فاقہ میں روزہ ۔۔خواجہ حسن نظامی
تعارفِ مصنف
- خواجہ حسن نظامی کا پورا نام سید حسن نظامی تھا
- آپ کی ولادت بستی درگاہ خواجہ نظام الدین اولیا میں ہوئی۔
- علامہ اقباؔل نے انہیں خواجہ حسن نظامی کا نام دیا، اسی نام سے آپ مشہور ہوئے۔
- آپ نے ایک دین دار گھرانے میں پرورش پائی۔
- آپ نے رسالہ ْ پیسہ، مخزن،اور وکیل ٌ کے لئے لکھا۔
- آپ کا طرزِ تحریر سادہ، آسان، دلکش اور عام فہم تھا۔
- انشا پردازی میں آپ عربی اور سنسکرت کے مشکل الفاظ استعمال کرنے کے خلاف تھے۔
- تصوّف کے اسرار و رموز کو آپ نے انتہائی سیدھے سادے اور عام پیرائے میں لکھا۔
- تصانیف: بیگمات کے آنسو، دہلی کی آخری شمع، جگ بیتی کہانیاں ، سی پارۂ دِل ، دہلی کی سزا ، سفر نامۂ حجاز،مصر و شام ، انگریزوں کی بپتا، محرم نامہ اور
طمانچہ بر رخسارِ یزید وغیرہ۔
کچھ سبق کے بارے میں
یہ سبق خواجہ حسن نظامی کی کتاب ٌ بیگمات کے آنسو ٌٗ سے لیا گیا ہے۔1857ء کے ہنگامے اور زوال کے بعد بہادر شاہ ظفر کو قید کرلیا گیا۔اُس کے بیٹوں کے سر کاٹ کر اس کے سامنے پیش کئے گئے۔باقی شہزادوں اور شہزادیوں نے بڑی مشکل سے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ اس سبق میں بہادر شاہ ظفر کے بھانجے مرزا شہ زور کی زبانی ان کی مصیبت اور تباہی کا ذکر ہے۔
مصنف لکھتے ہیں کہ غدر سے پہلے دہلی ہندوستان کا دل کہلاتی تھی۔بادشاہ ظفر کے بھائی مرزا سلیم کو ان کی والدہ نے رمضان میں گانے بجانے پر منع کیا تو وہ افسردہ ہوگئے کہ باقی سولہ دن کیسے گزاریں گے۔ ان کے دوست نے انہیں جامع مسجد چلنے کا مشورہ دیا۔یہاں انہوں نے بہت اچھا روحانی منظر دیکھا جو بہت اچھا لگا۔اُن دنوں کو یاد کرکے مرزا شہ زور اداس ہوگئے۔
پوچھنے پر مرزا شہ زور نے بتایا کہ جب انگریزی فوجوں نے دہلی کو برباد کیا تو میں اپنی والدہ، بیوی اور کمسن بہن کولےکر غازی آباد کی طرف نکلا۔انگریزوں کی وجہ سے قطب صاحب کی طرف رُخ کیا۔راستے میں ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔آخر میواتی مسلمانوں کے گاؤں نے انہیں پناہ دی۔اسے کھیتوں کی رکھوالی اور عورتوں کو کپڑے سینے پر رکھ لیا۔وہ اس کے بدلے کچھ اناج دے دیا کرتے تھے۔برسات کے مہینے میں اسکی بیوی بیمار ہوکر مرگئی، اناج بھیگ کر سڑ گیا۔ گھر میں فاقے پڑ گئے۔ رمضان آگیا۔مسلسل فاقوں سے بہن کی حالت بھی خراب ہوگئی۔والدہ نے بڑے کرب کے ساتھ دعا مانگی۔چودھری نے زکوٰۃ خیرات بھیجی تو والدہ بہت افسردہ ہوئیں۔چھ مہینے بعد وہ دہلی چلے آئے۔والدہ کا انتقال ہوگیا۔ چھوٹی بہن کی شادی کردی۔ اب انگریزی حکومت سے پانچ روپے پینشن لے کر زندگی کے باقی دن گزار رہے ہیں۔
ا ہم خالی جگہیں
- مرزا سلیم رمضان کے مہینے میں گانے بجانے کی محفلیں سجاتے تھے۔
- انگریز 1857 کی جنگِ آزادی کو غدر کہتے ہیں۔
- مغل خاندان تیمور لنگ کی نسل سے تھا۔
- خواجہ حسن نظامی نے اپنا پہلا مضمون انڈیا کی نا زک حالت کے نام سے لکھا۔
- مرزا شہ زور کے ساتھ تین عورتیں تھیں۔
- میواتیوں نے مرزا شہ زور کو کھیتوں کی رکھوالی کا کام دیا۔
- گاؤں کے چودھری نے قطب شاہ سے ایک روپے کا آٹا منگوا کر دیا۔
- چودھری کا آدمی نیاز کے ساتھ پانچ روپے زکوٰ ۃ کے لایا۔
- انگریزی سرکار نے مرزا شہ زور کی پینشن پانچ روپے مقرر کی۔
- سبق ٗ فاقہ میں روزہٗ بیگمات کے آنسو سے ما خوذ ہے۔
مشق ۔رموزِ اوقاف کی وضاحت
1۔ رابطہ(:) یہ علامت سکتے اور وقفے سے ذیادہ ٹھہراؤ کی علامت ہے۔ یہ علامت مزید وضاحت یا کسی کا قول بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
مثال—رسول اکرم ؐ نے فرما یا : علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
2۔تفصیلیہ ( :- ) یہ علامت کسی تفصیل کو بیان کرنے سے پہلے استعمال کی جاتی ہے۔
مثال- فٹ بال کے کھلاڑیوں کے نام یہ ہیں :-
3۔ قوسین ( ) یہ علامت رواں جملے کے درمیان جملۂ معترضہ لکھنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
مثال- طلحہ ( پڑوسی اکرام کا بیٹا) کا ایکسیڈ نٹ ہو گیا۔
4۔خط ـــــــــ یہ علامت رواں جملے میں جملہ معترضہ کو اصل تحریر سے ممتاز کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
مثال – وکیل صاحب ــــــ جو ہمارے پڑوسی تھےــــــ لاہور چلے گئے
( مرتب کنندہ : شاکرہ کا ظمی )