ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

نعت: حفیظ جالندھری ( مشق ، تشریحات)

تاریخ: September 1, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تشریحاتِ غزل و نظم, درس و تدریس

نعت

محمد مصطفیٰؐ ، محبوبِ داور، سَرورِ عالم

وہ جس کے دَم سے مسجودِ ملائک بن گیا آدم

کیا ساجد کوشیدا جس نے مسجودِ حقیقی پر

جھکایا عبد کو درگاہِ معبودِ حقیقی پر

دلائے حق پرستوں کو حقوقِ زندگی جس نے

کیا باطل کو غرقِ موجۂ شرمندگی جس نے

گداؤں کو شہنشاہی کے قابل کردیا جس نے

غرورِ نسل کا افسوں باطل کردیا جس نے

وہ جس کا ذکر ہوتا ہے زمینوں آسمانوں مین

فرشتوں کی دعاؤں میں ،مؤذن کی اذانوں میں

وہ جس کے معجزے نے نظمِ ہستی کو سنوارا ہے

جو  بے یاروں کا یارا، بے سہاروں کا سہارا ہے

ثنا خواں جس کا قرآں ہے،ثنا ہے جس کی قرآں میں

اُسی پر میرا ایماں ہےوہی ہے میرے ایماں میں

تعارف  شاعر:حفیظ جالندھری

  • محمد حفیظ نام اور حفیظ ہی تخلص تھا۔
  • جالندھر ( ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔وہیں تعلیم حاصل کی۔
  • لاہور آکر ہونہار بُک ڈپو قائم کیا اور علمی و ادبی کتب کی طباعت اور اشاعت میں مصروف رہے۔
  • انھوں نے غزلیں ، نظمیں اور گیت لکھے۔
  • شاہ نامہِ اسلام ان کی لکھی ہوئی شاہ کار نظم ہے۔
  • ہمارا قومی ترانہ بھی آپ ہی کا لکھا ہوا ہے۔
  • نئے الفا ظ کے معنی

    • مصطفیٰ: چُنا ہوا
    • داور: انصاف کرنے والا
    • سرورِعالم: دنیا کا سردار یا پیشوا
    • مسجود: جسے سجدہ کیا جائے
    • ملائک: فرشتے
    • ساجد: سجدہ کرنے والا
    • شیدا: شوقین
    • مسجودِ حقیقی: اللہ تعالیٰ
    • حق پرست: سچ کو پسند کرنے والا
    • باطل: جھوٹا
    • غرق: ڈوبنا
    • موجۂ شرمندگی: غلطیوں پر شرمندہ ہونا
    • گدا: مفلس،غریب، فقیر
    • افسوں: جادو ٹونا ، منتر پڑھنا
    • مؤذِّن: اذان دینے والا
    • معجزہ: عاجز کرنا، ایسا کام جو فطرت سے ہٹ کر ہو
    • نظمِ ہستی: زندگی کا نظام
    • سنوارا: سجانا، ترتیب دینا
    • یارا: طاقت، حوصلہ
    • ثنا خواں: تعریف کرنے والا
    • مشقی سوالات

      2۔نعت کے مطابق سوالات کے جوابات دیں۔

      مسجودِ ملائک سے کون سا واقعہ مراد ہے؟

      جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو خلق کیا تو تمام فرشتوں کو حُکم دیا کہ ان کو سجدہ کریں۔ سب فرشتوں نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔

      اس نعت کے ردیف اور قافیے الگ  الگ تحریر کیجئے۔

      قافیے: عالم،آدم،مسجود، معبود، زندگی، شرمندگی، قابل، باطل، آسمانوں، زمانوں،سنوارا،  سہارا،قرآں، ایماں

      ردیف: حقیقی پر، جس نے،  کر دیا جس نے ، میں، ہے، میں

      حمد اور نعت کا فرق لکھیں۔

      حمد : ایسی نظم جس میں اللہ تعالیٰ کی تعریف  بیان کی جائے۔

      نعت : ایسی نظم جس میں حضرت محمدﷺ کی تعریف بیان کی جائے۔

      مرکزی خیال

      اس نعت میں شاعر نے حضرت محمد ﷺ کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضورؐ اللہ کی دنیا میں سب سے محبوب ہستی ہیں ۔آپ ساری کائنات کے سردار ہیں۔حضورؐ نے لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کا  درست طریقہ بتایا۔انہیں صحیح اور غلط کا فرق سمجھایا۔ زندگی اللہ کے حکم کے مطابق گزارنے کے اصول سمجھائے۔امیر غریب کا فرق اور نسل کا غرور مٹایا۔آپ غریبوں  اور یتیموں کا سہارا بنے۔فرشتے، قرآن  اور کائنات کی ہر شے ان کی تعریف کرتی ہے۔میں بھی حضورﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتا ہوں۔

    • تشریحات:
    • شعر نمبرٍ۔1

      محمد مصطفیٰ، محبوبِ داور، سروَرِ عالم

      وہ جس کے دم سے مسجودِ ملائک بن گیا آدم

      تشریح:

      حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ اورمنتخب ہستی ہیں ۔وہ ساری دنیا کے لئے رہنما اور سردار بنا کر بھیجے گئے ہیں۔آپ  کائنات کی تخلیق کی وجہ ہیں۔ جب حضرت آدم ؑ کو تخلیق کیا گیا  وہ تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کو سجدہ کرو۔سب فرشتوں نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کیا ۔کیوں کہ ان کی نسل میں حضور اکرم ﷺ کو تشریف لانا تھا۔حضرت محمد ﷺ ساری کائنات سے افضل ہیں۔

      شعر نمبر ۔2

      کیا ساجد کو شیدا جس نے مسجودِ حقیقی پر

      جھکایا عبد کو درگاہِ معبودِ حقیقی پر

      تشریح:

      حضور ﷺکی آمد سے پہلے بہت سے  لوگ بت پرستی کرتے تھے۔ آپﷺ نے ایک خدا کی عبادت کا درس دیا ۔لوگوں کے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا کی۔ان کو بتایا کہ اللہ بڑا رحیم و کریم ہے،وہ اپنے بندوں  پر بڑا مہربان ہے۔وہی لائقِ عبادت ہے۔ ان تعلیمات ہی کا نتیجہ ہے کہ لوگ ذوق و شوق سے عبادت کرتے ہیں اور اسے سجدہ کرتے ہیں۔

      شعر نمبر ۔3

      دلائے حق پرستوں کو حقوقِ زندگی جس نے

      کیا باطل کو غرقِ موجۂ شرمندگی جس نے

      تشریح:

      شاعر کہتے ہیں کہ رسولِ اکرم ؐ نےدنیا میں اللہ کے بنائے ہوئے قانون کو نافذ کیا ۔ظالموں کے ظلم سے مجبوروں کو نجات دلائی۔انصاف کا نظام قائم کیا۔حق داروں کو ان کا حق دلوایا۔آپ کی تعلیمات ایسی شان دار تھیں کہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی تھیں۔ آپ ؐ  نے لوگوں کو دینِ اسلام کی جانب راغب کیا اور انہیں ایک اچھا انسان بنایا کہ انھوں نے اپنے گذشتہ گناہوں پر شرمندہ ہوکر معافی مانگی  اور  اچھے مسلمان بنے۔

      شعر نمبر ۔4

      گداؤں کو شہنشاہی کے قابل کر دیا جس نے

      غرورِ نسل کا افسوں باطل کر دیا جس نے

      تشریح:

      اسلام سے پہلے لوگ ذات پات اور رنگ و نسل کو سب کچھ مانتے تھے۔لیکن حضور اکرمؐ نے اسلام کی تعلیمات کے مطابق ان سب کو ختم کیا ، اور بتایا کہ جس کا ایمان  اور اخلاق بہترین ہے وہی عزت والا ہے۔اس طرح آپ نے غریبوں  اور ناداروں کو معاشرے میں عزت دلائی۔ان کو اسلامی معاشرے  کے اصول  اور حکومت چلانے کے طریقے سمجھائے۔یہ حضورؐ کی تعلیمات ہی کا نتیجہ تھا کہ آگے چل کر انہوں نے اچھی حکومتیں چلائیں

      شعر نمبر۔5

      وہ جس کا ذکر ہوتا ہے زمینوں  آسمانون میں

      فرشتوں کی دعاؤں میں ،مؤذِّن کی اذانوں میں

      تشریح:

      قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ”اللہ اور اس کے فرشتے آپؐ پر درود و سلام بھیجتے ہیں ” اس لئے ہمیں بھی انؐ پر درود بھیجنا لازم ہے۔شاعر کہتے ہیں حضور اکرمﷺ پر درود و سلام کائنات کی ہر شے بھیج رہی ہے۔ مؤذن جب اذان دیتے ہیں اور لوگوں کو نماز اور خیر کی طرف بُلاتے ہیں  تو وہ بھی  حضورؐ پر درود اور سلام بھیجتے ہیں۔زمین اور آسمان میں ہر جگہ درود کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔

      شعر نمبر۔6

      وہ جس کے معجزے نے نظمِ ہستی کو سنوارا ہے

      جو بے یاروں کا یارا ، بے سہاروں کا سہارا ہے

      تشریح:

      شاعر کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے جیسے احسن طریقے سے دینِ اسلام کو پوری دنیا میں پھیلایا ہے  ،وہ بہ ذاتِ خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔آپ نے اپنے اچھے اخلاق ، صداقت، ایمان داری ، غریبوں اور ناداروں سے محبت اور ان کی مدد سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرلیا۔لوگ آپؐ کی جانب محبت سے کھنچتے تھے۔آپ نے نہ صرف اسلامی نظام رائج کیا بلکہ لوگوں کو سچا مسلمان بنادیا۔جو غریبوں کا خیال رکھنے والے بنے۔

      شعر نمبر۔7

      ثنا خواں جس کا قرآں ہے، ثنا ہے جس کی قرآں میں

      اُسی پر میرا ایماں ہے، وہی ہے میرے ایماں میں

      تشریح:

      حفیظ جالندھری اس شعر میں اپنی حضور ﷺ سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جگہ جگہ اپنے محبوب بنی حضور سرورِ کونین کا ذکر کیا ہے۔انہیں خوب صورت ناموں سے پکارا ہے۔ان کے عمدہ اخلاق کی تعریف کی ہے۔ہمیں ان کی سیرت پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔اسے ہمارے ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا ہے ۔ شاعر کہتے ہیں کہ حضورؐ کی رسالت پر ایمان لانا میرے ایمان کا حصہ ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *