ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

پھر وطنیت کی طرف  ۔ ۔مولانا صلاح الدین احمد

تاریخ: September 6, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

پھر وطنیت کی طرف  ۔ ۔مولانا صلاح الدین احمد

تعارف مضمون نگار

  • مولانا صلاح الدین لاہور میں پیدا ہوئے۔
  • زمانہ طالب علمی میں ہی ایک رسالہ ‘ خیالستان ٗ کے نام سے جاری کیا۔
  • ” ادبی دنیا“ کی ادارت کی ، تا عمر اسے مرتب کیا اور شائع کیا۔
  • اکادمی پنجاب قائم کی اور اردو کی قدیم اور نادر کتابوں کو از سرِ نو شائع کیا۔
  • آپ ” اردو پڑھو ، اردو بولو ” کے سر خیل تھے۔
  • آپ کو پنجاب کا بابائے اردو بھی کہا جاتا ہے۔
  • آپ اعلیٰ درجے کے مقالہ نگار اور مضمون نگار تھے۔
  • ادبی اور قومی موضوعات پر آپ نے سینکڑوں مقالے لکھے۔
  • آپ زبان کی صحت اور آرائش کا بہت خیال رکھتے تھے۔
  • بہت سے ادیبوں کو آپ نے ادب اور تنقید کا فن سکھایا۔
  • بہت سے ادیبوں اور شاعروں کی رہنمائی کی۔
  • تصانیف : تصوراتِ اقبا ؔ ل ، افسانوی ادب ، محمد حسین آزاد وغیرہ

 

مضامین

یہ ایک بیانیہ تفصیل ، حکائیہ تحریراور خیالات و افکار کی ترتیب کا نام ہے ۔ کسی مقررہ موضوع پر اپنے خیالات ، جذبات ، احساسات یا تاثرات کا نژ میں تحریری اظہار کرنا مضمون کہلاتا ہے ۔ اِس کے موضوعات کا دائرہ لا متناہی ہے ۔ اِس میں دلائل کے ذریعے بحث کی جاتی ہے ۔ اہم باتیں علمی پیرائے میں بیان کی جاتی ہیں ۔ آخر میں مختصراً نتیجہ پیش کیا جاتا ہے ۔ اِس میں توازن ، تناسب  اور نظم و ضبط کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ اِس کے تین حصے ہوتے ہیں ۔

1۔ تمہید ،               2  ۔نفسِ مضمون  ،               3۔ اختتام

مضامین تین قسم کے ہوتے ہیں

1۔ فکری                 2۔بیانیہ              3۔ حکائیہ

کچھ سبق کے بارے میں

یہ سبق ایک مضمون ہے ۔ جو مولانا صلاح الدین  احمد کی کتاب    تصوراتِ اقباؔل سے لیا گیا ہے ۔اس مضمون میں انہوں نے دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ پاکستان کا قیام ایک حقیقت پسندانہ قدم تھا ۔یہاں وہ اقباؔ ل کے تصور ملّت کا ذکر کرتے ہیں  کہ وہ ایک آفاقی تصور تھا ۔ لیکن مسلمانوں کو آسمان سے ذیادہ ایک زمین کے ٹکڑے کی ضرورت تھی ۔ جہاں ہم اپنے مذہب ، تہذیب اور روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں ۔ اور اپنے ملّی مقاصد کو فروغ دے سکیں ۔ مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر شاعرِ مشرق  نے شاعری کے ساتھ عملی سیاست میں آکر ایک وطن کے قیام کا تصور پیش کیا ۔

اب ہم آزاد ہیں  تو ہمیں اپنے وطن کی حفاظت اور ترقی کو سب چیزوں پر مقدم رکھنا چاہیئے  اور غیر مسلم شہریوں کو مفید شہری بنانا  چاہیئے۔ اس کے ساتھاسلامی ممالک کو قریب لاکر ملّتِ اسلامیہ کے اتحاد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔  

 

سبق کے اہم نکات

  • قیامِ پاکستان سے پہلے مسلمانا نِ ہند کے دل وحدت ِ ملّی کے جذبے سے سرشار تھے۔
  • جذبۂ وحدت ملت ہی وطن کے قیام کا باعث بنا۔
  • ہمارا قومی نصب العین یہ ہے کہ پاکستان کی دل و جان سے حفاظت کریں اور اس کی ترقی کے لئے دن رات کام کریں۔اسے اسلام کا مرکز بنائیں۔
  • اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد کے سامنے چھوڑ دیں۔قومی مفاد کو ملّی مفد کے تابع رکھیں۔
  • پاکستان کا تصور علامہ اقباؔ ل نے دیا۔
  • اقباؔل نے جب جذبات کی دنیا سے حقیقت کی دنیا کا رُ خ کیا  تو عملی سیاست میں حصہ لیا اور وطن کے قیام کا تصور پیش کیا۔
  • ٹیپو سلطان اور عبد الحمید ثانی نے بھی وحدت ملت ِ اسلامیہ کا خواب دیکھا تھا۔
  • ایک محدود تصور ِ وطن ہی ایک لامحدود تصورِ ملّت کا نقطۂ آغاز ہے
  • ہماری وطن دوستی ہمارے دوسرے مسلم ممالک سے ملّی تعلقا ت پر غالب نہ آنی چاہیئے۔
  • حقیقت کی دنیا میں ہمیں ایک زمین کے ٹکڑے کی ضرور ت ہے۔
  • تصورِ وطن اور تصورِ مّلت ایک دوسرے سے جُڑ ے ہوئے ہیں۔
  • غیر مسلم پاکستانیوں کو مفید شہری بنانا ہمارا فرض ہے۔
  • آزاد وطن قائم اور مضبوط رہے گا تو ہم دین کی خدمت اورتعمیر ِ ملت کر سکیں گے۔
  • تمام مسلمان ایک اتمام مسلمان ایک امتِ واحد اور ایک جسم کی مانند ہیں۔

 

مشق  ۔ امدادی افعال کی نشاندہی

  • میں نے  سلیم  کو  زمین  پر  پٹخ  دیا ۔
  • اُ سے ا پنی  بات  و ا ضح  کر نے  د و ۔
  • ا ند ھا ا چا نک  گڑ ھے  میں  گر  پڑ ا ۔
  • جا گ اُ ٹھا  ہے  سا ر ا  وطن  سا تھیو !
  • جو میں  نے  سنا  ہے  و ہ  مجھ  سے  بیا ن  نہیں  ہو  سکتا ۔  

اعراب لگائیں

وَطنِیَت                         مُفَکِّرِ اِسلَام                مُتَصَرَّف

تَصَوُّرِ مِلَّت                تَحَفُّظ                    بَرِّ عَظِیم

( مرتب کنندہ : شاکرہ کا ظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *