استعارہ :
یہ عربی زبان کا لفظ ہے۔جس کے معنی ‘ ادھار لینا ’ کے ہیں۔اردو زبان میں کسی ایک شے کو کسی اچھی یا بُری خصوصیت کی بناء پر بالکل دوسری شے قرار دینے کو استعارہ کہتے ہیں ۔اس میں تشبیہ کا تعلق تو پایا جاتا ہے مگر حرفِ تشبیہ نہیں پایا جاتا۔استعارہ کے تین ارکان ہوتے ہیں۔مثلاً:
علی شیر ہے
- مستعار لہ : علی
- مستعار منہ: شیر
- وجہ جامع: بہادری
مشق : دئیے گئے جملے پڑھیے۔ان میں تشبیہ اور استعارہ پہچان کر لکھیں۔
- ہمارا وطن سورج کی طرح روشن ہے۔
- سورج وطن ہمارا۔
- جھیل کے آئینے کی طرح شفاف پانی میں اس نے اپنا عکس دیکھا۔
- جھیل کے پانی کے آئینے میں اس نے اپنا عکس دیکھا۔
- خوشی سے اس کی آنکھوں کے ستارے چمک رہے تھے۔
- خوشی سے اس کی آنکھیں ستاروں کی طرح چمک رہی تھیں۔
- دور تک سبزے کا قالین بچھا ہوا تھا۔
- دور تک سبزہ ایسے پھیلا تھا جیسے کوئی قالین۔
- آسمان پر بادل پہاڑوں کی طرح کھڑے تھے۔
- آسمان پر بادلوں کے پہاڑ کھڑے تھے۔
- گھاس پر شبنم کے موتی چمک رہے تھے
- اس کا عزم اور حوصلہ چٹانوں کی طرح مضبوط تھا۔
- وہ عزم و حوصلے کی چٹان تھا۔