ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

جھوٹے آدمی: مولوی ذکاء اللّٰہ۔(تعارف،مرکزی خیال،جوابات،معروضی)

تاریخ: September 1, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

جھو ٹے  آ د می  ۔  مو لو ی  ذ کا  ا للہ

تعا ر ف مصنف

  • مولوی ذکا اللہ 1832ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔
  • آپ ریاضی، اردو اور فارسی کے معلم رہے۔
  • آپ سر سید احمد خان کی تحریک کے اہم رکن تھے۔
  • آپ نے زندگی کا بیشتر حصہ تصنیف و تالیف میں گزارا اور کئی اصلاحی مضامیں لکھے۔
  • آپ کی تحریروں سے حقیقت پسندی جھلکتی ہے۔
  • آپ نرم مزاج، وسیع اخلاق، منکسرالمزاج،روشن دماغ،متنوع معلومات، خیر خواہ عامہ خلق ، فیاض طبع اورصلح کُل تھے۔
  • تصانیف : تا ریخِ ہندوستان ،  کرزن  نا مہ ، آئینِ  قیصری  وغیرہ ۔

مرکز ی  خیا ل

مولوی ذکااللہ نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ جھوٹ چاہے کسی قسم کا ہو قابلِ مذمت ہے۔اس برائی سے فساد کا دروازہ کھل جاتا ہے۔جب یہ برائی انفرادی سطح سے اجتماعیت کی طرف سرائیت کرتی ہے تو معاشرے اور قومیں تباہ و برباد ہوکر رہ جاتی ہیں۔مصنف   نے جھوٹے لوگوں کی اقسام اور خصلتیں بیان کی ہیں۔مصنف  کہتے ہیں کہ  انسانوں میں رشتہ بندی زبان کی وجہ سے ہے۔اس سے وہ میل ملاپ بڑھائے اورخوشی غمی میں شریک ہو۔

 

 

ا ہم  مشقی  سو ا لا ت  کے  جو ا با ت

1۔      جھوٹے آدمی کے حافظے کے بارے میں مولانانے جو ضرب المثل بیان کی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ  جھوٹے آدمی کا حافظہ نہیں ہوتا۔ہر جھوٹ بولنے والا کچھ عرصہ بعد ہی اپنی جھوٹی بات بھول جاتا ہے۔اور جب کسی دوسرے موقعے پر وہی بات دہراتا ہے  تو اسے اپنا جھوٹ یاد نہیں رہتا ۔اس لئے وہ غلط بیانی کر دیتا ہے۔

3۔     مصنف نے جھوٹوں کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔پہلے وہ جو جھوٹی بات کہہ کر اُسے دل سے سچا مانتے ہیں۔جبکہ دوسرے جھوٹے وہ ہوتے ہیں جو اپنی کہی ہوئی جھوٹی بات کو دل سے بھی جھوٹا ہی مانتے ہیں۔ان کا مقصد ہوتا ہے کہ لوگ اسے سچا مانیں۔

5۔     جھوٹ سے سچ کا جاننا اس لئے مشکل ہوتا ہےکہ جھوٹا بڑی مہارت سےجھوٹ بولتا ہے کہ اس پر سچ کا گمان ہوتا ہے۔اور لوگ اس پر اعتبار کرلیتے ہیں۔

7۔      جھوٹا آدمی دل سے اپنی بات کو سچ مانتا ہے۔بعض لوگ فائدے کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں۔کچھ لوگ عادتاً ہر بات پر جھوٹ گھڑ لیتے ہیں۔کچھ موقع محل کی مناسبت سے جھوٹ بولتے ہیں۔ایسے لوگوں میں ذیادہ تر  تاجر طبقہ اور اہلِ پیشہ لوگ شامل ہوتے ہیں۔شعراء بھی اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

معر وضی  سو ا لا ت

  • سبق ٗ جھوٹے آدمیٗ کتاب محا سن  ا لا خلا ق  سے لیا گیا ہے۔
  • آ ئینِ قیصر ی    ٗ   مولوی  ذکا ا للہ  کی کتاب ہے ۔
  • ٗدروغ گو  را  حافظہ  نبا شدٗ    فارسی  زبا ن کی  ضرب  المثل  ہے ۔
  • مولوی ذکا ا للہ کو ریاضی  کا مضمون  بہت  پسند  تھا ۔
  • تمام قوائے  عقلیہ  کا  دیوتا   حافظہ کو  کہا  گیا  ہے ۔
  • حا فظہ تما م   ملکا تِ  نفسا نی  کا  رئیس  ہے ۔
  • بچوں کو  جھوٹ کے  علاو ہ   سرکشی   پر  سزا  دینی  چاہئیے ۔
  • و کلا ء جھو ٹ  کی  بنیا د  پر  مقد ما ت  لڑتے  ہیں ۔
  • نطق سے  مرا د  بو لنا  ہے ۔
  • تمام قوائے  عقلیہ  کا  دیوتا  حا فظہ کو   ا فلاطون  نے  قرا ر  دیا ۔

 (مرتب  کنند ہ  :  شا کر ہ  کا ظمی  )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *