ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

فاعل کے ساتھ فعل کی مطابقت

تاریخ: August 29, 2026 مصنف: shakra زمرہ: درس و تدریس, صرف و نحو, قواعد

فاعل اور اسم فاعل میں فرق

فاعل اسم فاعل
فاعل جامد ہوتا ہے ۔

یہ کسی کام کرنے والے کا نام ہوتا ہے ۔

مثال :

اکرم ، ندیم ، احمد ،

سلمیٰ ، فا طمہ ، خدیجہ

وغیرہ

اسم فاعل مشتق ہوتا ہے ۔یعنی کسی مصدر سے بنا  ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی فاعلی صفت پا ئی جاتی ہے ۔

اسم فاعل کی دو اقسام ہوتی ہیں ( قیاسی ۔ سماعی )

مثال : سائل ، ظالم ، عالم

کتب فروش ، سنگ تراش ، نعت خواں

مدد کرنے والا ، کام آنے والا ،  جھٹ بولنے والا ۔

 

 

مفعول اور اسم مفعول میں فرق

مفعول اسم مفعول
مفعول جامد ہوتا ہے

یہ کسی ایسے شخص یا چیز کا نام ہوتا ہے

جس پر فعل واقع ہوا ہو ۔

 

اسم مفعول مشتق ہوتا ہے

یعنی مصدر سے بنا ہوتا ہے ۔

اس کے ساتھ کوئی مفعولی علامت پائی جاتی ہے ۔

مثال : بویا ہوا ، مرا ہوا ، مظلوم

ان میں کسی خاص چیز یا شخص کی جگہ یہ لفظ استعمال ہوئے ہیں مگر اس کا نام نہیں لیا گیا ۔

اسم حالیہ :    وہ اسم مشتق جس سے فاعل یا مفعول دونوں کی حالت ظاہر ہو ۔اس کو بنانے کے لئے مصدر کی علامت ” نا ” ہٹا کر ” تا ، تے ، تی ” لگا دیتے ہیں ۔ جیسے دوڑتا  ہوا ، بچتا ہوا ، ہنستے ہوئے ، آتی ہوئی وغیرہ

اسم معاوضہ :       وہ اسم جو کسی خدمت کے معاوضے  یا کام کی اجرت کو ظاہر کرے ۔ جیسےسلائی ،  پکوائی ، رنگوائی وغیرہ

اسم حاصل مصدر :    وہ اسم جو مصدر سے بنا ہو ۔اور اس میں مصدری معنی یا مصدری کیفیت پائی جاتی ہو ۔مثلاً  جھگڑنا سے جھگڑا ، لڑنا سے لڑائی ، سینا سے سلائی وغیرہ

اسم موصولی :          ایسے الفاظ جن کے بغیر جملہ کوئی معنی نہ دے ۔ اور نہ ہی وہ لفظ تنہا اپنے معنی دے  ، ” اسم موصولی یا موصولہ ” کہلاتے ہیں ۔جیسے          

” جس نے محنت کی اس نے عظمت پائی ۔”  ( جس نے )

مثلاً : جو ، جس نے ، جنھوں نے ، جو کوئی ،  جن ، جس وغیرہ 

( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *