اپنی مدد آپ ۔ سر سید احمد خان
تعارف مصنف:
- 1817 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔
- آپ کو جدید اردو نثر کا بانی اور مصلح قوم کہا جاتا ہے۔
- آپ کا کہنا تھا کہ کسی قوم کی اصلاح اور ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔
- آپ نے علی گڑھ میں ایک کالج کھولا۔
- آپ نے اس زمانے کی مقفیٰ و مسجع طرزِ نگارش کو ترک کرکےمقصدیت کو رواج دیا۔
- ادب کو اصلاح کا ذریعہ بنایا۔
- آپ نے مذہب، سیاست، تاریخ، ادب ۔فلسفہ اور منطق ہر موضوع پر طبع آزمائی کی۔
- تصانیف : آثارالصنادید، اسباب بغاوتِ ہند،مقالاتِ سرسید، خطباتِ احمدیہ وغیرہ۔
سبق کا مرکز ی خیا ل :
- اپنی مدد آپ ایک ایسا سنہری جذبہ ہےجس پر عمل پیرا ہو کر افراد، معاشرہ اور اقوام ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتی ہیں۔یہ جذبہ ان کے اندر شعور اجاگر کرکےان کو با کردار قوم بناتا ہے۔قومی ترقی قوم میں موجود ہر شخص کی انفرادی محنت، عزت، ایمانداری اور شخصی ہمدردی کا مجموعہ ہوتی ہے۔جو لوگ اچھے چال چلن کے مالک ہونگے اور اپنی مدد آپ کے جذبے سے آگے بڑھیں گے تو قوم یقینی ترقی کرے گی۔ جو قومیں اس جذبے سے عاری ہوتی ہیں، ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔جو بد اخلاقی، خود غرضی ،جہالت اور شرارت کے مطیع ہوں اور قومی مفاد سے بے پرواہ ہوں ،وہی اصلی غلام ہیں۔اشخاص کے افعال و کردار براہِ راست قومی ترقی اور قومی تنزلی پر اثر انداز ہوتے ہیں
ا ہم خا لی جگہیں
- سرسید کا شمار 19 ویں صدی کے مصنفین میں ہوتا ہے ۔
- قومی ترقی کی بنیاد اپنی مدد آپ کا جذبہ ہے ۔
- کوئی قوم دوسروں پر بھروسہ کرتی ہے تو وہ دوسروں کی نظر میں بے غیرت ہو جاتی ہے ۔
- فضول خرچ کو نفس کشی سے کفایت شعاری حاصل ہوتی ہے ۔
- انسان کی غیرت عمدہ قوت ہے ۔
- قوم شخصی حالتوں کا مجموعہ ہے ۔
- جان اسٹیوارٹ مل ایک حکیم دانا تھا ۔
- بدچلنی اور بد تہذیبی کا شمار معاشرتی بدیوں میں ہوتا ہے۔
- کوئی قوم اپنی اصلاح اندرونی حالتوں سے کر سکتی ہے۔
- گورنمنٹ رعایا کا سا رنگ بدلتی ہے۔
- اپنی مدد آپ ” مقالاتِ سرسید ” سے لیا گیا ہے۔
- ”علم سے عمل نہیں آ جاتا“ ،یہ قول لارڈ بیکن کا ہے۔
- استقلال اور محنت کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
- قوم کی سچی خیر خواہی کرو۔
- علی گڑھ کالج کے بانی سر سید احمد خان تھے۔
( مر تب کنند ہ : شا کر ہ کا ظمی )