میں وہی بتیس پریاں ( سنگھاسن بتیسی جو راجا بھوج کے زمانے میں لکھی گئی تھی)سفارش کرکے ساتھ لے گئیں۔جب وہ اپنی جگہ بیٹھا تو ایک پنڈت کالی داس نے ہاتھ اُٹھا کراس کے لئے دعا کی اور بقائے دوام کا تاج پہنایا۔اس میں  ستاروں سے ذیادہ چمکدار نو ہیرے لگے ہوئے تھے۔راجا بھوج    سلطنت اجین کے ایک عادل و بہادر حکمران  ہونے کے ساتھ شاعر ادیب اور مفکر بھی تھے۔اس نے  کئی فتوحات کیں،مالوہ کو ترقی بخشی اور بھوپال شہر آباد کیا ، اپنی رعایا  اور سلطنت کا خیال رکھا۔( راجا بھوجپال کو شق القمر دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ،اس نے اپنے بیٹے کو تحائف اور پان کے پتے دیکرحضورؐ کی خدمت میں بھیجا ۔رسولؐ پہچان گئے اور پان   کو برص و جذام کے لئے مفید کہا،وفد مسلمان ہوگیا۔امیر خسرو نے بھی   اس واقعہ پر قطعہ لکھاہے)اس نے مختلف موضوعات پر کئی کتابیں لکھیں ۔اس کے دربار میں کئی علماء اور قابل لوگ ہوا کرتے تھے۔یہاں نو ہیرے انہی نو رتن کا ذکر ہے۔کالی داس بھی اسی زمانے کا ایک سنسکرت زبان کا  شاعر اور ڈراما نگار (ڈراما شکنتلا)تھا۔ اسی زمانے میں اس نے نو بہترین  فصاحت و بلاغت سے بھر پور کتابیں لکھیں۔ 

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

10۔(ایک طرف تو بربر کی یہی کاروبار جاری تھا…….شاہنامہ لکھ کر اس کے انعام سے محروم رہا)

فرش فروش؛قالین،بقعہ نور:بہت روشن،فیل پیکر: ہاتھی کی طرح مضبوط ،گرز گاؤ:  پہلوانوں کا ہتھیار،شاہانِ کیانی: ایرانی بادشاہوں کا لاحقہ، درفشِ کاویانی: ایران کے ساسانی بادشاہوں کا چمڑے کا جھنڈا،کلئہ شیر: شیر کاسر

٭اس پیرا میں رستم پہلوان  کی آمد کا ذکر ہے۔رستم ایران کا ایک مضبوط جسم والا مشہور پہلوان تھاجو اپنے کندھے پر ایک گرز رکھتا تھااور سر پرشیر کے سر جیسا  لوہے کا ہیلمٹ  پہنتا تھا۔یہ ایران کے کیانی بادشاہوں کے لئے لڑتا تھا۔مصنف کہتے ہیں کی مشہور شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری تھا کہ اتنے میں ایک اور دروازہ کھلتا ہے ۔وہ کمرہ بھی  فانوس سے انتہائی روشن ہےاور قالین بچھے ہیں۔وہاں سے رستم پہلوان  سر  پر لوہے کا ہیلمٹ پہنے جو شیر کی شکل سے مشابہ تھا ، کندھے پر پہلوانی گرز رکھے ، فتح کے نشے میں چُور داخل ہوتا ہے۔وہ جہاں قدم رکھتا ہے اس کے وزن سے زمین دھنس جاتی ہے۔اس کے گرد ایرانی بادشاہ اور پہلوان جھنڈے لئے آتے ہیں کیونکہ وہ محب وطن تھا۔تمام تاریخ دان اور شعراء اس کی تعظیم میں کھڑے ہیں۔ایک بوڑھا اداس  شاعر فردوسی اس کاہاتھ پکڑ کر ایسی  کرسی پر بٹھا تا ہے جس کے پائے شیر تھے ، یعنی بہادری کی علامت تھے۔ فردوسی نے دارا کی شان میں چند اشعار پپڑھ کر اس کے کارناموں کی تصویر کھینچی۔ دارا نے اُسے دعا دی اور جنتی پھولوں کا تاج سر پر رکھا۔یہاں مصنف نے لفظی مناسبت کا استعمال کیا ہے۔(یہاں کتاب‘شاہنامہ’ کا ذکر ہے۔محمود غزنوی کے دور میں فردوسی کو مشاہیر کے کارنامے نظم کرنے کا کہا گیا ،فی  شعر ایک اشرفی کا وعدہ کیا گیا۔پینتیس سالوں میں اس نے ساٹھ ہزار شعر لکھے۔وزراء نے بے ایمانی کی اور حسبِ وعدہ ایک اشرفی کی بجائے ایک روپیہ دیا ،جس کی کم قیمت بنتی ہے،اس لئے فردوسی اداس تھا   کہ شاہنامہ لکھ کر بھی وہ اصل انعام سے محروم رہا۔اور اس نے غصے میں ایک ہجو نظم بھی لکھی۔)

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

11۔(اس کے بعد ایک نوجوان آگے بڑھا……وہ دارا بادشاہِ ایران تھا)

نوخیز:کم عمر،پہلو چرانا:شرمندہ ہونا،چتر:چھتری،پارہ پارہ: ٹکڑے ٹکڑے/پھٹا ہوا۔

٭سکندر اعظم کی آمد کا ذکر ہے سکندر مقدونیہ کا بادشاہ جس نے32سال کی عمر میں آدھی سے ذیادہ دنیا فتح کرلی تھی۔اس نے ملتان تک فتح کیا،واپسی کے سفر میں وہ بیمار ہوکر مرگیا۔جب  کم عمر سکندریونانی تاج سجائے دربار میں داخل ہوا تو ایرانی پہلوان دارا( یعنی بڑی بڑی حکومتوں کو شکست دی تھی ) اس کے سامنے شرمندہ تھے۔اسے یہ فخر بھی حاصل تھا کی یونان علم و حکمت  میں سب سے آگے تھا۔ (تاریخ نے سکندر کے متعلق بہت کم معلومات لکھی ہیں،لوگ اسے کہانیوں کا کردار سمجھتے ہیں۔آرکیاد شاہی خاندان کا یہبادشاہ 356ق م میں پیلا یونان میں  پیدا ہوااور 323 ق م بابل میں وفات پائی۔ اس نے طویل فوجی مہم چلاتے ہوئے یونان سے شمال مغربی ہندوستان تک تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت بنائی۔وہ ہر جنگ میں ناقابلِ شکست رہا۔ارسطو اس کا استاد تھا جو افلاطون کا شاگرد تھا)۔اس کے پیچھے ایرانی بادشاہ داراآیا(مخامنشی خاندان کا نواں اور کیانیان کا آخری ایرانی  بادشاہ ‘داراب’ بارہ برس کی عمر میں تخت نشین ہوا،جس نے چھتیس سال حکومت کی ، اپنی تدبیروں کی وجہ سے غلبہ حاصل کیا۔۔سندھ سے لے کر ڈینوب و مصر تک اس کی وسیع سلطنت تھی۔بہترین انتظام مملکت کیا۔سونے چاندی کے سکے جاری کئے۔انیس جنگوں میں اس نے خود حصہ لیا۔اسس او ر اربیلا کی جنگ میں سکندراعظم  کی فوجوں سے مقابلہ کیامگر شکست کھائی۔فرار ہو گیا،اس کے گورنر نے اسے گرفتار کر کے قتل کر دیا۔یوں ایرانی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا)

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

12۔(اس کے بعد جو شخص آیا ،اگرچہ وہ سادہ وضع…..یہ مسند میرا ہی حق ہے)

قیافہ روشن:ذہین،فرحت : خوشی، سینہ زوری :زبردستی،براہین معقول:عقلی دلیل، قائل کرنا: منوانا

٭اس پیرا میں آزاد سقراط، افلاطون ، جالینوس اور ارسطو  کی آمد کا حال بیان کر رہے ہیں۔(سقراط 470-399ق م   یونانی فلسفی ا  ور مغربی فلسفے کا بانی  تھا۔ اس نے فوج میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دیں۔اس کی کوئی تصنیف تو نہیں لیکن حکمت و فلسفے سے بھرے ہوئے نظریات اور تعلیمات اس کے دو شاگردوں افلاطون اور زینوفون کی تحریروں کے ذریعے آج بھی مشہور ہیں۔انقلابی خیالات کی وجہ سے بے دینی کا لزام لگااورانہیں زہر کا پیالہ پینا پڑا۔افلاطون     ایک یونانی فلاسفرہونے کے ساتھ  کئی مضامین پر کتابوں کا مصنف بھی تھا ۔مغربی سیاسی  فلسفہ اور سائنس کی بنیاد رکھی، اس کی سوچ پر سقراط اور فیثا  غورث  ریاضی دان کے نظریات کا بہت اثر تھا۔اکیڈمی نام کی پہلی درسگاہ قائم کی۔یہ ارسطو کا استاذتھا۔ارسطو یونان کا ممتاز فلسفی مفکر، جامع العلوم اور ماہر منطق تھا۔فلسفے کے ساتھ اس نے کئی  مضامین پر کتابیں لکھیں ۔افلاطون کی اکیڈمی سے تعلیم حاصل کی۔سکندر اعظم کو تعلیم دی۔ایتھنز میں اس نے اپنا اسکول’ لائسئم ‘ اور لائبریری قائم کی۔اس کے علم اور تحقیقات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔جالینوس ایک یونانی طبیب اور فلسفی تھا، تقریباً ڈیڑھ سو سے ذیادہ تصانیف ہیں۔ارسطو اور افلاطون کی بعض کتابوں کی شرح بھی لکھی) دربار میں جب یہ حضرات تشریف لائے تو سب نے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور حسب مرتب مسند پر بٹھایا۔لیکن افلاطون اور ارسطو کے معاملے میں بحث چھڑ گئی ۔ ارسطو خود یہ چاہتا  تھا کہ وہ اپنے استاذ سے آگے بیٹھے، اس نے معقول دلیلیں دیں کیونکہ علم میں وہ اپنے استاسے آگے بڑھ گیا تھا۔علم کی بناء پر وہ استاذ سے آگے بیٹھا۔

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

13۔(ایک گروہِ کثیر بادشاہوں کے ذیل میں آیا……دوسرا مامون الرشید تھا۔)

جبّہ : شاہی خلعت، عمامہ : پگڑی ، طبل و دمامہ: نقارہ و ڈھول پیٹنا، طبلِ تہی: خالی ڈھول

٭محمد حسین آزاد کہتے ہیں کہ اس کے بعد بہت سے بادشاہ آئے، انہوں نے طویل حکومتیں کیں ، نام بنائے لیکن کوئی قابلِ ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا۔ان کی مثال ایک خالی ڈھول جیسی تھی۔انہوں نے بے مقصد و مصرف زندگی بسر کی تھی۔ان میں سے صرف دو اشخاص اندر آنے دئے وہ بھی محض اس وجہ سے کہ ان کے دربار میں علماء ہوا کرتے تھے۔ان میں سے ایک ہارون الرشید  اور دوسرا مامون الرشید تھا۔انھوں نے تمام زندگی کوئی عظیم کارنامہ تو انجام نہیں دیا  ۔ علم پھیلانے والے کام کی وجہ سے ان کو اندر آنے کی اجازت ملی۔

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

14۔(تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک اور تاجدارسامنے سے نمودار ہوا………وہ ایاز تھا)

ولایتی استخوان: انگریزوں جیسا جسم ،  خون سے قلمکار : خون میں ڈوبا ہوا، گراں بہا: قیمتی، حور شمائل: خوبصورت

٭اس پیرا میں آزاد محمود غغزنوی اور ایاز کی آمد کا ذکر کر رہے ہیں (محمود غزنوی  سبکتگین کا بیٹا اور افغانستان کا بادشاہ تھا، اس نے31 سالہ دورِ حکومت میں  ہندوستان  کے راجاوں سے جنگ کی اور ان پر سترہ حملے کئے۔سومنات کا مندر توڑا اور بیش بہا خزانہ حاصل کیا، اسے بت شکن بھی کہتے ہیں۔ابوانجم ایاز محمود غزنوی کا محبوب غلام اور مشیر تھا۔اس کے شاہی دستے کا سالار بھی تھا۔شعراء کے قصائد کی بناء پر بہت سے مؤرخین نے محمود و ایاز کو داستانِ عشق بنا دیا۔حکیم ابواقاسم علی طوسی معروف بہ فردوسی شاعرتھے۔اپنی لازوال شاہکار ‘شاہنامہ’ سے فارسی زبان، ثقافت اور تاریخ کو امر کردیا۔(پیرا   10 کی وضاحت میں اس کا ذکر موجود ہے) ۔آزاد لکھتے ہیں کہ ولایتی ڈیل ڈول  اور لباس والا  بادشاہ آیا ،اس کے لباس پر خون کے چھینٹے تھے، یہاں ہندوستان پر سترہ حملوں کی جانب اشارہ ہے۔سومنات سے حاصل کئے ہوئے زیورات اس کے پاس تھے ،مگر چونکہ وہ استعمال سے ناواقف تھا اس لئے کندھے پر ڈالے ہوئے تھے۔سب اس کے استقبال کو بڑھے مگر وہ ایاز کا منتظر تھا۔اتنے میں ایاز آیا اور فردوسی کا ہاتھ پکڑ کر محمود کے سامنے لے گیا۔محمود نے شوق اور شکرگزاری سے اس کا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیا۔دونوں کی آنکھیں شرم سے جھکی ہوئی تھیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مطلوبہ رقم نہ ملنے پر فردوسی نے محمود کی برائی میں ایک ہجویہ نظم لکھی تھی اور   جب محمود کو پتہ چلا کی فردوسی کو وعدے کے مطابق رقم ادا نہیں کی گئی تو اس نے سونے کی اشرفیاں بھجوائیں لیکن اسی روز فردوسی کا انتقال ہوگیا تھا۔اس رقم سے ایک سرائے تعمیر کردی گئی۔ایاز مسکرایا کہ اب دونوں کے درمیان کیا معاملہ ہوگا۔

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

15۔( اسی عرصے میں ایک اور شخص آیا کہ لباس اہلِ اسلام کا رکھتا تھا…….باقی سب نکالے گئے)

توران : وسطی ایشیا کا ایک خطہ جہاں ترک تاتاری ترکمان نسل کے لوگ آباد ہیں،آجکل یہ علاقہ چین اور وسط ایشیا کے ممالک میں بٹا ہوا ہے۔

٭یہاں آزاد بو علی سینا کی آمد کا احوال بیان کر رہے ہیں۔(علی الحسین بن عبداللہ بن الحسن بن  علی بن  سینا  یا ابنِ سینا  کو طبّی دنیا کا آفتاب کہتے ہیں۔آپ فارس کے طبیب اور فلسفی تھے۔آپ نے مختلف علوم پر 450 سے زائد کتابیں لکھیں جن میں سے 40 ادویات پر ہیں۔ان کی کئی کتابیں نیویارک میں دوبارہ شائع کی گئی ہیں۔ان کے نام پر ہی آج  ادویا ت کو میڈیسن کہتے ہیں۔انہوں نے ارسطو کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔)بوعلی سینا کا لباس تو اہلِ اسلام کی طرح تھا مگر چال ڈھال یونانیوں سے ملتی تھی کیونکہ علم کی خاطر کئی علاقوں کا سفر کیا اور اثرات قبول کئے۔یہ شاعر نہیں تھے اس لئے شعراء تو الگ ہو گئے۔لیکن کچھ مذہبی علماء اختلاف رکھتے تھے سو تکرار کرنے لگے۔آپ نے سب کو نظرانداز کیا اور علم کی وجہ سے ارسطو کے برابر بیٹھ گئے۔اس کے بعد بہت سے ایرانی اور تورانی شاعر  اور مصور آئے ، سب کے الگ الگ انداز تھے۔ ان کے ہاتھ میں کاغذ اور کتابیں تھیں۔سب اپنے ہنرمند ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے لیکن انہیں یہ کہہ کر منع کردیا گیا کہ تم خیالی، بے بنیاد اور غلط چیزوں کے بنانے والے ہو جس میں سچائی اور حقیقت کا کوئی رنگ نہیں ۔البتہ  چند فارسی قصیدہ گو شعراء  انوؔری ، خاقاؔ نی ، ظہیر ؔ فاریابی کا انتخاب ہوا اور انہیں اندر آنے کی اجازت دی گئی۔

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

16۔( اسی عرصے میں چنگیز خان آیا……….ایک سیاہی کا داغ لگا دو۔)

حقارت: نفرت ، نسب: خاندان، شمشیر جوہر دار: کارنامے دکھانے والی تلوار، میراث: وراثت، طورہ چنگیز خان: ملکی انتظام کے لئے بنائے ہوئے چنگیز خان کے قوانین

٭اسی اثنا میں چنگیز خان آیا۔( بورجگین خاندان کا ایک منگول سردارجو دریائے آنان کے کنارے ایک خیمے میں پیدا ہوا، باپ ایک حملے میں مارا گیا،اصلی نام تموچن یعنی فولاد جیسا مضبوط، فتوحات اور سفاکی نے چنگیز خان کو مشہور کیا۔وہ نو سال کی عمر میں منگول سلطنت کا پہلا خاقان بنا۔عقیدہ تینگری کا ماننے والا تھا۔منگول سلطنت سب سے وسیع سلطنت تھی۔اس نے فوج  اور ملکی  تنظیم کےجو اصول و قوانین مقرر کئے وہ صدیوں تک مشعل راہ کا کام دیتے رہے)چنگیز خان کی آمد پر سب نے اسے حقارت کی نظر سے دیکھا اور طنزیہ مسکرائے( اسکی پیدائش کی وجہ سے)۔مگرتاریخ کی کتابیں اس کے ذکر سے بھری ہیں۔مؤرخوں نے استقبال کیا۔کسی نے اس کے خاندان پر اعتراض اُٹھایا۔اس کے جواب میں اس نے خون سے بھری اپنی  تیز ہنرمند تلوارسامنے کردی کہ حکومت ورثے میں نہیں بلکہ طاقت کے بل پر حاصل کی جاتی ہے۔علماء اور شعراء نے پھر بھی اعتراض اٹھایا کہ اس نے بہت خونریزی کی، کھوپڑیوں کے مینار بنائے، کہیں بھی اس کا نام اچھے لفظوں میں نہیں لیا جاتا ۔اسے بادشاہوں میں جگہ نہیں ملنی چاہیئے۔یہ سن کر چنگیز خان کو بھی افسوس ہوا۔اچانک غیب سے ایک آواز آئی کہ اے چنگیز جیسے تو نے اپنی قوم میں جنگ اور فتح کا جذبہ ابھارا، اگر اسی طرح   علم و فن  کا شوق بھی پیدا کرتا تو آج یوں شرمندہ نہ ہوتا۔اتنے میں کچھ مؤرخ چند کاغذ لے کر آگے بڑھے ۔یہ چنگیز خان کے جنگی و ملکی قواعد کے انتظام  کے قوانین تھے۔اسے دیکھ کر یہ طے ہوا کہ اسے دربار میں جگہ دی جائے لیکن ان کاغذات پر خون کے چھینٹے بھی لگا دئے جائیں کہ یہ ایک سفاک قاتل کی تحریر ہے۔  

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

17۔(تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ ایک جوان اسی شکوہ و شان کا اور آیا…….شکریہ ادا کرتا ہوں)

 شکوہ و شان: شان و شوکت، دبدبہ، وقار۔متشرع عالم : شریعت کا پابند پرہیز گار عالم۔اصطرلاب: آلہ فلکیات جو ستاروں اور سیاروں کی پوزیشن،حرکت یا مقامی وقت معلوم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اقلیدس:یونان کا علم ہندسہ کا ماہر جس میں جیومیٹری سے بحث کی جاتی ہے۔محقق طوسی:العلامہ ابو جعفرمحمد بن محمد بن حسن الطوسی فلسفی،سائنسدان،ریاضی دان،ماہر فلکیات،منجم،طبیب،شاعر، ٹریگنومیٹری کی بنیاد ڈالی،ابو علی سینا کی کتاب ‘الاشارات و ا لتن بیہات کی شرح لکھی۔علم میں طوسی کو بو علی سینا کا ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے،لیکن ابن  سینا طب میں اور طوسی ریاضی میں ماہر تھے۔

٭اس پیرا میں ہلاکو خان کی آمد کا ذکر ہے۔(ہلاکو خان 1218 – 1265ءایل خانی حکومت کا بانی ،تولی خان کا بیٹا اورچنگیز خان کا پوتا تھا۔اس نے شمال مغربی ایران کے ایک گروہ باطنیہ جسے حشاشین ( حشیش پی کر خودکش حملے کرتے تھے، حسن بن صباح بانی تھا، مرکز قلعہ الموت،علماء کو قتل کرتے،زمین پر جنت بنائی)بھی کہتے تھے کا خاتمہ کیا۔عباسی خلیفہ مستعصم باللہ عیاش اور علماء کو قید وقتل کرتا  ، شیعہ سنی فساد ،اس کے وزیر ابن علقمی کے ہلاکو خان کو خط لکھ کر بلایا اور بغداد کی ظالم حکومت ختم کی،  1258 میں بغداد تباہ کردیا گیا۔علماء کو آزد کرالیا۔طوسی کو اوقاف کا امین بنایا،انعام میں ملنے والی رقم سے طوسی نے لائبریری اور رصد گاہ بنائی اور علماء کو جمع کیا۔)ہلاکو خان کی آمد پر لوگوں کو اختلاف تھا، چند علماء اور طوسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھایا، طوسی کے ہاتھ میں ستاروں کا علم جاننے کا آلہ اور جیومیٹری کی کچھ اشکال تھیں۔اسے بادشاہوں کی صف میں جگہ ملی،طوسی کو ابن سینا نے اپنے پاس بٹھا لیا کہآپ کی شرح لکھنے سے میری شہرت میں اور اضافہ ہوا۔

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

18۔(تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ امیر تیمور کی نوبت آئی……اور ایک کرسی پر بیٹھ گیا)

امیر تیمور: تیمور لنگ چغتائی خاندان کا مغل بادشاہ ، خود رہبر ہوا: اپنا راستہ خود بنایا۔

٭مصنف اب چغتائی خاندان کے مغل بادشاہ تیمور لنگ کی آمد کا حال بیان کر رہے ہیں۔(امیر تیمور 1336 -1405ء،تیموری سلطنت کا بانی ،جنگجو حکمران،ترک منگول قبیلے برلاس سے تعلق،چنگیز خان اور تیمور لنگ کا جد امجد تومنہ خان تھا، 43 ممالک فتح کئے، ہر جنگ میں خود شرکت کرتا،تلوار ور کلہاڑے سے دونوں ہاتھوں سے لڑتا تھا،(تاریخ میں دو سلطنتیں تیوری  ہیں ،ایک امیر تیمور کی جو وسط ایشیاء سے ایران میں تیموری سلطنت،دوسری ظہیرالدین بابر کی  ہندوستان میں مغلیہ سلطنت ) اپنی یاداشتوں کو آپ بیتی ‘تزکِ تیموری’میں محفوظ کیا۔ایک جنگ کے دوران ٹانگ زخمی ہوئی،معذوری کا مجبوری نہ بننے دیا،چین پر فوجی حملے کے دوران بیمار ہوکر  مر گیا۔دارالسلطنت  سمر قند کی بہت تعیر و ترقی کی۔فتوحات کی وسعت کے لحاط سے اس کا شمار سکندر اور  چنگیز خان کے ساتھ ہوتا ہے) جب تیمور داخل ہوا تو کئی تاریخ لکھنے والےآگے بڑھے لیکن وہ ان سب کو چھوڑتا ہوا خود اپنا راستہ بناتا آگے بڑھا ۔وہ خود مؤرخ تھا اور اسے معلوم تھا کہ اس کا کیا مقام ہے، وہ لنگڑاتا ہوا آگے بڑھا اور ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ 

پیراگراف کی وضاحت و تشریح

19۔(اسی حال میں دیکھتے ہیں کہ ایک بزرگ ،آزاد وضع قطع تعلق کا لباس بر….فلک مینائی کے دامن سے دامن باندھے ہے)

آزاد وضع: بے نیاز ،  قطع تعلق کا لباس بر: صوفیوں جیسا معمولی چوڑے عرض کا لباس، عاجزی کا عمامہ: انکساری کی پگڑی مراد حلیم الطبع، صلحاء : نیک لوگ ، معذور رکھو: معاف کرو، شیشہ مینائی: حافظ کی شاعری کا مجموعہ

٭اس پیرا میں فارسی کے عظیم ترین شاعر حافظ شیرازی کی آمد کا ذکر ہے۔(1315-1390، خواجہ شمس الدین  مبارک محمد حافظ شیراز ،حافظِ قرآن، تفسیرِ قرآن بھی لکھی، غضب کا حافظہ رکھتے تھے،  درویشانہ زندگی،دیوان بایک معاصر گل اندام  نے ترتیب دیا، دیوان سے فال بھی نکالی جاتی ہے، بہترین غنائی شاعر، مصنف اور روحانی شاعر تھے۔حافظ کی شاعری میں شراب کا تذکرہ عشقِ حقیقی کی جانب لےجاتا ہے ) انہوں نے بہت سادہ اور عام صوفیوں جیسے کھلے ڈھلے کپڑے پہنے ہوئے تھے،بڑی انکساری سے چلتے ہوئے آئے اور دروازے پر ہی رُک گئے۔ان کے ساتھ عالموں، نیک لوگوں ، تاریخ دانوں اور شاعروں کا گروہ تھا۔سب نے درخواست کی کہ آگے بڑھیئے مگر انہوں نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ مجھے اس شہرت اور نام و نمود سے دور رکھو۔ہو سکتا ہے کہ ایسا ہو بھی جاتا مگر جب لوگوں کا اشتیاق اور اصرار بڑھا تو آپ اندر آئے ۔آپ کے ہاتھ میں آپ کی شاعری کی کتاب ‘شیشہ مینائی’ تھی۔جس میں ہر موضوع پر شاعری موجود ہے۔ہر کوئی آپ کو اپنے پاس بٹھانا چاہتا تھا ، مگر آپ  اپنے مزاج کے خلاف کہیں نہ بیٹھے بلکہ دربار کا ایک چکر لگایا اور چلے گئے۔

  • پیراگراف کی وضاحت و تشریح

    20۔(لوگ اور کرسی نشین کے مشتاق تھے۔دور سے دیکھا…….برتنے کے لئے نہیں)

    غُل: شور ، پیر: بزرگ ، خندہ جبینی: مُسکراہٹ ،

    ٭دربار جاری تھا ۔لوگ اگلے کرسی نشین کا شدت سے انتظار کر رہے تھے۔اچانک دیکھا کہ بہت سے لڑکے شور مچاتے ہوئے آ رہے ہیں ، ان کے درمیان ایک نورانی صورت والے بزرگ ہیں جن کی سفید داڑھی ہے، مسکراتے چہرے کے ساتھ آرہے ہیں۔یہ ایران  کے مشہور شاعر، عالم اور ادیب  شیخ سعدی ہیں۔(شرف الدین ابو محمد  مصلح الدین ابن عبداللہ شیرازی، 1210-1292، ، سیاحت کا شوق تھا، برسوں ریاضت اور مجاہدہ کیا، عمر بھر کے تجربات اور مشاہدات کو گلستان اور بوستان کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔یہ شیخ سعدی کی حکایتوں اور نصیحتوں سے بھری پڑی ہیں۔یہ نظم و نثر کا مرقع ہیں  ) ان کے ہاتھ میں ان کی کتابیں’ گلستان اور بوستان ‘ ہیں۔لفظی مناسبت کی وجہ سے مصنف نے گلدستہ اور میوے دار ٹہنی کا لفظ استعمال کیا ہے۔مختلف فرقوں یعنی پیشوں کے لوگ ان کے گرد  استقبال کے لئے جمع ہوگئے۔لیکن آپ محض  یہ نصیحت کرکے  واپس لڑکوں  میں چلے گئے کہ ‘ دنیا صرف مشاہدہ کرنے ، سیکھنے اور عبرت حاصل کرنے کی جگہ ہے ۔اس میں ہر گز دل نہ لگاؤ۔

    • پیراگراف کی وضاحت و تشریح

      21۔( بعد اس کے دیر تک انتظار کرنا پڑاچنانچہ ایک اولوالعزم شخص آیا…..قدم بہ قدم چلیں گے اور فخر کریں گے۔)

      اولوالعزم: ، سینہ زواری: جرات

      ٭اس پیرا میں شیر شاہ سوری کی آمد کا ذکر ہے۔( ہندوستان کا عظیم فاتح اور منتظم، فرید خان،1472-1545،پشتون،ریاضی کے ماہر،مغل شہنشاہ ہمایوں کودو بار  شکست دے کرہندوستان پر اپنی  سوری حکومت قائم کی۔پانچ سال ایک ماہ کی قلیل حکومت میں اس نے بہت سے فلاحی کام کئے۔،زرعی اصلاحات نافذ کیں ،تجارت،امن و سلامتی،خوشحالی کا دور،محفوظ سفر،سونے،چاندی اور تانبے کے سکوں کا اجراء۔پہلا ڈاک کا نظام    نافذ  کیا اور ٹکٹ جاری  کیا، تعمیراتی کام کروائے،سہسرام سے پشاور تک 1500میل لمبی  جرنیلی سڑک تعمیر کروائی جسے گرینڈ ٹرنک روڈ یا   جی ٹی روڈ کہتے ہیں۔عوامی فلاح پر توجہ دی) کچھ دیر انتظار کے بعدجو شخص آیا اس کے چہرے سے پختہ ارادہ، بہادری اور حوصلہ نمایاں ہو رہا تھا۔اس کے آنے پر بھی بحث ہوئی مغل مؤرخ تو مخالفت کرنے لگے کیونکہ اس نے ہمایوں کو دو بار شکست دی تھی۔لیکن وہ بااعتماد آگے بڑھا اور تیموری نشان والی کرسی پر بیٹھ گیا۔اسے دیکھ کر ہمایوں  اپنی شکست کی وجہ سے شرمندہ ہورہا تھا۔شیر شاہ نے فخر سے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور اپنے تعمیرکی ہوئی جی ٹی روڈ کا ذکر کیا کہ مجھے اتنا فخر ہی کافی ہے کہ میرے دشمن کی اولادیں میری تعمیر کردہ سڑک کو استعمال کریں گی اور فخر کریں گی۔

      • پیراگراف کی وضاحت و تشریح

        22۔(تھوڑی دیر بعد ایک خورشید کلاہ آیا…….اس کے تاج پر تمام سنسکرت کے حروف لکھے تھے)

        خورشید کلاہ: سورج کی طرح  چمکتی پگڑی مراد مشہور،ہندوستانیوں کے فرقہ ہائے مختلفہ: مراد ہندو سکھ وغیرہ،سنسکرت: قدیم آریائی زبان

        ٭اس پیراگراف میں ہمایوں کے بیٹے بادشاہ محمد اکبر کی آمد کا ذکر ہے۔ (سلطنت مغلیہ کے تیسرے فرماں روا جلال الدین محمد اکبر 1542-1605،   سلطنت کے حجم اور دولت میں تین گنا اضافہ کیا،طاقتور فوجی نظام بایا،مؤثر سیاسی سماجی اصلاحات کا آغاز کیا،کثیرالثقافتی سلطنت،علم،فن اور ثقافت کی سرپرستی کی،)اکبر شہرت کا تاج سر پہ سجائے جب آیا تو اس کے ہمراہ بہت سارے لوگ تھے،جن مین ذیادہ ایرانی ،تورانی،ہندوؤں کے مختلف فرقےاور قوموں کے لوگ شامل تھے۔اہلِ دربار کی نظروں میں اس کے لئے رضامندی اور پسندیدگی جھلک رہی تھی۔اکبر  حکومتی رموز کی وجہ سے تمام ادیان کا احترام کرتا تھا۔اسی لئے  اس نے دینِ    الہیٰ بنایا،  لباس اوررسم و رواج کی وجہ سےسب اسے اپنے مذہب کا پیروکار مانتے تھے۔ مسلمان اسے مسلمان،عیسائی اسے عیسائی،ہندو اسے ہندو ،آتش پرست اسے آتش پرست سمجھتے تھے۔اس کے تاج پرسنسکرت کے حروف ( رامائن اور مہا بھارت کا سنسکرت میں  ترجمہ کروایا)تھے۔

        • پیراگراف کی وضاحت و تشریح

          23۔(اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا جو وضع سے ہندو راجا معلوم ہوتا تھا….وہ جہانگیر تھا اور بیگم نور جہاں تھی)

          مخمور : مدہوش،

          ٭آزاد اس پیراگراف میں جہانگیر بادشاہ  اور اس کی بیگم نور جہاں کی آمد کا حال بیان کر رہے ہیں۔(شہزادہ سلیم نورالدین لقب جہانگیر  مغلیہ سلطنت کا چوتھا حکمران،اکبر بادشاہ کا تیسرا بیٹا،1569-1627،  شراب نوشی اور عیش و عشرت کا دلدادہ،تزکِ جہانگیری لکھی،فوجی مہمات پر توجہ،22سالہ دورِ حکمرانی   میں سرحدوں کو وسیع کیا،فنون لطیفہ کو فروغ دیا،خود پینٹنگز بنائیں،مغل آرٹ کو فروغ دیا،زنجیرِ عدل  لگوائی،، پسندیدہ ببیسویں بیوی  بیگم مہرالنساء جونورجہاں کے نام سے جانی جاتی ہیں،جہانگیر اس پر بہت بھروسہ کرتے تھے،ملک کے نظم و نسق میں اثرو رسوخ ،افواج کی قیادت کی،لائق و ہوشیارعورت تھی )جہانگیر بادشاہ ذیادہ مذہبی نہ تھا،اس کے لباس سے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ہندو راجا ہے۔وہ ایک عیش پسند حکمران تھا،نشے میں چُور تھا،خود چل بھی نہ سکتا تھا۔اس کی لاڈلی بیگم نورجہاں اسے اپنے اشاروں پر چلا رہی تھیں ،اس کی اپنی کوئی مرضی نہ تھی،وہ اس کے ذریعے دیکھتا ،بولتا اور سنتا تھا،تمام ملکی انتظام  نور جہاں چلاتی تھی۔جہانگیر اپنی سوانح حیات ‘تزک جہانگیری’ لکھتا تھا۔اس لئے اس کے ہاتھ میں کاغذ قلم تھا۔اس کی حالت دیکھ کر سب مسکرا رہے تھے مگر بادشاہوں کے راستے تیار رہتے ہیں،وہ بے حال نہ تھا ،جب بھی نشے سے ذرا ہوش آتا تو سوانح لکھنے لگتا تھا۔

          پیراگراف کی وضاحت و تشریح

          24-(شاہجہاں بڑے جاہ و جلال سے آیا ۔……..سلاطینِ چغتائیہ کے سلسلےمیں معززدرجے پر ممتاز ہوا۔)

          میر عمارت: عمارت کا سردار ، سلاطینِ چغتائیہ : مغلیہ بادشاہان

          ٭اس پیراگراف میں شاہ جہاں کی شان و شوکت کے ساتھ آمد کا ذکر ہے۔(شہاب الدین محمدخرم شاہ جہاںاول ،1592-1666ء،سلطنت مغلیہ کا پانچواں شہنشاہ،جہانگیر کا بیٹا، تخت پر بیٹھتے ہی اپنے سگے بھائی شہریار،دو چچیرے بھائی،دو بھتیجوں کو قتل کرادیاتاکہ تخت و تاج کا کوئی دعویدار باقی نہ رہ جائے۔شادی ایک ایرانی خاتون ممتاز محل سےہوئی ،معمار/انجینئر بادشاہ،لال قلعہ،شاہ جہاں مسجد،تاج محل جیسی یادگار تعمیرات  کیں،اسکا تختِ طاؤس لاجواب  تھا، تصوّف سے دلچسپی) شاہجہاں کے ساتھ بہت سے مؤرخ تھے،کیونکہ وہ ہر وقت کوئی نہ کوئی کارنامہ کرتا رہتا تھا؛اس کی جنگیں ،فتوحات اور تعمیرات اس کا ثبوت تھیں   ۔مؤرخ اس کے کارنامے اور شاعر اس کے قصیدے پڑھتے تھے۔معما ر اس کی بنائی ہوئی عمارتوں کی تصاویر لئے ہوئے تھے جس پر ان کے نام کے کتبے لگے ہوئے تھے۔اس کے یہ کارنامے رہتی دنیا تک اس کا نام زندہ رکھیں گے۔لوگ اس کی آمد پر خوش تھے کہ اچانک اس کا اندھا بھائی  شہر یار اپنے مقتول بچوں کے خون کا دعویٰ کرنے آگیا ۔اس موقعے پر اسکا وزیر آگے بڑھا اور توجیہ یہ پیش کی کہ ملک میں امن قائم رکھنے اور بغاوت کے خطرے سے بچنے کے لئے ایسا کرنا ضروری تھا۔لہٰذا اسے مغل بادشاہوں کے معزز درجے میں داخل کر دیا گیا۔

          • پیراگراف کی وضاحت و تشریح

            25۔(تھوڑی دیر بعد دور سے گانے بجانے کی آواز آئی……..چنگیز خان کے پاس جگہ مل گئی۔)

            گوّیا : گانے والا ، بھانڈ:نقلیں اتارنے والا، طنزاً: ہنسانے یا لطیفے سنانے والا ،دلاور:بہادر،اسپ:گھوڑا

             ٭اس پیرا میں مصنف محمد شاہ رنگیلا کی آمد کا حال بیان کر رہے ہیں۔(محمد شاہ  ، روشن اختر،نصیر الدین شاہ المعروف  محمد شاہ رنگیلا 1702-1748، مغلیہ سلطنت کا چودھواں متنازعہ اوربدنام  بادشاہ، 24 سالہ دور حکومت،اپنے ہی محسنوں کوقتل کیا، محلاتی سازشوں کا قلع قمع کیا، فحاشی و عریانی کا دلدادہ،قانون بنانے اور توڑنے کا خبط ، دربار میں ننگا آجاتا،درباریوں کے کپڑے بھی اتروادیتا، زنانہ کپڑے پہنتا اور دربار کو پہناتا ،گھنگروبندھواتا،کبھی سارے مجرموں کو آزاد کروادیتا اور اتنے ہی عام لوگوں کو قید کروادیتا، روزانہ پانچ لوگوں کو وزیر بناتا مگر اگلے روزوزارت  واپس لے لیتا، طوائفوں کی ٹانگوں اور پیٹ پر لیٹ کر دربار میں سلطنت  کا انتظام چلاتا، اپنے گھوڑے کو وزیر مملکت کا عہدہ دیا،  ماں رقاصہ تھی،خواجہ سرا حکومتی امور کی نگرانی کرتے۔ طنزاً اسے رنگیلا بادشاہ کا خطاب دیا۔1739 میں ایرانی حاکم نادرشاہ درانی  نے ہندوستان پر حملہ کیا تو وہ سکون سےدہلی میں بیٹھ کر’ ہنوز دلی دور است’کہتا رہا،کرنال کے مقام پر ذیادہ فوج اور جدید اسلحہ کے باوجود غلط حکمت عملی کی بنا پر شکست کھائی۔نادر شاہ  نے مغلیہ سلطنت کو مردہ کردیا ،سارا خزانہ ،تخت طاؤس اور کوہ نور ہیرا لُوٹ کر لے گیا)(نادر شاہ افشارکو نادر قلی بیگ اور طہماسپ علی خان بھی کہا جاتا ہے،ایران کا بادشاہ،ایشیا کا نپولین،سکندر ثانی،قندھار تک کا علاقہ فتح کیا،افغانوں کی ایک تعداد نے کابل میں پناہ لی جو ہندوستان کا حصہ تھا،نادر نے ان کا مطالبہ کیا جو پورا نہ ہوا تو اس نے کابل بھی فتح کرلیا،درہ خیبر کے راستے برصغیر میں داخل ہوا ،کرنال میں محمد شاہ رنگیلا کی فوج کو شکست دی،دو ماہ قیام کیا،دہلی کے  اوباشوں نے ایرانی سپاہیوں کو قتل کیا تو نادر نے قتل عام کا حکم دے دیا)محمد شاہ رنگیلا کی آمد سے پہلے گانے بجانے کی آوازیں آرہی تھیں،جب وہ آیا تو اس کے ساتھ کوئی مصنف یا مؤرخ نہ تھا کیونکہ ایسے بادشاہ کو کوئی پسند نہیں کرتا،البتہ اس کے ساتھ درباری مسخرے وغیرہ تھے مگر وہ سب گھبرائے ہوئے تھے کہ ان کے پیچھے نادر شاہ ننگی تلوار ہاتھ میں لئے داخل ہوا،اس عظیم فاتح نے روم ،ہندوستان اور بخارا کو فتح کیا،دربار کے سب لوگوں نے محمد شاہ رنگیلا کی مخالفت کی ،اسے نکال دیا گیا اور نادر شاہ کو جنگجو چنگیز خان کے پاس بٹھایا گیا۔

            • پیراگراف کی وضاحت و تشریح

              26۔(تھوڑی دیر ہوئی تھی جو ایک غول ہندوستانیوں کا………وہ مرزا رفیع سودا تھے)

              مرقع: شاعری کی کتاب، گلدستہ: اشعار،وجد: جھومنا، مشاق: محبت کرنے والے

              ٭اس پیراگراف میں آزاد ہندوستان کے شاعروں کا ذکر کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پھر بہت سارے ہندوستانی شعراء کا ایک غول آیا ،کسی کی بغل میں اس کی شاعری کی کتاب یا دیوان تھا، کوئی اپنے چند اشعار لئے جھومتا چلا آرہا تھا اور اپنے اشعار پڑھ رہا تھا۔دربا ر میں جانے کے لئے چند کا انتخاب ہوا،ان میں ایک شاعر مرزا رفیع سودا بھی تھے۔(مرزا محمد رفیع سودا قصیدے کا نقاش اوّل، اردو زبان کے باکمال اور قابل قدر شاعر،تمام اصناف پر طبع آزمائی کی،43 قصیدے ،4ہجویہ قصیدے،اعلیٰ درجے کے مراثی،مثنویاں،رباعیات، قطعات، واسوخت ، شہر آشوب وغیرہ وجود میں آئے۔زندہ دل اور شگفتہ طبیعت،اردو کے پہلےطنز نگار  اورہجو گو شاعر تھے۔  ان کے کلام میں جدت اور الفاظ و تراکیب میں ندرت پائی جاتی ہے،روانی و برجستگی، شوکتِ الفاظ،نئی اور عمدہ  تشبیہات و استعارات کے علاوہ مضمون آفرینی کے عمدہ نمونے بھی ملتے ہیں۔اپنی جدت پسند ی سے نئے پھول کھلا دئےہین، کہیں فلسفہ و حکمت، سیاسی و معاشرتی حالات کا بھرپور نقشہ، تہذیبی زوال پر ماتم، ہنسی کی تہہ میں اشکوں کا طوفان  ملتا ہے  )ان کی شاعری مختلف موضوعات پر ہے،یہ شعر کہتےاور لوگ داد دیتے جاتے تھے، کچھ اشعار غم سے بھرے ہوئے تھے جو سننے والوں کو اداس کر دیتے تھے مگر اس کے باوجود  لوگ ان کے سارے کلام کی بہت قدر کرتے تھے۔اسی لئے دربار میں ان کو اچھی جگہ دی گئی۔ 

              • پیراگراف کی وضاحت و تشریح

                27۔(میرؔ بد دماغی اور بے پروائی سے آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھتے تھے۔…..بھنگ کا سونٹا کندھے پر۔)

                بد دماغی: بد مزاجی،بے پروائی: اپنی مرضی کا مالک ہونا،بے بقائی: فنا، بھنگ کا سونٹا : بھنگ پیسنے والا ڈنڈا

                ٭دربار میں داخل ہونے والے مختلف شاعروں  میؔر، درؔد، میر حسؔن اور میر انشاؔ اللہ خان کا ذکر کرتے ہوئے آزاد ان کا احوال بھی بیان کرتے ہیں(میر تقی میؔر: اردو غزل کے شہنشاہ،خدائے سخن،اٹھارویں صدی کے منفرد شاعر،ان کی زندگی رنج و الم سے بھری ہوئی تھی،نازک مزاج،بد دماغ  اور تند مزاج تھے۔ اپنے سوا کم ہی کسی کو خاطر  میں لاتے تھے۔میر دردؔ: صوفیانہ شاعری کے امام، درد کا کلام سراپا درد و اثر ہے،کلام میں الفتِ الہیٰ،توکل ،تسلیم و رضا،ترکِ دنیا،دنیا کی بے ثباتی پائی جاتی ہے۔میر حسنؔ: میر غلام حسن نام،بہترین مثنوی  ‘ سحر البیان’ کے خالق اور مرثیہ نگار۔میر انشا ؔ اللہ خان:  بے چین اور سیماب صفت،منفرد اور جدت پسند شاعر،غزل،ریختی ،قصیدہ اور بے  نقط دیوان،رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا،لکھنوی تمدن کا نمائندہ،حاضر جوابی ،بذؒہ سنجی۔ ) کہ جب میر تقی میرؔ داخل ہوئے تو ان کا نداز بے نیازانہ سا تھا۔اپنے مزاج کے مطابق میرؔ اپنے علاوہ کسی کو شاعر نہیں مانتے تھے اسی لئے وہ کسی کی جانب نہیں دیکھ رہے تھے ،شعر پڑھتے اور داد کا انتظار بھی نہیں کرتے تھے۔درد داخل ہوئے تو ان کے کلام میں دنیا  کی بے ثباتی ایک درد ناک ماحول پیدا کر رہی تھی۔میر حسنؔ اپنی مثنوی سحر البیان کی سحر بیانی سے پرستان کا نقشہ کھینچ رہے تھے۔جبکہ میر انشا ؔاللہ خان اپنے کلام میں نئے نئے موضوعات  پیش کر رہے تھے۔کبھی ایک متقی عالم اور کبھی نشہ کرنے والےلگ رہے تھے۔

                پیراگراف کی وضاحت و تشریح

                28-(جرأت کو کوئی خاطر میں نہ لاتا تھا….سب واہ واہ اور سبحان اللہ کہتے رہ گئے۔)

                خاطر میں نہ لانا: پروا نہ کرنا ،تان اُڑانا: مراد شعر سنانا، چشم آشنا: دیکھی بھالی،دیرینہ سال: بوڑھا،ملک الشعراء: شاعروں کا سردار

                ٭آزاد اس پیرا میں جراۤتؔ، ناسخؔ، آتشؔ، مومنؔ، میر امن، رجب علی بیگ سرور ، ذوق ؔاور غالبؔ کا ذکر کر رہے ہیں۔(شیخ قلندر بخش جراۤت:اصلی نام یحیٰ امان،موسیقی میں مہارت،غزل کا بنیادی موضوع حسن و عشق کی شاعری،مشاعروں میں ذیادہ داد وصول کرتے۔امام بخش ناسخؔ:لکھنوی شاعر،اصلاحِ زبان،نئے الفاظ و استعارں کا استعمال،خارجی آرائش کی وجہ سے معنوی حسن متاثر ہوا۔خوجہ حیدر علی آتش،مصحفیؔ کے شاگرد،لکھنؤ کا نمائندہ شاعر،آتش اور ناسخ میں معاصرانہ چشمک تھی،ان کی شاعری رجائی اور قوت سے بھر پور ہے۔مومن خان مومن:دبستانِ دہلی،غالبؔ کے ہم عصر،غزل کے شاعر۔غالبؔ ایک شعر پر دیوان قربان کرنے کو تیار ہو گئے۔میر امن دہلوی: فورٹ ولیم کالج سے وابستہ،جدید اردو نثر کے بانی،قصہ ‘چہار درویش ‘ کا ترجمہ نثر میں ‘باغ و بہار’کے نام سے  لکھا۔مرزا رجب علی بیگ سرور:دبستانِ لکھنؤ کے نثر نگار،’فسانہ عجائب ‘ کے خالق،یہ میر امن کی باغ و بہار کا جواب تصور کی جاتی ہے،سرور کے غالب کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔شیخ  محمد ابراہیم ذوقؔ:اردو کا بڑا قصیدہ نگار،خاقانی ہند اورملک اشعراء  کا خطاب ملا،غالب سے معاصرانہ چشمک۔نجم الدولہ،دبیراملک،مرزا نوشہ اسداللہ خان غالبؔ:اردو زبان کے بڑے شاعر،نئے نئے موضوعات ،تخیل کی بلندی،فلسفیانہ خیالات،منطقی و استدلالی بیان،متنوع موضوعات کو شاعری کے سانچے میں ڈھالا )جب جراۤت دربار میں داخل ہوئے تو کسی نے توجہ نہ دی لیکن جب انہوں نے اپنا کلام سنایاتو سب داد دینے لگے،ناسخؔ کے کلام کے  مختلف موضوعات سب نے پسند کئے لیکن اکثر موضوعات غور طلب بھی تھے،آتش ؔ کے ساتھ معاصرانہ چشمک بھی ان کی جان جلاتی رہی۔میر امن شاہی درباریوں جیسا لباس پہنے لاٹھی کے سہارےداخل ہوئے۔ان کے ہاتھ میں قصہ چہار درویش کا ترجمہ ‘باغ و بہار’ تھا،انکے  پیچھے لکھنؤ کے بانکے رجب علی بیگ سرور  ‘فسانہ عجائب ‘لئےداخل ہوئے۔ذوقؔ کے آنے کو سب نے پسند کیا۔انہوں نے سب کو سلام کیا ،سوداؔ نے ان کے سر پر شاعری کا تاج رکھا۔ غالب ان کے پیچھے آئے مگر کسی لحاظ سے کم نہ تھے۔انہوں نے اپنا دیوان سنایا تو سب معترف ہوگئے، بہترین اسلوب اور منفرد موضوعات کی وجہ سے سب لاجواب ہوکر رہ گئے۔سب کو دربار میں جگہ مل گئی۔

                پیراگراف کی وضاحت و تشریح

                29-(اب میں نے دیکھا کہ فقظ ایک کرسی خالی ہے……مُردوں میں سے زندوں تو آیا)

                قیل و قال: بحث، ہادی: رہنما، ہمدم: ساتھی،

                ٭مصنف اس پیرا میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ہال کی تمام کرسیاں بھر چکی ہیں مگر ابھی صرف ایک کرسی خالی ہے۔اتنے میں آواز آئی کہ آزاد کو بلاؤ۔پھر مختلف طرح کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔کوئی کہتا تھا کہ اس کے مزاج کا پتہ نہیں، وہ شاید یہاں بیٹھنا پسند نہ کرے۔ کوئی کہتا کہ بہت سادہ ہے جہاںبٹھاؤ گے وہیں بیٹھ جائے گا۔کچھ کہنے لگے کہ اس کے قلم نے بہت سے لوگوں کو ناراض کر رکھا ہے، اسے دربار میں جگہ نہیں ملنی چاہیئے۔جب بحث حد سے بڑھی تو میں نے چاہا کہ چہرے سے نقاب الٹ کر آگے بڑھوں اور کچھ کہوں ؛لیکن فرشتۂ   رحمت نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔وہ اس وقت  وہاں میرا ساتھی اور رہنما تھا۔اس نے میرے کان میں چپکے سے کہا کہ ابھی تمہارا آگے بڑھنا مناسب نہیں ہے۔اسی اثنا میں میری آنکھ کھُل گئی۔میں تمام جھگڑے کو بھول گیا کہ دربار میں کرسی ملی یا نہ ملی۔خدا کا شکر ادا کیا کہ  اُن مُردوں سے نکل کر زندوں میں تو آیا۔

                اختتام

                مشقی سوالات

                درج ذیل جملے کس شاعر یا ادیب کے بارے میں کہے ہیں؟

                • کوئی سمجھا اور کوئی نہ سمجھامگر سب واہ واہ اور سبحان اللہ کرتے رہ گئے۔ ( غالب)
                • اپنی سحر بیانی سے پرستان کی تصویر کھینچتے تھے۔ ( میر حسن۔مثنوی سحر البیان)
                • اس کے قلم نے یک جہان سے لڑائی باندھ رکھی ہے۔ (محمد حسین آزاد)
                • لیکن چار خاکسار اور پانچواں تاجدار ان کے ساتھ تھا۔ ( میر امن دہلوی۔قصہ چہار درویش)
                • ایک لکھنؤ کے بانکے پیچھے پیچھے گالیاں دیتے تھے۔ (مرزا رجب علی بیگ سرور)
                • جس کے کپڑوں سے لہو کی بو آئے وہ قصاب ہے۔ (چنگیز خان)
                • اِس سرے سے اُس سرے تک ایک گردش کی اور چلے گئے۔ (حافظ شیرازی)
                • رنگ زرد تھا اور شرم سے سر جھکائے تھا۔ ( بادشاہ دارا)
                • قیافہ روشن اور چہرہ فرحتِ روحانی سے شگفتہ نظر آیا۔ ( سقراط)
                • ہندوستان کے بہت سے گراں بہا زیور اس کے ہاتھ میں تھے۔ ( محمود غزنوی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *