روداد نویسی / ر پو رٹ نگاری
رودا د کے معنی کاروائی کے ہیں ۔ کسی شخص کے ذاتی مشاہدے اور حا لات و وا قعات کی تفصیل کو روداد کہتے ہیں ۔ آنکھو ں دیکھا حال تحریر کرنا بھی روداد کہلاتا ہے ۔ روداد عدالتی کاروائی یا مقدمے کی کیفیت کو بھی کہتے ہیں ۔کسی جلسے ، مشاعرے ، اور ادبی محفل کی صورت میں جو کچھ پیش آئے ؛ اُ سے قلم بند کرنے کو بھی روداد کہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ حادثات و واقعات کا آنکھوں دیکھا حا ل تحریر کرنا بھی روداد ہی کہلاتا ہے ۔
روداد نویسی کی اقسام
1 ۔ تا ثراتی روداد : اگر کسی محفل یا تقریب کا ذکر کیا جائے تو اس کا انداز واقعاتی ہوتا ہے ۔ اسے تا ثراتی رپو ٹ کہا جا تا ہے ۔
2 ۔ اخباری رپوٹ : کسی ا خباری رپورٹر کا کسی واقعے کا اجمالی جائزہ اپنے اخبار کے ذریعے شائع کرنا اخباری روداد کہلاتا ہے ۔
3 ۔ سکریٹری کی رو د ا د : کسی تقریب کی کار وائی کو تحریری صورت میں پیش کر نا سکریٹری کی روداد کہلاتا ہے ۔
روداد نویسی کا طریقۂ کار
آسان زبان : روداد لکھتے وقت آسان زبان استعمال کرنی چاہیئے ۔ یہ ایک کہانی جیسی چیز ہو تی ہے ۔
حقائق نگاری : روداد لکھتے وقت حقائق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے ۔ یہ در اصل واقعات کی تفصیل کا ریکارڈ ہے ۔
اصل الفاظ : کسی تقریب میں شامل مقررین اور حاضرین کے اصل الفاظ کو ہی ریکارڈ کرنا چاہیئے ۔ کیوں کہ الفاظ کی تبدیلی سے مفہوم بدل جاتا ہے ۔اس میں ذاتی تا ثرات کو شامل نہیں کر نا چاہیئے ۔
وسیع تر ادبی ذوق : تاثرات کی نوعیت وسیع تر ادبی اور تنقیدی ذوق ، تخلیقی اور تخقیقی رویّو ں کی ترجمان ہونی چاہیئے ۔
جا معیت : تقریب کا ذکر تقریب کا ذکر مختصر اور جامع ہونا چاہیئے ۔ غیر ضروری تفصیل سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔
متعلقہ شخصیات کا ذکر : تقریب میں شامل شخصیات کا ذکر واضح انداز میں کرنا چاہیئے ۔
تلاوت کلام پا ک کا ذکر : تلاوت ، جلسے کے صدر کی اجازت ، آغاز اور اختتام بھی روداد کا ضروری حڈہ ہے ۔تاریخ ، مقام اور وقت کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے ۔
واقعات کی ترتیب و تسلسل : روداد میں واقعات کی ترتیب و تسلسل کا خیال رکھنا چاہیئے ۔ آغاز سے انجام تک واقعات کو اسی ترتیب سے لکھیں جس ترتیب سے وقوع پذیر ہوئے ہوں ۔
روداد نویسی کے لئے اہم مو ضوعات
- کالج میں جلسہ تقسیم اسناد / انعامات / ذہنی آزمائش کے مقابلوں کا انعقاد کی رودا د
- کسی مشاعرے کا آنکھوں دیکھا حال / ادبی تقرب کی رودا د
- کرکٹ کا میچ /کھیلو ں کے سالانہ مقابلو ں کی رودا د
- ایک دلچسپ مباحثے کی رودا د
- یوم قائد اعظم / اقبال کی تقریب کی رودا د
- کسی روڈ ایکسیڈنٹ / زلزلہ/سیلاب کی رودا د
- کسی سفر/تاریخی مقام کی سیر/ساحل سمندر پر پکنک کی رودا د
- کالج میں دی جانے والی سہولیات پر رپورٹ
(مرتب کنند ہ : شاکرہ کاظمی )
نمونے کی روداد: لاہور کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت
17 اپریل 2021
لاہور صوبہ پنجاب کا دارالحکو مت ہے ۔ اپنی تاریخی اہمیت کے پیش ِ نظر اس شہر کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ اس شہر کے خوب صورت باغات اور تاریخی عمارات ہر خاص و عام میں مقبول ہیں ۔ شالا مار باغ ، شاہی قلعہ ، باغ ِ جناح ، بادشاہی مسجد ، مینار ِ پاکستان اور دیگر بے شمار مقامات یہاں آنے والے سیا حو ں کی توجہ کا مر کز بنے رہتے ہیں ۔
موجودہ لاہور جدید اور قدیم مقامات کا حسین امتزاج ہے ۔ شہر میں بسائی جانے والی جدید بستیاں اور اندرون ِ شہر کا علاقہ لاہور کی ثقافت میں رنگا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ ایسا ممکن نہیں کہ کوئی لاہور آئے اور انار کلی بازار کا رخ نہ کرے ۔ انار کلی کو لاہور کا دل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ اس بازار کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت یہا ں کی رونق ہے ۔ صبح ہو یا شام ، یہا ں خریداروں کا تانتا بندھا رہتا ہے ۔
لاہور کے کھانوں کا ذکر نہ کیا جائے تو بات ادھوری رہ جائے گی ۔ عام خیال یہی ہے کہ شاید ہی دنیا کا کوئی اور شہر کھانے پہنے کے معاملے میں لاہور کا مقابلہ کر سکے ۔لاہور کے پُر تکلّف دیسی کھانے اپنے ذائقے اور لذّت کی بدولت ہر دل عزیز ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ شہر کی متعدد جگہوں کو ” فوڈ اسٹریٹ ” کا درجہ دے کر صرف کھانے پینے کے لئے مخصوص کرد یا گیا ہے ۔ لاہور کی ایک اور وجۂ شہرت زندہ دلان ِ لاہور ہیں ۔لاہور کے لوگ ہر اہم موقع کو اس کی مناسبت سے اپنے منفرد انداز میں مناتے ہیں ۔لاہور میں چند روز قیام کے بعد ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ
لاہور لاہور اے یا جِنّے لاہور نئی ویکھیا او جمیّا ای نئیں
رپور ٹر ،
ا۔ب۔ج