ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

خلاصہ : آزادی کی راہ میں خدیجہ مستور

تاریخ: September 8, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, مصنفین کے تعارف

خلاصہ : آزادی کی راہ میں

خدیجہ مستور

تعارف ِ مصنفہ :                اردو افسانہ نگاری اور ناول نگاری  میں خدیجہ مستور کا نام بڑا نمایاں نظر آتا ہے ۔آپ سجاد حیدر یلدرم کی بیٹی تھیں ۔ ادب کا ذوق ورثہ میں ملا تھاَ۔آپ نے بہت سے افسانے اور ناول لکھے۔ ناول ” آنگن ” پر آدم جی ادبی انعام ملا ۔ ان کے ناولوں میں محبت کے سوتے پھوٹتے نظر آتے ہیں ۔ان کے کرداروں میں زندگی کی حقیقی تصویر نظر آتی ہے ۔جزئیات نگاری پر انہیں مکمل عبور حاصل تھا ۔ان کی تحریروں میں وسعت و گہرائی  اور زبان سادہ و آسان نظر آتی ہے ۔آپ کئی رسائل کی مدیر بھی رہیں ۔

خلاصہ  :              سبق ” آزادی کی راہ میں ” خدیجہ مستور کے ناول ” آنگن” سے ماخوذ ہے ۔ اس ناول کا مرکزی کردار  ” عالیہ ” ہے  ۔ اس کی زبانی اس کے والد کی داستان بیان کی گئی ہے ۔اس کے والد ایک دفتر میں ملازم تھے۔انھیں اطلاع ملی کہ ان کاافسر معائنے کے لئے آنے والا ہے ۔وہ اس کے استقبال کی تیاریوں میں لگ گئے ۔دفتری معاملات کے ساتھ انھیں ڈاک بنگلے کا بھی انتظام کرنا تھا۔گھر سے میز پوش اور گلدان منگوایا گیا ۔عالیہ کی ماں نے ان کی مصروفیات دیکھ کر طنز کیا  کہ ویسے تو انگریزوں کو خوب بُرا بھلا کہتے ہو  اور اب خوشامد میں لگے ہوئے ہو۔ اس طنز کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ گھر سے دور ہوتے چلے گئے۔ لیکن اماں کو اس کی بالکل پرواہ نہ تھی۔ ابا رات کو گھر لوٹے تو عالیہ سے رات کے کھانے کے اچھے انتظام  کا کہا۔ اماں نے پھر طنز کیا۔ عالیہ کو یہ بات بالکل اچھی نہ لگی ۔ اسے اپنے ابا پر رحم آنے لگا ۔اس نے ماں کے ساتھ مل کر بہت سا کھانا بنایا۔ اتنے میں چپڑاسی بھاگتا ہوا آیا اور اطلاع دی کہ ابا کا انگریز افسر سے جھگڑا ہو گیا۔ انھوں  نے افسر کا سر پھاڑ  دیا ہے ۔پولیس انھیں پکڑ کر لے گئی ہے ۔تھوڑی دیر میں رائے صحب آ گئے ۔ امں نے انھیں ماموں جان کا پتہ دیا کی انھیں بلوا لیں  ؛ مگر عالیہ نے خاموشی سے چچا جان کا پتہ بھی دے دیا۔ ماموں  نے اس سلسلے میں کسی بھی مدد سے انکار کر دیا کہ یہ سنگین جرم ہے  اور مدد کرنا  خطرے سے خالی نہیں۔ اماں نے یہ بات چھپانی چاہی  مگر اس نے یہ بات سن لی۔ چچا جان نے آکر سب کے سروں پر ہاتھ رکھا  اور سب کو اپنے ساتھ لے آئے، انگریزوں  کو بھی خوب برا بھلا کہا ۔رات اُسے بار بار  والد کا خیال آتا رہا ۔اس کے سر میں درد ہو گیا ۔اس نے سوچا کہ کاش اسے نیند آجائے  یا صبح ہ ہو جائے ۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *