ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

کیمبرج۔او لیول۔ تفہیم

تاریخ: August 29, 2026 مصنف: shakra زمرہ: کیمبرج

پرچہ اول۔ مشق نمبر ۱

کل اشارات۔۸

کل وقت ۔ ۱۵ منٹ

تفہیم کا مطلب:

  • فہمائش، سمجھانا
  • سمجھ میں آنا، معلوم ہونا، علم میں آنا، آگاہی

تفہیم کا ماخذفہم ہے ۔ یعی سمجھنا یا غور و فکر کرنا۔اس کا بنیادی مقصد طلباء کے  زبان اور سوال سمجھنے کی صلاحیت کو پرکھنا ہے ۔

 According to the syllabus, the text will be one of the following types: advertisement, brochure, leaflet, guide, report, manual, instructions, newspaper/magazine article.

تفہیم نویسی کے اصول

  • تفہیم کو دو سے تین مرتبہ اچھی طرح مکمل پڑھ لیں تا کہ متن پوری طرح سمجھ آجائے۔
  • پوچھے گئے سوالات کو بہ غور پڑھا اور سمجھا جائے کہ سوال کی نوعیت کیا ہے۔
  • سوال کے جواب میں حقائق، خیالات اور آراء کے درمیان فرق کو سمجھ کر متعلقہ معلومات ترتیب وار پیش کرنی چاہیئے۔
  • کلیدی الفاظ یا اہم سطور کو خط کشید کرلیں تاکہ عبارت کا مفہوم اور مرکزی خیال سمجھ آجائے اور سوال کا جواب تیار کرنے میں آسانی ہو۔
  • جوابی خاکہ تیار کرنے کے بعد جائزہ لیں کہ کوئی نکتہ باقی تو نہیں رہ گیا یا تمام پہلوؤں کا احاطہ کر لیا گیا ہے۔
  • اگر عبارت کا کوئی لفظ یا سطر سمجھ نہ آئے تو اسے قریب ترین لفظ یا سیاق و سباق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے معنی اخذ کرنے کی کوشش کریں۔انفرادی لفظ پر وقت ضائع نہ کریں۔
  • جہاں تک ممکن ہو جواب اپنے لفظ میں لکھیں۔ہو بہو نقل کرنے سے گریز کریں۔اس طرح جواب مبہم اور طویل ہو سکتا ہے۔
  • جوابات مکمل، واضح اور جامع لکھیں۔تکرار اور اضافی باتیں لکھ کر طول نہ دیں۔سوال کا جواب ایک لفظ میں نہ لکھیں۔
  • جب تک پوچھا نہ جائے اپنی ذاتی رائے نہ لکھیں۔دی گئی لائن کے اندر ہی جواب لکھیں۔
  • جملہ درست، خوش خط اور مکمل لکھیں۔لکھنے کے بعد نظر ثانی ضرور کریں تاکہ غلطی کا امکان نہ رہے۔
R1 identify and select relevant information.

متن سے متعلقہ معلومات کی شناخت اور چناو۔

R2 understand ideas, opinions and attitudes

متن کے خیالات،آرا  ء اور رویّوں کو سمجھنا

R3 show understanding of the connections between ideas, opinions and attitudes

متن میں پیش کردہ خیالات، آراء اور رویوں کے مابین تعلق کو سمجھنا

R4 understand what is implied but not directly stated, e.g. gist, writer’s purpose, intention and feelings

متن میں مخفی پیغامات، خیالات یا احساس کو سمجھنا

1۔عبارت غور سے پڑھیں۔تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ عبارت کو دو  سے تین  مرتبہ اچھی طرح مکمل پڑھ لیا  جائے۔اکثر کئی سوالات کے جوابات  تحریر میں ہی  ہوتے ہیں لیکن سرسری طور پر پڑھنے سے فوری سمجھ میں نہیں آتے اور یوں لگتا ہے کہ ان کے جوابات عبارت  میں موجود نہیں جب کہ متن کو غور  سے پڑھ کر سمجھنے سے بات واضح ہوجاتی ہے۔ 

2۔ سوال سمجھیں۔ عبارت کو پڑھنے کے بعد  پوچھے گئے سوالات کو بہ غور پڑھائے  اور سمجھا  جائے  کہ سوال میں پوچھا کیا گیا  ہے  اور سوال کی نوعیت  کیا ہے؟سوال کے جواب میں حقائق ، خیالات اور آرا کے درمیان فرق  کو سمجھ کر جواب دینا چاہیے۔

3۔ متن کے اہم نکات کو خط کشیدہ کرلیں۔متن میں کلیدی الفاظ یا اہم سطور  کو خط کشید کرلینے سے عبارت کا مرکزی خیال سمجھنے میں مدد ملے گی۔سوالات کے جواب  ان الفاظ اور سطروں  کی مدد سے متعین  کیے جا سکتے ہیں۔  سوال بغور  پڑھنے کے بعد  جواب لکھنے سے پہلے  ایک جوابی خاکا تیار کرلیا جائے تو یہ  معلوم  کرنے میں آسانی ہوگی  کہ سوال میں پوچھے   گئے  تمام پہلوؤں کا احاطہ کرلیا گیا ہے یا کوئی  نکتہ   باقی تو نہیں رہا۔

4۔ سمجھ نہ آنے والے الفاظ یا عبارات ۔عبارت میں اگر   کوئی لفظ یا سطر پیچیدہ ہو ،جس کا مفہوم  سمجھ  میں نہ آئے  تو قریب ترین الفاظ  اور عبارت کے سیاق و سباق کو مدّنظر  رکھتے   ہوئے معنی اخذ کرنے کی کوشش کی جائے  اور سمجھ میں  نہ  آنے والے انفرادی الفاظ پر  بے تحاشا  وقت ضائع نہ کیا جائے۔

5۔ جواب تفہیم سے نقل نہیں کرنا، اخذ کرنا ہے۔جواب جہاں تک  ممکن ہو  اپنے  الفاظ   میں لکھنے  کی کوشش  کی جائے۔ ممکنہ جواب کی عبارت  کو ہو بہو   نقل کرنے سے غیر ضروری  معلومات   کا اضافہ اور جواب کے مبہم ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔

6۔ جواب مکمل اورجامع ہو۔جوابات مکمل ، واضح اور جامع انداز میں   لکھے جائیں اور تکرار سے پرہیز کیا جائے۔ جواب اگر  مختصر اور سیدھا ہے تو اسے اتنا  ہی لکھنا کافی ہے ، بلاوجہ اضافی باتیں لکھ کر اسے طول دینے  سے گریز کیا جائے ۔ جواب لکھتے وقت ذاتی رائے یاایسے مواد کو شامل  نہ  کیا جائے جو عبارت  کےمتعلق نہ ہو ۔ جواب میں  صرف اس وقت رائے شامل کی جائے جب ذاتی رائے کےمتعلق سوال پوچھا جائے۔

 

7۔ مکمل جملے اورلائن کے اندر  جواب۔ ہر سوال کا جواب مکمل جملوں کی صورت میں دیں ، کسی بھی سوال کا جواب صرف ایک لفظ میں لکھنے سے گریز کریں   دیے گئے سوال کے نمبروں کے مطابق کم از کم اتنی ہی باتیں جواب میں ضرور شامل کریں اور  دی گئی لائن کے اندر ہی جواب لکھیں ۔

8۔تکرار سے گریز۔اپنے جوابات جہاں تک ممکن ہو جامع انداز میں لکھیں اور کسی بھی بات کو دہرانے سے گریز کریں ۔خوشخط لکھیں۔جوابات لکھنے کے بعد نظرِ  ثانی ضرور کریں  تاکہ غلطی کا امکان نہ رہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *