نیا قانون
سعادت حسن منٹو
نئے الفاظ کے معانی
- آہنی چھت : لوہے کی چھت
- پیش خیمہ : نتیجے سے پہلے والی صورت
- ٹوڈی بچہ: خوشامدی
- بیاج: سود
- تنفر: نفرت/بیزاری
- خیرہ کُن: حیران کرنے والا
- طبیعت مکّدر رہنا: ظبیعت خراب رہنا
- ملعون: لعنتی/دھتکارا ہوا
- رعونت: تکبر/غرور
افسانہ تماشا
اس افسانے میں حاکمیت کی ہر حال میں اندھی حکمرانی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔اس افسانے کا مرکزی کردار ایک بچہ خالد ہے۔ سنسان بازار ہیں ، پولیس گشت کر رہی ہے،ایک ہولناک سماں ہے۔طیاروں کے ذریعے کاغذ کے ٹکڑے پھینکے گئے جس پر لکھا تھا کہ شہر میں کسی کو جلسہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ورنہ نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہونگے۔ خالد کے والد خوفزدہ ہوگئے۔ اس کے پوچھنے پر بتایا کہ شام کو ایک تماشا ہوگا۔خالد اس میں جانے کی ضد کرتا ہے ، اسکا باپ اسکو ٹال دیتا ہے۔شام کو گولیاں چلنے کی آوازیں آتی ہیں۔ایک زخمی لڑکا خالد کے گھر کے سامنے گر کر بیہوش ہوجاتا ہے۔خالد کا باپ ایک آہ بھر کر کہتا ہے“آہ! موت بھیانک ہے مگر ظلم اس سے کہیں ذیادہ خوفناک اور بھیانک ہے“۔خالد رات کو سوتے وقت دعا مگتا ہے کہ اللہ اس ماسٹر کو سزا دے جس نے اس لڑکے کو پیٹا ہے اور خون نکالا ہے۔اُسے ڈر تھا کہ کہیں یہ چھڑی اس کے ماسٹر کے ہاتھ نہ آجائے۔
تبصرہ ( اجزاء اور ادبی محاسن):
1919 میں رونما ہونے والے جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام نے انقلابی منٹو کو بری طرح متاثر کیا۔ ان کے اکثر افسانوں میں اس کا اثر نظر آتا ہے۔منٹو کو لفظوں کا جادوگر مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں مکالموں سے بہت کام لیا ہے۔منٹو کے افسانےمواد ، اسلوب ، تیکنیک، عنوان تھیم کے اعتبار سے منفرد ہیں۔ منٹو کو تشبیہ ، استعارے، تضاد کے علاوہ لفظوں کی کفایت شعاری میں بھی کمال حاصل ہے۔جزئیات نگاری ، منظر نگاری ، پلاٹ ، کردار نگاری ، مکالمہ نگاری ا ن کے افسانوں کی خوبی ہے۔
الفاظ مترادف جملے
- خیال سوچ والدین اپنے بچوں کا بہت خیال رکھتے ہیں۔
- شجر درخت تازہ ہوا کے لئے ہر شخص کوشجر لگانا چاہیئے۔
- آغاز ابتدا ہر کام کا آغاز بسم اللہ سے کرنا چاہیئے۔
- آسان سہل کاروبار میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔
- پرانا قدیم سلیم صاحب کے گھر کا فرنیچر بہت پرانا ہے۔