قواعد ۔ تلخیص نگاری
تلخیص نگاری
اسے تلخیص نگاری / مختصر نگاری / خلاصہ نگاری کہتے ہیں ۔ یہ ایک باقاعدہ فن ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی طویل تحریر یا لمبے مضمون کے غیر اہم حصوں کو نکال کر اصل مفہوم بیان کرنا۔
وقت کی کم یابی کی وجہ سے مختصر نویسی یا تلخیص نگاری کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔اس کے ذریعے غیر ضروری تفصیلات سے بچ جاتے ہیں اور اپنا نقطۂ نظر مختصر ، سادہ اور جامع الفاظ میں بیان کر دیتے ہیں ۔
تلخیص نگاری کے اہم اصول
- ذخیرۂ الفاظ کی وسعت خلاصہ نگاری کی اولین شرط ہے۔
- پیرا گراف کو تین چار مرتبہ غور سے پڑھنے کے بعد مرکزی خیال سمجھنے کی کوشش کریں۔
- اہم نکات نوٹ کرلیں۔
- عبارت کا مفہوم اپنے الفاظ میں جامع او ر سادہ الفاظ میں لکھیں ۔
- اپنی رائے ، اضافہ یا تنقید سے گریز کریں ۔
- سوالیہ اور ندائیہ جملوں کو سادہ جملوں میں بدل دیں ۔
- پیرا میں دیئے گئے نکات کی ترتیب نہ بدلیں ۔
- تلخیص ایک پیرا گراف کی صورت میں لکھیں ۔
- تلخیص دئیے گئے پیرا گراف کا 1/3 یعنی ایک تہائی ہو۔
- تلخیص شدہ پیرائے کا موزوں عنوان ضرور تحریر کیجئے۔
الفاظ میں خلاصہ نگاری
- اللہ کی عبادت کرنے والا : عابد
- قدیم رسموں کی پیروی کرنے والا : قدامت پسند
- سلطنت سنبھالنے والے : ارباب ِ اختیار
- دل کو پگھلانے والا : دل گداز
- وہ شے جو بطور برکت لی جائے : تبرک
- دو گروہوں کے دمیان صلح کرانے والا : ثالث
- اسلامی حکومت میں رہنے والی غیرمسلم رعایا : ذمی
- ہر وقت گِلے شکوے کرنے والا : شاکی
- سبزی بیچنے والا : کنجڑا
- وہ شخص جو کسی کے مال میں خیانت کرے : خائن
جملوں میں خلاصہ نگاری
1۔ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی نازل کردہآسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے ۔
تلخیص : قرآن آخری الہامی کتاب ہے ۔
2 ۔ قائد اعظم ایک ایسے رہنما ہیں ، جنہوں نے تارخ کے دھارے کو موڑ کر اُسے ایک نیا رخ عطا کیا ۔
تلخیص : قائد اعظم ایک تاریخ سا ز شخصیت ہیں ۔
3 ۔ موت زندگی کی ایک ایسی بڑی حقیقت ہے جس کا سامنا ہر ذی روح کو کرنا ہے۔
تلخیص : موت ا ٹل ہے ۔
4۔ اس نے دنیا و مافیا سے قطع تعلق کرلیا ہے اور فقیر بن کر جنگلوں صحراؤں میں نکل گیا ہے ۔
تلخیص : وہ تارک الدنیا ہو گیا ہے ۔
5۔ زبیدہ کے ماں باپ بہت خوش خُلق ، غم گسار ، مہربان اور ہمدرد تھے۔
تلخیص : زبیدہ کے والدین بہت نیک تھے ۔
6 ۔ ا نتظامی صلاحیت رکھنے کے علاوہ رضیہ سلطانہ بڑی عقل مند ، ذی فہم اور ذہین بھی تھی اور ذرا غور کرتے ہی فورا! ہی بات کی تہہ تک پہنچ جاتی تھی ۔
تلخیص : رضیہ سلطانہ اچھی منتظم اور معاملہ فہم عورت تھی۔
پیرا گر ا ف کی تلخیص نگا ر ی
تعلیم جتنی اب عام ہے پہلے کبھی اتنی نہ تھی۔ غریب سے غریب لڑکا بھی کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن تمام آسانیوں کے باوجود تعلیم کا معیار بہت پست ہوگیاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلباء تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتے۔ کچھ لڑکے تو سرے سے پڑھتے ہی نہیں ۔ کچھ امتحان کے نزدیک امدادی کتب خرید کر چند سوال رٹ لیتے ہیں ۔ اگر خوش قسمتی سے یہ سوال امتحان کے پرچے میں آجائےتو ان کی کامیابی یقینی ورنہ فیل۔
عنوان : تعلیم سے بے تو جہی :
تلخیص : تعلیم عام ہونے کے باوجود عام نہ ہوسکی بلکہ اس کا معیار اور بھی گر گیا۔ اس کی وجہ طلباء کی بے توجہی اور غیر معیاری کتابوں کو امتحان کے آخری دنوں میں رٹنا ہے۔
( مرتب کنندہ : شاکرہ کاظمی )