فاعل اور اسم فاعل میں فرق
| فاعل | اسم فاعل |
| فاعل جامد ہوتا ہے ۔
یہ کسی کام کرنے والے کا نام ہوتا ہے ۔ مثال : اکرم ، ندیم ، احمد ، سلمیٰ ، فا طمہ ، خدیجہ وغیرہ |
اسم فاعل مشتق ہوتا ہے ۔یعنی کسی مصدر سے بنا ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی فاعلی صفت پا ئی جاتی ہے ۔ اسم فاعل کی دو اقسام ہوتی ہیں ( قیاسی ۔ سماعی ) مثال : سائل ، ظالم ، عالم کتب فروش ، سنگ تراش ، نعت خواں مدد کرنے والا ، کام آنے والا ، جھٹ بولنے والا ۔
|
مفعول اور اسم مفعول میں فرق
| مفعول | اسم مفعول |
| مفعول جامد ہوتا ہے
یہ کسی ایسے شخص یا چیز کا نام ہوتا ہے جس پر فعل واقع ہوا ہو ۔
|
اسم مفعول مشتق ہوتا ہے
یعنی مصدر سے بنا ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ کوئی مفعولی علامت پائی جاتی ہے ۔ مثال : بویا ہوا ، مرا ہوا ، مظلوم ان میں کسی خاص چیز یا شخص کی جگہ یہ لفظ استعمال ہوئے ہیں مگر اس کا نام نہیں لیا گیا ۔ |
اسم حالیہ : وہ اسم مشتق جس سے فاعل یا مفعول دونوں کی حالت ظاہر ہو ۔اس کو بنانے کے لئے مصدر کی علامت ” نا ” ہٹا کر ” تا ، تے ، تی ” لگا دیتے ہیں ۔ جیسے دوڑتا ہوا ، بچتا ہوا ، ہنستے ہوئے ، آتی ہوئی وغیرہ
اسم معاوضہ : وہ اسم جو کسی خدمت کے معاوضے یا کام کی اجرت کو ظاہر کرے ۔ جیسےسلائی ، پکوائی ، رنگوائی وغیرہ
اسم حاصل مصدر : وہ اسم جو مصدر سے بنا ہو ۔اور اس میں مصدری معنی یا مصدری کیفیت پائی جاتی ہو ۔مثلاً جھگڑنا سے جھگڑا ، لڑنا سے لڑائی ، سینا سے سلائی وغیرہ
اسم موصولی : ایسے الفاظ جن کے بغیر جملہ کوئی معنی نہ دے ۔ اور نہ ہی وہ لفظ تنہا اپنے معنی دے ، ” اسم موصولی یا موصولہ ” کہلاتے ہیں ۔جیسے
” جس نے محنت کی اس نے عظمت پائی ۔” ( جس نے )
مثلاً : جو ، جس نے ، جنھوں نے ، جو کوئی ، جن ، جس وغیرہ
( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭