سبق : مثالی طالب علم کون؟
نئے الفاظ کے معنی
- منھ تکنا: حیران ہوکر دیکھنا
- حد درجہ: بہت زیادہ
- متفق ہونا: ہم خیال ہونا
- خوش الحانی: خوب صورت آوز سے
- منظم کرنا: تریب درست کرنا
- معمولات: روز مرہ کے کام
- مشعلِ راہ: راستے کی روشنی مراد رہنما
- بہ حسن و خوبی: اچھی طرح سے
- اثاثہ: سرمایا
- لگاتار: مسلسل
مرکزی خیال
مثالی طالب علم اپنا ہر کام وقت پر کرتے ہیں۔ پڑھائی کے وقت پڑھائی اور کھیل کے وقت کھیلتے ہیں۔یہ اپنا وقت بالکل ضائع نہیں کرتے۔وہ نصابی ، ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ ہم دردی کا رویہ اپناتے ہیں۔بڑوں کا احترام اور ادب کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ سے اپنا ایک مضبوط تعلق بناتے ہیں۔جو طلباء مثالی طالب علم ہوتے ہیں وہ مستقبل میں بھی اپنی ذاتی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں۔بے شک ایسے طلباء قوم کا قیمتی سر مایہ ہوتے ہیں۔
سوالات کے مختصر جوابات
1۔عبداللہ کون تھا؟
عبداللہ اسکول کا ہیڈ بوائے تھا۔ وہ جماعت دہم کا ایک ہونہار طالب علم تھا۔
2۔تمام طلباء عبداللہ کی کن خوبیوں کی بنا پر اس کا بہ طور مثالی طالب علم انٹرویو کرنے پر متفق ہو گئے؟
عبداللہ صاف ستھرا یونی فارم پہنتا تھا، ہمیشہ حاضر رہتا ، سب کی مدد کرتا ، اساتذہ کا احترام کرتا ، پورے اسکول میں سب سے زیادہ نمبر لیتا ، ہاکی ٹیم کا کپتان تھا۔وہ قرآن حفظ کر رہا تھا اور اس کے ساتھ خوش الحان قاری بھی تھا۔
3۔ عبداللہ نے طلباء میں اپنے مقبول ہونے کی کیا وجہ بتائی؟
عبداللہ نے طلبا میں مقبول ہونے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ ہمیشہ اپنے ساتھی طلبہ سے محبت سے پیش آتا ہے، ان سے ہم دردی کرتا ہےاور ان کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔
4۔عبداللہ نے کامیابیوں کے بارے میں کیا خاص باتیں بتائیں؟
عبداللہ نے اپنی کامیابیوں کے بارے میں خاص بات یہ بتائی کہ بڑوں کا ادب و احترام نہ صرف مثالی طالب علم بل کہ مثالی انسان بنا دیتا ہے۔اسی طرح کامیابیوں میں سب سے بڑا ہاتھ اللہ سے تعلق کا ہے۔ اللہ سے دعا مانگنا اور اپنے تعلق کو مضبوط رکھنا کامیابی کی ضمانت ہے۔
5۔سر اشفاق نے عبداللہ کے تعارف میں جو شعر شامل کروایا اس کا مفہوم دو سے تین جملوں میں لکھیے۔
علامہ اقباؔل فرماتے ہیں کہ عقابی روح یعنی بلند ہمتی جیسی خوبی جب نوجوانوں میں پیدا ہو جاتی ہے تو اپنی منزل ِ مراد کی معراج کو چھو لیتے ہیں۔ یہ شعر علامہ اقبالؔ کے شعری مجموعے ‘ بالِ جبریل ‘ کی ایک نظم ‘ ایک نوجوان کے نام’ سے لیا گیا ہے۔