ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

مسلمانوں کا قدیم طرزِ تعلیم۔شبلی نعمانی

تاریخ: September 6, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

مسلمانوں کا قدیم طرزِ تعلیم۔شبلی نعمانی

تعارف مولانا شبلی نعمانی :

  • شبلی نعمانی بیک وقت شاعر، مؤرخ، سوانح نگار،انشا پرداز، مفکر اور مصلح تھےَ
  • آپ کا شمار عناصرِ خمسہ میں ہوتا ہے۔
  • آپ اعظم گڑھ کے گاؤں بندول میں پیدا ہوئے۔
  • حصولِ تعلیم کے لئے دور دراز کے سفر کئے۔
  • کچھ عرصہ وکالت بھی کی۔
  • سرسید سے ملاقات کے بعد علی گڑھ کالج میں پروفیسر ہوگئے۔
  • علی گڑھ کالج سے علیحدگی کے بعد دارالمصنفین کی بنیاد رکھی جو اسلام اور اسلامیات کے لئے ممتاز تھا۔
  • آپ کا اسلوب اور طرزِ بیان منفرد تھا۔
  • تحریر میں روانی اور جوش، منطقی اور عقلی دلائل، استعارات و تشبیہات کا عمدہ استعمال اور جامع و مختصر عبارت ان کا خاصہ ہیں۔
  • آپ کو اردو کا پہلا مؤرخ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
  • سیرت النبیؐ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ ہے ، جسے آپ کے شاگرد سلمان ندوی نے مکمل کیا۔

تصانیف :  سیرت النبیؐ، الفاروق، المامون،الغزالی، شعرالعجم وغیرہ

مقالہ کی تعریف

   مقالہ لفظ قول سے نکلا ہے۔جس کے معنی ہیں بات یا گفتگو۔یہ عربی ، اردو اور پشتو کا لفظ ہے۔جو انگریزی لفظ مضمون کے لئے استعمال ہوتا ہے۔  کسی  خاص  موضوع  پر  ٹھوس معلومات کو یکجا  کرکے  علمی اور تحقیقی انداز میں  لکھنا جس پر اِس سے پہلے کسی نے کچھ نہ لکھا ہو  یا تسلی بخش نہ  لکھا ہو اور مزید لکھا جا سکتا ہو ؛مقالہ یا آرٹیکل کہلاتا ہے۔

                        اس کی دو اقسام ہوتی ہیں

1۔تخریجی مقالہ 

2۔تحقیقی مقالہ     

سبق کا تعارف

یہ سبق ایک مقالہ ہےجو ‘ مقالاتِ شبلی، جلد سوم ‘سے لیا گیا ہے۔

مصنف نے اس میں  مسلمانوں کی تعلیم کے تین ادوار کا احاطہ کیا ہے۔

1۔پہلے دور میں اُن علوم کا رواج تھا جن کا تعلق حافظے سے تھا

2۔ دوسرے دور میں نجی درس گاہوں کی بدولت تعلیم کو پھیلایا گیا

3۔ تیسرے دور  میں تعلیم کا باقاعدہ قانون بنایا گیا۔ یہ عثمانی دور تھا۔اس میں تعلیم و تدریس کے خاص قاعدے بنائے گئے۔

 

 

تعلیم کے تین ادوار

 پہلا دور: بعثتِ نبوی سے۔۔145 ھ تک

  • تعلیم کتابوں کے بجائے محض حافظے پر قائم تھی۔
  • تعلیم کا مدار سند و روایت تھا۔
  • تمدن و معاشرت کے ساتھ تعلیم میں وسیت پیدا ہوئی۔

دوسرا دور: 145ھ سے ساتویں صدی  ہجری کے نصف آخر تک

  • اسلامی حکومت کی وسعت
  • سرکاری سرپرستی کا نہ ہونا
  • عوامی کوششیں    ( مسجدوں کے صحن ، خانقاہوں کے حُجرے اور اُمراء کے دربار وغیرہ )
  • املاء کا طریقہ رائج تھا۔
  • اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے سفر کرنا  اور مناظرہ لازمی تھا۔
  • مذہب وتعلیم کے ساتھ لغت، معنی اور اسماء الرجال کے علوم رائج
  • کسی مقررہ نصاب کی پابندی نہ تھی ۔

 

تیسرا دور: سا تویں صدی   ہجری  کے نصف  آ خر  سے  لے  کر سلطنتِ  عثما نیہ  کے  زوا ل  ( تقریباَ َ 1330 ھ  تک  کے دورانیے  پر  مشتمل  )   تک

  • بہت سی خرابیا ں پیدا  ہوئیں۔
  • تعلیم کی خاص مدت طے کردی گئی۔
  • املاء کا طریقہ آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔
  • غیر ضروری علوم پر توجہ
  • کتابی تعلیم
  • درس و تدریس کے خاص قاعدے
  • مضامین کی کثرت
  • عمر کی حد مقرر کردی گئی۔
  • تعلیم کی رفتار سُست پڑ گئی۔
  • عملی تعلیم کا فقدان

سبق کے اہم نکا ت

  • 145  ھ تک مسلمانوں میں لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا،اس لئے ذیادہ تر علوم کا تعلق یاد کرنے سے تھا۔
  • پہلے دور میں نحو، معنی، لغت، فقہ، اصول، حدیث، اسما ء الرجال اور طبقات وغیرہ جیسے علوم کو رواج حاصل تھا۔
  • دوسرے دور میں ذیادہ تر نجی درس گاہوں کارواج تھا۔ایک ایک استاد کے درس میں ہزاروں طالب علم ہوتے تھے۔
  • ڈاکٹر سپرنگر کے مطابق دوسرے دور میں مسلمانوں کے اسماء الرجال میں پانچ لاکھ  مشہور عالموں کا ذکر ملتا ہے۔  اس دور میں مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں۔اگرچہ تاتاریوں کے حملے اور انقلابات سے بہت کچھ مٹ گیا ہے۔
  • دوسرے دور میں اعلیٰ تعلیم کے لئے دوردراز کا سفر کرنا اور اہلِ علم کی خدمت میں پہنچ کر فائدہ اُٹھانا ضروری سمجھا جاتا تھا۔اس کے علاوہ مناظروں میں شرکت بھی لازمی تھی۔
  • تعلیم کے لئے جداگانہ قانون سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں بنایا گیا۔جس میں تعلیم و تدریس کے لئے خاص قاعدے بنائے گئے۔جس میں تعلیم مکمل کرنے کے لئے ایک خاص مدت طے کردی گئی اور کتابی تعلیم کی بنیاد پڑی۔

کثیر ا لا نتخا بی سو ا لا ت

  • شبلی نعمانی کو اردو کا پہلا مؤرخ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
  • شبلی نے علی گڑھ سے علیحدگی کے بعد دارالمصنفین کی بنیاد رکھی۔
  • شبلی کا سب سے بڑا کارنامہ  سیرت النبیؐ ہے۔
  • عربوں کا ابتدائی طرزِ تعلیم سندوروایت تھا۔
  • عقلی علوم پھیلانے میں سلطنت نے چنداں زور نہ دیا۔
  • دوسرے دور میں مستند طریقہ تعلیم املاء کا تھا۔
  • املاء سے مراد ہے لیکچر دینا۔
  • اعلیٰ تعلیم کے لئے دوردراز کا سفر کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا۔
  • علماء کے مخصوص لباس کو طیلسان کہا جاتا تھا۔
  • مناظرے کا مطلب ہے بحث کرنا۔
  • منگول بادشاہ ہلاکو خان نے بغداد کو غارت کیا۔
  • ہلاکو خان نے بغداد کے تمام اوقاف محقق طوسی کے ہاتھ میں دیئے۔
  • وزارت کے کثیر الاشغا ل وقت میں بھی بُو علی سینا کی خدمت میں مستعد طلبہ کا ایک گروہ حاضر رہتا تھا۔

ا قتبا س  کی  تشریح  کا  طر یقہ

ا قتبا س :  ( یہ اعلیٰ تعلیم کے کئے دور دراز مسافتوں کا طے کرنا۔۔۔۔ ہمیشہ حیرت کی نگاہ سے دیکھتے          تھے۔)

حو ا لۂ  سبق  و  ما خذ  : سبق کا نام اور جس کتاب سے یہ سبق لیا گیا ہے اُس  کتاب کا نام۔

حوا لہ  و  تعا ر ف  مصنف : مصنف کا نام اور اس کا مختصر تعارف۔

سیا ق  و  سبا ق : تشریح کے لئے دیئے گئے اقتباس سے پہلے ہونے والے واقعات کا بیان۔

تشر یح :  دی گئی سطور کی اپنے الفاط میں وضاحت ۔

( مرتب کنندہ : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *