ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

علم ِ بیان

تاریخ: August 29, 2026 مصنف: shakra زمرہ: درس و تدریس, قواعد

علم ِ بیان کے معنی ہیں  واضع کرنا اور روشن کرنا ۔ یہ کسی بھی تحریر کی نگارش میں خاص اہمیت رکھتی ہے ۔ اس میں تحریر کو آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے  اور تحریر  میں فصاحت و بلاغت پیدا ہوتی ہے ۔یہ وہ علم ہے جس کی مدد سے ایک مضمون کو مختلف طریقوں سے بیان کیا جاتا ہے ۔

علم ِ بیان کی چار اقسام / ارکان ہوتے  ہیں ۔

1۔ تشبیہ 2۔ استعارہ   3۔ کنایہ    4۔ مجاز مرسل    

تشبیہ : یہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ یہ ” شبہ ” سے نکلا ہے ۔ کسی مشارکت کی بنا پر ایک چیز کو دوسری چیز جیسا کہنا تشبیہ کہلاتا ہے

اس کے ارکان کی تعداد پانچ ہے ۔

1۔ مشبہ   2۔ مشبہ بہ     3۔ وجہ شبہ   4۔ حرف ِ شبہ 5۔ غرض ِ تشبیہ

مثال :     1۔ آسیہ کی رنگت چاند کی طرح سفید ہے ۔

مشبہ : آسیہ مشبہ بہ : چاند    وجہ شبہ : رنگت حرف ِ شبہ : کی طرح      غرض ِ تشبیہ : سفید

2۔اکرم گیدڑ کی طرح  ڈرپوک ہے ۔

مشبہ : اکرم مشبہ بہ : گیدڑ    وجہ شبہ : ڈرپوک        حرف ِ شبہ :کی طرح               غرض ِ تشبیہ : ڈرپوک

 

 

مشق

شربت شہد کی طرح میٹھا ہے۔                   کپڑا روئی کی طرح نرم ہے ۔

بلی کا رنگ کوئلے کی طرح سیاہ ہے ۔                      فواض بانس کی طرح لمبا ہے ۔

حِرا کی آنکھیں عقاب کی طرح تیز ہیں۔            ندیم گیند کی طرح موٹا ہے ۔

بچے فرشتوں کی طرح معصوم ہوتے ہیں۔          میری چھوٹی بہن پریوں کی طرح خوبصوت ہے۔

شیرو لومڑی کی طرح مکار ہے                   کلیم جلاد کی طرح ظالم ہے۔

 

استعارہ : لغت میں عاریتاً ( ادھار ) لینے اور کچھ دینے کے لئے مانگ لینے کو استعارہ کہتے ہیں  ۔ان دونوں میں تشبیہ کا تعلق ہونا ضروری ہے۔اس میں کسی شخص یا چیز کو ہو بہو دوسرا کہہ دیا جاتا ہے۔

مثال :    بہادر کو شیر کہنا        بزدل کو گیدڑ کہنا       شریر کو شیطان کہنا            وغیرہ

استعارے کے اجزاء

استعارے کے اجزاء یا ارکان کی تعداد تین ہوتی ہے

مستعار لہ :           استعارہ میں مستعار لہ کا ذکر  نہیں آتا۔

مستعار منہ :          یہ اپنے حقیقی معنی نہیں دیتا بلکہ مستعار لہ کے معنی دیتا ہے

وجہ جامع :           جو مطلب اخذ کیا جاتا ہے ۔ اس کا بھی ذکر نہیں ہوتا۔

 

مثال :         میرا چاند سو رہا ہے۔

مستعار لہ : بیٹا               مستعار منہ : چاند         وجہ جامع : محبت ، دل کی ٹھنڈک

 

استعارہ کی مشق

ننھی ماریہ چاند ہے۔            ظہور لومڑی ہے۔         شربت شہد ہے ۔

کیسی کیسی صورتیں خاک ہوگئیں۔                               کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

پاکستانی شیروں نے بھارتی گیدڑوں  کو بھگا دیا۔                      عرب کا چاند طلوع ہوا۔

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے                         پلکوں سے گر نہ جائیں یہ موتی سنبھال لو

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا                                       ا چھے عیسیٰ ہو مریضو ں کا خیال اچھا ہے

 

کنایہ :   کنایہ کے لغوی معنی ہیں ” چھپی ہوئی بات کرنا ”۔ اصطلا ح میں کنایہ ایسے الفاظ کے مجموعے کو کہا جاتا ہے جو مجازی یا غیر حقیقی معنوں کے لئے استعمال کئے جائیں ۔ اس کے معنی مبہم اور پوشیدہ ہوتے ہیں۔

مثال :   زید کو آپ نے سر پر چڑھا رکھا ہے۔( آپ نے زید کو بگاڑ دیا ہے یا بدتمیز بنا دیا ہے۔)

بال سفید ہوگئے پر عادتیں نہ بدلیں۔(یہاں بال سفید ہونے سے مراد بڑھاپا ہے۔)

اس کو کالے نے کاٹا، ( یہاں کالے سے مراد سانپ ہے۔)

کنایہ کی اقسام( معنی کے لحاظ سے )

1۔ ضمیر             2۔ اشارہ ( تلویح ، رمز ، ایما ، تعریض )

3۔موصول         4۔مبہمات             5۔ادات پرسش

کنایہ کی صورتیں:            1۔ کنایہ قریب                  2۔ کنایہ بعید

کنایہ کے اجزاء :                   1۔ لازم                  2۔ملزوم

کنایہ کی مثالیں :

مگس کی قے ( شہد )           لولی فلک ( زہرہ)         خسرو انجم ( سورج )      ترک فلک ( مریخ)

آب آتشیں ( شراب)                اپنا کعبہ جدا بنانا ( سب سے الگ رہنا )         سر پر چڑھنا  ( بد تمیز ہونا )

نیام طویل ہونا ( لمبا قد ہونا )    بلند ستون ( قبیلے میں عزے و مقام )  چولہے میں ذیادہ راکھ ( ذیادہ کھانا پکنا یعنی سخاوت )

ایک ہی سانچے میں ڈھلے ( شکل صورت ، عادات میں ایک جیسے )

 

مجاز مرسل: یہ علم بیان کی ایک قسم ہے۔ جب لفظ اپنے حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں اس طرح استعمال ہوکہ ان کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق نہ ہو۔ بلکہ اس میں  کوئی اور ہی تعلق پایا جائے۔اصل میں یہ استعارہ  سے تھوڑی الگ قسم ہے۔اس مین کسی ایک کو وجہ مان کر دوسری اشیاء کے متعلق بتایا جاتا ہے۔

 

مثال :         روٹی کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ ( روٹی سے مراد روزگار ہے۔)

ہم آپ کی چشم عنایت کے محتاج ہیں۔ ( توجہ )

ایک گلاس ہمیں بھی دیں۔ ( پانی یا شربت وغیرہ )

 

مجاز مرسل کی اقسام :   1۔جزو بول کر کُل مراد لینا       (الحمد  جزو ہے،کل مکمل  سورہ فاتحہ )

2۔کُل بول کر جزو مراد لینا         (بازار سے قلم خریدا، جبکہ ایک  دکان سے خریدا )

3۔سبب بول کر مسبب مراد لینا      ( بادل خوب برسا : بادل سبب ، برسات مسبب )

4۔مسبب بول کر سبب مراد لینا      (چولہا جلتا ہے: آگ سبب ہے)

5۔ظرف بول کر مظروف مراد لینا  (فوارہ ابل رہا ہے : مراد پانی ہے )

          6۔مظروف بول کر ظرف مراد لینا        (سالن ڈھانپ دو : مراد برتن ڈھانپ دو ) تشبیہ اور استعارہ کا فرق

تشبیہ استعارہ
·      یہ حقیقی ہوتی ہے  ۔

·      اس کے پانچ ارکان ہوتے ہیں ۔

·      اس میں حرف تشبیہ ہوتا ہے ۔

·      پانچ ارکان میں سے کم از کم دو ( مشبہ ، مشبہ بہ ) کا ذکر ہوتا ہے ۔

·      یہ علم بیان کی ابتدائی شکل ہے ۔

·      اس کی بنیاد حقیقت پر ہے ۔

·      اس میں ایک شے کو دوسری شے کی مانند قرار دیا جاتا ہے ۔

·      اس کے لفظی معنی ” مشابہہ قرار دینا ” کے ہیں ۔

·       یہ مجازی ہوتی ہے ۔

·       اس کے تین ارکان ہوتے ہیں ۔

·       اس میں حرف تشبیہ نہیں ہوتا ۔

·       اس میں تین میں سے ایک ( مستعار منہ ) کا ذکر  ہوتا ہے  ۔

·       یہ علم بیان کی انتہائی شکل ہے ۔

·       اس کی بنیاد خیال پر ہے ۔

·       اس میں ہو بہو وہی  چیز مراد لی جاتی ہے

·       اس کے لفظی معنی  ادھار لینا کے ہیں ۔

 

 

( مرتب کنندہ  :  شاکرہ کا ظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *