ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

سبق 17 : عبد الستّا ر ا ید ھی( مشقی سوالات)

تاریخ: September 1, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, درس و تدریس
  • نئے الفاظ کے معانی
  • جا بہ جا : ہر جگہ/ہر موقع پر
  • فیض اُٹھانا : فائدہ حاصل کرنا
  • منظم : ترتیب اور سلیقے سے ہونا
  • قطع نظر : نظر انداز کرنا/کسی چیز کا خیال چھوڑ دینا
  • وقف کرنا : مصروف کر دینا/مشغول کر نا
  • شانہ بہ شانہ ساتھ ساتھ/ ہم راہ
  • فلاح و بہبود : عام لوگوں کی بھلائی کے کام
  • تنظیم : ادارہ/جماعت
  • متعین : مقرر کردہ/پابند کرنا
  • بحالی بہتری
  • فعال : کام کرنا/ مصروف ہونا
    • ایدھی فاونڈیشن پاکستان کے ہر فرد کو کیا فراہم کر رہی ہے؟

    ایدھی فاونڈیشن پاکستان کے ہر فرد کو رنگ و نسل اور ذات پات سے بالا تر ہو کر صحت سے متعلق خدمات  اور دیگر سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔

    • عبد الستار ایدھی کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

    عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928 کو گجرات (بھارت) کے ایک گاؤں بانٹوا میں پیدا ہوئے۔

    • عبد الستار ایدھی نے پاکستان ہجرت کب کی؟

    ایدھی اور ان کا خاندان 1947 ء میں پاکستان آگیا تھا۔

    • فلاحی کاموں کی طرف ایدھی صاحب کا پہلا قدم کیا تھا؟

    ایدھی نے اپنی برادری کے کچھ لوگوں کی مدد سےایک مفت ڈسپنسری کھولنے کا ارادہ کیا۔فلاحی کاموں کی طرف یہ ان کا پہلا قدم تھا۔

    • ایدھی ٹرسٹ کا دائرۂ کار پھیلنے کا اصل راز کیا تھا؟

    ا یدھی ٹرسٹ کا دائرۂ کار پھیلنے کا اصل راز ایدھی کی محنت اور خلوصِ نیت تھی۔

      • عبدالستار ایدھی کی ابتدائی زندگی کے بارے میں اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

      عبد الستا ر ایدھی نے گیارہ سال کی عمر سے ہی خود کو اپنی  فالج سے بیمار والدہ کی خدمت کے لئے وقف کر دیا تھا۔ان کے تمام کام خود کرتے تھے۔والدہ کی وفات کے بعد ان کی زندگی کا راستہ ہی بدل گیا۔ اب ان کی زندگی کا مقصد بیمار اور لاچار لوگوں کی مدد اور ان کو علاج کی سہولیات فراہم کرنا تھا۔

      • عبدالستا ر ایدھی کے بارے میں اپنی رائے بیان کیجیئے۔

      عبدالستا ر ایدھی محسنِ انسانیت تھے۔وہ ایک انسان دوست، دوسروں کا درد محسوس کرنے والے سادہ طبیعت انسان تھے۔آپ نے بیماروں، غریبوں اور لاچاروں کی بے لوث خدمت کی۔آپ کی قائم کردہ ایدھی فاونڈیشن پاکستان بھر میں بے گھر افراد کے لئے پناہ گاہوں، جانوروں کی پناہ گاہوں،بحالی کے مراکز،یتیم خانے، مردہ خانےکے ساتھ ساتھ دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک چلاتا ہے۔

      • تشریح کیجیئے

      دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

      ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

      میر درد ؔ نے اس شعر میں انسان کی تخلیق کے مقصد کو بیان کیا ہے۔اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہےاور اس کے سپرد د و کام کئے ہیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دکھ  دردمیں شریک ہوں ، ان کی دلجوئی کریں اورتکلیف  دور کرنے کی کوشش کریں ،اس طرح اللہ کی رضا بھی حاصل ہوگی۔ورنہ صرف عبادت کرنے سے اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل نہیں کی جا سکتی ۔عبادت کے لئے تو بے شمار مقرب فرشتے بھی موجود ہیں ۔دنیا میں ایسی کئی شخصیات ہیں جن کی زندگی کا مقصد دوسروں کی خدمت رہی ہے۔ ان میں عبد الستا ر ایدھی۔حکیم محمد سعیداور مدر ٹریسا وغیرہ شامل ہیں۔

      درج ذیل کو اپنے  جملوں میں استعمال کریں۔

      • فالج

      میرے دوست ندیم کے دادا   کو کل رات  فالج  کا اثر ہوا۔

      • جا بہ جا

      یومِ پاکستان پر جا بہ جا جھنڈیاں لگی نظر آتی ہیں۔

      • راہ ہم وار کرنا

      لوگوں نے ایدھی کی مدد کرکے انسانی خدمت کی راہ ہموار کی۔

      • بالا ہونا

      انسانیت کی خدمت کرنے والوں کا مقام بہت بالا ہوتا ہے۔

      • لا تعداد

      کتب میلے میں لا تعداد کتابیں تھیں۔

      • قطع نظر

      قطع نظر عمر کے اس بچے کی آواز بہت اچھی ہے۔

      • شانہ بہ شانہ

      ملکی ترقی  کے لئے عورتیں مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کرتی ہیں۔

      • مشق

        • ہم نے اخبار پڑھ لی ہے۔
        • موسم کافی گرم ہے۔
        • میں آپ کا مشکور ہوں۔
        • سلیم اور نعیم دونوں دوست ہیں۔
        • آپ کا تابعدار شاگرد۔
        • خدا کے علاوہ ہمارا کون ہے۔
        • نائی حجامت کرنے لگا۔
        • وہ دن بہ دن کمزور ہو رہا ہے۔
        • صبح سے بارش برس رہی ہے
        • ہم سب بخیریت ہیں۔
        • السلام و علیکم
        • بکرے کا گوشت ہلال ہوتا ہے
        • آج کل ان کی طوطی بول رہی ہے۔
        • ایک انار ہزار بیمار
        • یہ منہ اور چنے کی دال
        • دھوبی کا کتا گھر سے بھاگ گیا
        • اکرم تین پانچ روز سے بیمار ہے۔
        • عید کے اوپر مضمون خوش خط لکھو
        • سب مرض علاج کے قابل ہیں۔
        • بارش سے ہر طرف کیچڑ ہو گئی ہے۔
        • وعدہ کی پابندی کرنا اچھی بات ہے۔
        • ماں باپ کی عزت مٹی میں نہ ملاؤ۔
        • آسمان پر ستارے چمک رہے ہیں۔
        • آسمان سے گرا نیم پہ اٹکا
        • ایک کریلا دوسرے آم چڑھا
          درست جملے غلط جملے
          اس کی نظر کم زور ہے۔ اس کی نزر کمزور ہے
          قائد اعظم ہمارے رہنما ہیں۔ کاعد آزم ہمارے رنما  ہیں
          وقت ضائع نہ کرو۔ وقت زایا نہ کرو
          ہمارے استا د بہت قابل ہیں۔ ہمرے استاد بہت کابل ہیں
          میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔ میرے سر میں درد ہو رہی ہے۔
          یہ دہی بہت کھٹا ہے۔ یہ دہی بہت کھٹی ہے۔
          براہ ، مہر بانی میرا یہ کام کر دیں۔ برائے مہربانی میرا یہ کام کر دیں۔
          اسے کل لاہور جانا ہے۔ اس نے کل لاہور جانا ہے۔
          اب مجھے کچھ اور نہیں کہنا۔ اب میں نے کچھ اور نہیں کہنا۔
          آپ کو جو کہنا ہے کہیں۔ آپ نے جو کہنا ہے کہیں۔
          ماہِ رمضان آگیا ہے۔/ رمضان کا مہینہ آگیا ہے۔ ماہ رمضان کا مہینا آگیا ہے۔
          بوڑھے  آدمی کو پانی پلاؤ۔ بڈھے آ د می کو پا نی پلاؤ۔
          کوہِ ہمالیہ بہت بلند ہے۔/ہمالیہ کا پہاڑ بہت بلند ہے۔ کوہِ ہمالیہ پہاڑ بہت بلند ہے۔
          بلبل ٹہنی پر اداس بیٹھا تھا۔ بلبل ٹہنی پر اداس بیٹھی تھی۔
          ماں باپ کی عزت خاک میں نہ ملاؤ۔

          ماں باپ کی عزت مٹی میں نہ ملاؤ۔

          درست فقرات غلط فقرات
          اس کی گیند گُم ہو گئی ہے۔ اس کا گیند گُم ہو گیاہے۔
          وہ امتحان میں فیل ہوگیا ہے۔ وہ امتحان میں فعل ہو گیا ہے۔
          مجھے اس کی فکر لاحق ہے مجھے اس کا فکر لاحک ہے
          میرا قلم واپس کر دو میری کلم واپس کردو۔
          صابن سے جسم کا میل صاف ہو جاتا ہے صابن سے جسم کی میل ساف ہو جاتی ہے
          سدا خوش رہو۔ صدا خوش رہو۔
          یہ کام کا موقع نہیں ہے۔ یہ کام کا موقعہ نہیں ہے۔
          مینارِ پاکستان لاہور میں واقع ہے۔ مینار پاکستان لاہور میں واقعہ ہے۔
          اس نے کام کرنے کی ہامی بھر لی۔ اس نے کام کرنے کی حامی بھر لی
          یہ حادثہ میرے سامنے ہوا۔

          یہ ہادسہ میرے سامنے ہوا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *