ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

قواعد..زبان شناسی۔مذکر مؤنث

تاریخ: August 31, 2026 مصنف: shakra زمرہ: درس و تدریس, صرف و نحو, قواعد

جنس کے اعتبار سے اسم کی اقسام

جنس کے اعتبار سے اسم کی دو  اقسام ہیں۔

1۔تذکیر( مذکر/ نر)

2۔تانیث ( مؤنث / مادہ)

3۔ اسمِ مشترک :وہ اسم جو مذکر مؤنث دونوں کے لئے بولا جائے۔جیسے یتیم، مسافر ، کھلاڑی ، بچہ، ساتھی، مہمان، صدر، وزیر، دوست، دشمن ، لاش وغیرہ ۔

تذکیر و تانیث ( مذکر مؤنث) دو طرح کی ہوتی ہے

  • حقیقی: جان دار اسماء کی تذکیر و تانیث
  • غیر حقیقی : بے جان اسماء کی تذکیر و تانیث

بے جان  اسماء میں نر مادہ کا کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ اس لئے ان  کی تذکیر و تانیث کا تمام دارومدار اہلِ زبان پر ہوتا ہے۔

  • انسان و حیوا ن میں مذکر و مؤنث کے لئے الگ الفاظ موجود ہیں۔جیسے باپ۔ماں، دادا۔دادی وغیرہ
  • بعض انسانی رشتوں میں مذکر کے آخر میں الف یا ہ ہو تا اس کی جگہ ی لگا کر مؤنث بنالیتے ہیں۔جیسے لڑکا۔لڑکی ، بچہ۔بچی
  • اگر مذکر کے آخر میں ی یا الف ہو تواسے ن سے بدل کر مؤنث بنا لیتے ہیں۔جیسے پڑوسی۔پڑوسن ، دولہا۔دلہن
  • بعض اوقات صرف’نی’ بڑھا کر مؤنث بنالیتے ہیں۔جیسے جادوگر۔جادوگرنی
  • بعض اسم مذکر کے آخر میں ‘ہ’ بڑھا کر مؤنث بنالیتے ہیں۔جیسے والد۔ والدہ
  • کچھ اسم ہمیشہ مذکر بولے جاتے ہیں۔جیسے کوّا ، مچھر ، اُلوّ ، بُلبُل ، جگنو ، خرگوش وغیرہ۔
  • کچھ اسم ہمیشہ مؤنث بولے جاتے ہیں۔ جیسے چیل، گلہری، چھپکلی، بطخ، لومڑی، مچھلی وغیرہ۔
  • بے جان اشیاء میں بھاری اور بڑی چیزیں مذکربولی جاتی ہیں۔جیسے پہاڑ، ٹوکرا، دریا وغیرہ۔
  • اللہ تعالیٰ کے تمام صفاتی نام مذکر بولے جاتے ہیں۔جیسے رحمان، رحیم، غفور، کریم وغیرہ۔
  • مہینوں کے نام مذکر بولے جاتے ہیں۔
  • دریاؤں ، پہاڑوں، ستاروں، سیاروں، درختوں ، شہروں، ملکوں، پھلوں، رنگوں، اخباروں، رسالوں سب کے نام مذکر بولے جاتے ہیں۔
  • زبانوں کے نام مؤنث بولے جاتے ہیں۔جیسے اردو، پنجابی
  • نمازوں، کتابوں ، دالوں وغیرہ کے نام مؤنث بولے جاتے ہیں۔
  • چاندی کے سوا تمام دھاتوں کے نام مذکر بولے جاتے ہیں۔
  • عربی کے ‘ہ’ یا ‘ت’ پر ختم ہونے والے تمام اسماء مؤنث بولے جاتے ہیں۔
  • مشق : دیے گئے جملوں میں خالی جگہوں کو درست تذکیر و تانیث کے مطابق بھریئے۔
    • آج خاکروب نے جھاڑو نہیں ………..۔ (دی ، دیا)
    • دس روپے ………..پیاز دے دو۔ ( کا ، کی )
    • ………….گیند کہاں ہے۔ ( تمھارا ، تمھاری )
    • با ئیسکل گُم ہو ……….۔ ( گئی ، گیا )
    • مجھے بہت درد ہو ………..ہے۔ (رہا ، رہی )
    • کل بہت زور سے طوفان ………۔ ( آیا ، آئی )
    • قائد اعظم ؒ نے بچپن کراچی میں ………۔ ( گزاری ، گزارا)
    • یہ اس کے علم …….علامت ہے۔ ( کا ، کی )
    • بچے کی جدائی ماں کے لئے اداسی ……سبب تھی۔ (کا ، کی)
    • یہ آج ……اخبار ہے۔ ( کا ، کی )
    • اس کو بہت جدوجہد ……پڑی۔ (کرنی ، کرنا )مشق : درج ذیل فقروں کے سامنےدرست  یا غلط کا نشان لگائیں۔
      • ضد کرنی اچھی نہیں۔
      • ضد کرنا اچھا نہیں۔
      • جب سے اس نے ہوش سنبھالا۔
      • جب سے اس نے ہوش سنبھالی۔
      • بارش سے کیچڑ ہو گیا۔
      • بارش سے کیچڑ ہو گئی۔
      • میری جیب کٹ گئی۔
      • میرا جیب کٹ گیا۔
      • اس کی زخؐم گہری ہے۔
      • اس کا زخم گہرا ہے۔
      • اس کی اردو اچھی ہے۔
      • اس کا اردو اچھا ہے۔
      • مکان کی چھت نئی ہے۔
      • مکان کا چھت نیا ہے۔
      • وہ گہرے سوچ میں ہے۔
      • وہ گہری سوچ میں ہے۔مشق : دیےگئے اسماء مذکر ہیں یا مؤنث، لکھیں ۔

        چاندی  چمگادڑ  ہتھوڑی  سونا  کےٹو  فجر  بلبل  جگنو  پاکستان  جنوری  چیل  لاہور  اخبار

        مشق : دیے گئے الفاظ کو اس طرح جملوں میں استعمال کریں کہ مذکر مؤنث کا فرق واضح ہو جائے۔

        دہی  کیچڑ  اخبار  اردو  بہار

        کراچی  ترازو  بکواس  احسان  مزاج

        مشق : دیے گئے جملوں میں نمایاں مذکر اسماء کو مؤنث اسماء میں تبدیل کر کے  جملہ دوبارہ لکھیں۔

        • میرے چچا نے مجھے گھڑی دی۔
        • میرا نوکر آج نہیں آیا۔
        • وہ میرے خالو ہیں۔
        • میرا بھائی بہت اچھا ہے۔
        • مینڈک اچھل رہا ہے۔
          • میرے ابو ڈاکٹر ہیں۔
          • مور ناچ رہا ہے۔
          • بوڑھے کھانا کھا رہے ہیں۔
          • ملازم وقت پر پہنچ گیا۔
          • بچہ بیٹھا ہوا ہے۔

          مشق : درست جملوں کے سامنے  صحیح کا نشان لگائیں۔

          • دہی بہت کھٹی ہے۔
          • میرا سائیکل گُم ہو گیا ہے۔
          • یہ ترازو میری ہے۔
          • میری ٹکٹ میرے پاس ہے۔
          • اس نے زخم پر مرہم لگائی۔
          • میرے سر میں درد ہو رہی ہے۔
          • میرا فوٹو واپس کرو۔
          • تم نے آج کی اخبار پڑھی۔
          • یہ قلم میری ہے۔باغ میں ہری ہری گھاس اُگی ہے۔مشق : دیے گئے پیرا گراف میں سے پانچ مذکر اسماء اور پانچ مؤنث اسماء تلاش کرکے نیچے لکھیں۔

            موسم بہار کی آمد خوشیوں کا پیغام لاتی ہے۔مردہ زمین میں جان پڑ جاتی ہے۔فضا خوشبوؤں سے بھر جاتی ہے۔پھول کھل جاتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے پہاڑوں، وادیوں اور میدانوں میں رنگوں کا میلہ لگ  گیا ہو۔درختوں کی ہری ہری شاخیں جھوم جھوم کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے لگتی ہیں۔انسان تو انسان پرندے بھی خوش دکھائی دینے لگتے ہیں۔چڑیاں چہچہاتی ہیں ۔فاختائیں خوش ہو کر آوازیں لگاتی ہیں۔مور خوشی سے ناچنے لگتے ہیں۔بھنورے دیوانے ہوئے پھرتے ہیں۔کوئل کی کوک ماحول پر سحر طاری کر دیتی ہے۔

مؤنث مذکر مؤنث مذکر مؤنث مذکر
گھوڑی گھوڑا بلی بلا بچی بچہ
بیوی شوہر بیوی میاں ساس سسر
بیٹی داماد بہو بیٹا ماں باپ
لڑکی لڑکا عورت آدمی زن مرد
ممانی ماموں بکری بکرا شیرنی شیر
نانی نانا بہن بہنوئی بھابی بھائی
تائی تایا چاچی چاچا دادی دادا
اماں ابا پھوپھی پھوپھا خالہ خا لو
گائے بیل ہتھنی ہاتھی کبوتری کبوتر
شاعرہ شاعر نوکرانی نوکر بیگم نواب

مؤنث مذکر مؤنث مذکر مؤنث مذکر مؤنث مذکر مؤنث مذکر مؤنث مذ کر
مرغی مرغا چڑیا چڑا کاذبہ کاذب اونٹنی اونٹ رانی راجا بنت ابن
ضیعفہ ضعیف ذاکرہ ذاکر سیدانی سید حلوائن حلوائی خادمہ خادم دُلہن دُلہا
ملازمہ ملازم مغنیہ مغنی خاتون خواجہ بھتیجی بھتیجا چودھرائن چودھری دیوی دیو
فاضلہ فاضل اداکارہ اداکار عاملہ عامل بھانجی بھانجا جیٹھانی جیٹھ چوہیا چوہا
دختر پسر گلوکارہ گلوکار بالغہ بالغ نواسی نواسا دیورانی دیور ناگن ناگ
مادر پدر دھوبن دھوبی معلمہ معلم پوتی پوتا نند نندوئی طالبہ طالب
گوالن گوالہ چوکیدارنی چوکیدار قاتلہ قاتل خواہر برادر خانم خان مالکن مالک
پجارن پجاری فقیرنی فقیر جاہلہ جاہل پٹھانی پٹھان صحابی صحابی مالن مالی
ساجدہ ساجد شیخانی شیخ شاکرہ شاکر استانی  استا ذ سلطانہ سلطان والدہ والد
خطیبہ خطیب گدھی گدھا زاہدہ زاہد عالیہ عالی خالدہ خالد حجن حاجی
کنجڑن کنجڑا کمہارن کمہار عابدہ عابد صالحہ صالح حبیبہ حبیب صابرہ صابر
عادلہ عادل کتیا کتا عالمہ عالم شریفہ شریف عارفہ عارف حاسدہ حاسد

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *