ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

ہجرتِ مدینہ۔ اخلاقِ حسنہ ۔شبلی نعمانی

تاریخ: September 6, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

 تعارف مصنف ( شبلی نعمانی) ۱۸۵۷۔۱۹۱۴

اصلی نام محمد شبلی تھا۔آپ نے منطق، عربی، فلسفہ، ادب، فقہ و حدیث،  عربی ادب، فنونِ بلاغت، فرانسیسی زبان اور فلسفہ میں مہارت حاصل کی۔آپ نے روم ، شام اور مصر کا سفر کیا اور وہاں کے کتب خانوں  سے اپنی تصانیف  کے لئے مواد اکٹھا کیا۔حکومت نے انہیں  ’’شمس العلمأ ‘‘ کا خطاب دیا۔آپ نے لکھنؤ میں ندوۃ العلمأ کی بنیاد ڈالی۔ دینی مدارس کا نصاب  مقرر کیا۔آپ نے تمام عمر تعلیم و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزاری۔آپ کی چند مشہور تصانیف یہ ہیں:۔

سیرت نگاری

سیرت عربی زبان کا لفظ ہے۔لغت کے اعتبار سے سیرت کے معنی کسی انسان کے چال  چلن ، رہن سہن، عادات و اخلاق اور طرزِ حیات ہیں۔سیرت کا لفظ سوانح حیات کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔

اصطلاحی اعتبار سے یہ معنی و مفہوم  صرف پیغمبرِ خدا حضرت محمد  مصطفیٰ ؐ کے لئے مخصوص و محدود ہیں ۔رسول اللہ ﷺ کے حالات ِ زندگی اور عادات و اخلاق بیان کرنے کا نام سیرت ہے۔سیرت کا سارا ذخیرہ احادیث ہے۔اس میں غزوات اور سرایا کے وقعات بھی شامل ہیں۔حضرت عروہ بن زبیر کی کتاب“ مغازی الرسول“ کو سیرت کی پہلی کتاب مانا جاتا ہے۔

شبلی نعمانی کی سیرت نگاری

شبلی نعمانی نے بر صغیر میں سیرت و سوانح نگاری میں بڑا کام کیا۔“ سیرت النبی“ ان کا ایک شاہکار کارنامہ ہے۔شبلی نے اس کی دو جلدیں لکھیں۔ان کے انتقال کے بعد ان کے شاگرد سلمان ندوی نے باقی جلدیں مکمل کیں۔

سات  ضغیم جلدوں پر مشتمل یہ کتاب نہ صرف اردو بلکہ دنیا بھر میں بہترین کتب سیرت مانی جاتی ہے۔

مشہور تصانیف: سیرت النبی ، الفاروق ، المامون ، سوانح مولانا روم ، سیرت النعمان ، علم الکلام ، موازنہ انیس و دبیر  اور  شعر العجم۔

نئے الفاظ کے معنی

  • متفقا: متحد ، ایک ساتھ
  • وقار ر متانت : قدر و منزلت ، شان
  • خاطر شکنی : دل توڑنا ، نا خوش کرنا
  • متبرک : برکت والا ، مقدس
  • اِذن مانگا : اجازت مانگی
  • ملامت : ڈانٹنا ، بُرا کہنا
  • قدم رنجہ فرمانا : کسی کے گھر تشریف لانا
  • امتثال امر : کہنا ماننا ، حکم بجا لانا
  • استہزاء : مذاق اُڑانا
  • خوش لحن : سُریلی آواز والا
  • صاع غلّہ : صاع غلّہ ناپنے کا پیمانہ،وزن کے اعتبار سے تین کلو ،ایک سو انچاس گرام، دو سو اسّی ملی گرام
  • مُسَقّف : وہ جگہ جس پر چھت ڈالی گئی ہو
  • رضاعی : ایک ساتھ دودھ پینا ،(ڈھائی سال کے اندر اگر کوئی عورت دودھ پلائے تو وہ رضاعی ماں کہلاتی ہے)
  • بوسہ دینا : چومنا
  • پیش دستی: پہل کرنا
  • صیغئہ تعمیم: سب کو شامل کرنا ، عمومیت
  • ابہام: چھُپا ہوا ، اِخفا ، پوشیدہ

الفاظ معنی

  • حافظِ عالم دنیا کا محافظ مراد اللہ تعالیٰ
  • دارالامان امن و امان کا گھر
  • دارالشوریٰ مشورے کرنے کی جگہ
  • خلائق خلقت مراد لوگ
  • محبوس قید
  • ہمہ تن چشمِ انتظار بے تابی سے انتظار کرنا
  • خون بہا خون یا قتل کے بدلے جو رقم لی جاتی ہے
  • قرائن قیاس یا اندازہ
  • افتادہ زمین بیکار زمین
  • کوکبہ شاہی سواری کے آگے چلنے والا جلوس

    مرکزی خیال

    مذکورہ سبق ‘ اخلاق حسنہ’ شبلی نعمانی کی تصنیف ہے۔یہ اُن کی لازوال تصنیف سیرت النبیﷺ کی جلد دوم  سے ماخوذ ہے۔مصنف نے حضورﷺ کے اعلیٰ اخلاق بیان کرتے ہوئے ہمیں بھی انہیں اپنانے کی اور سیرت کی پیروی کرنے کی دعوت دی ہے۔ 

    خلاصہ سبق

       سبق ‘ اِ خلاقِ حسنہ کے مصنف  ‘مولانا شبلی نعمانی’ ہیں۔یہ سبق ” سیرۃ النبیﷺ جلد دوم ” سے ماخوذ ہے۔

    اِس سبق میں مصنف آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق بیان کرتے ہوئےہمیں بھی انہیں اپنانے کا دعوت دیتے ہیں۔اس سبق میں مصنف نے آپ کے اخلاق کے بارے میں بہت سے واقعات قلم بند کئے ہیں۔حضرت علیؑ اور حضرت عائشہؓ کے بیان کے مطابقآپﷺ نرم خُو ، خوش اخلاق ، اور نیک اطوار کے مالک تھے۔ہمیشہ پہلے خود مصافحہ کرتے، مجلس کے آداب کا خیال رکھتے، مہمان نوازی کرتے، لوگوں کے دکھ سُکھ میں شریک ہوتے، غریبوں  اور نوکروں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے، رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے، بچوں سے محبت فرماتے۔غرض آپﷺ تمام خوبیوں کا ایک مکمل نمونہ تھے۔اللہ ہمیں اُنﷺ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق  عطا فرمائے ( آمین)۔

    اقتباس کی تشریح کا طریقہ

    اقتباس: (عبا د بن شرجیل مدینہ میں ایک صحابی تھےٍ……….جس کی بد زبانی کی وجہ سے لوگ اِس سے ملنا جلنا چھوڑ دیں)۔

    حوالہ سبق:

    حوالہ و تعارف ِ  مصنف :

    سیاق و سباق :

    تشریح :

    تبصرہ:

    مشقی سوالات

  • متضاد الفاظ

    درج ذیل الفاظ میں باہم متضاد جوڑیاں تلاش کرتے ہوئے انہیں جملوں میں استعمال کریں۔

    .1ذیادہ پیسہ کمانے کی دُھن میں خلیل کو اندازہ ہی نہ ہوا کہ  کب اس کی جوانی بڑھاپے میں بدل گئی۔

    .2خزاں میں جن درختوں کے پتے جھڑ گئے تھے بہار آتے ہی  وہ پھر سے ہرے بھرے ہو گئے۔

    .3ہمیں اِس عارضی دنیا میں دل نہیں لگانا چاہیئے بلکہ ابدی دنیا  کی تیاری کرنی چاہیئے۔

    .4فیض احمد نے اپنی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے۔

    .5رسول اکرم ؐ کے اخلاق اتنے اچھے تھے کہ حریف اور حلیف سب ہی تعریف کرتے تھے۔

    .6با ہمت نوجوان اپنی ہمت اور جوانمردی سے ہر دشوار کام کو سہل بنا لیتے ہیں۔

    News (north,east,west,south)

    خبر

    کوئی بھی نئی یا حالیہ واقعے کی معلومات  جو عام طو پر خبر رساں ادارےپیش کرتے ہیں؛ خبر کہلاتی ہے۔ایک خبر میں پانچ 

    یعنی سوالوں کے جواب آنے چاہئیںw

    What, when, who, why,where.

    یعنی واقعہ کیا ہوا؟ ،کیوں ہوا ؟ ، کہاں ہوا ؟ ، کب ہوا ؟، کون ملوث تھا ؟ ، کیسے ہوا ؟ ۔

    اجزاء : ابتدائیہ ، تجسس ، تفصیلات و توضیحات۔

    اقسام : سیاسی خبر ، جرائم کی خبر ، ادبی خبر ، ثقافتی خبر ، کھیلوں کی خبر ، حادثات کی خبر ، پارلیمانی خبر ، تجارتی خبر ، تقریری خبر ، تعلیمی خبر وغیرہ ۔

    مثالیں

    .1کوہاٹی کے قریب ٹرانسفارمر میں آگ لگ گئی۔

    .2ڈیفنس موڑ پر تیز رفتار ٹرک کی کار اور موٹر سائیکل کو ٹکر، چار افراد کی  موقع پر ہلاکت۔

    .3اسٹیٹ بنک نے ملکی زرِ مبادلہ کے اعدادوشمار جاری کر دیئے۔

    .4وزیرِ اعظم نے پاکستان میں یک جہتی اور اتفاق  کی ضرورت پر زور دیا۔

    .5ارشد ندیم نے جیولن تھرو میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔

    .6محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں مون سون کی بارشوں کی پیش گوئی کردی۔

    .7عدالت نے مجرم کو ایک ہفتے میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

    اداریہ…Editorial

    اداریہ اس مضمون کو کہتے  ہیں جو  اخبار کے نام کی پٹی کے نیچے شائع ہوتا ہے۔اسے کوئی تجربہ کار رکن یا ناشرکسی موجودہ موضوع پر اظہارِ خیال کرتا ہے اور قاری کو مختلف ترغیبی طریقوں سے اپنے نقطہ نظر سے متفق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس میں دلیل کے ساتھ بات کی جاتی ہے تاکہ قاری ایک منطقی نتیجہ اخذ کرسکے۔

    کسی اچھے اخبار کے لئے اس کے اداریے بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔اس کے ذریعے عوام کی رہنمائی کی جاتی ہے ، کسی مسئلے سے متعلق حقائق کق خلاصہ کیا جاتا ہے اور مختلف حکومتی محکموں کا احتساب بھی کیا جاتا ہے۔

    اداریے کی اقسام

    مواد کے اعتبار سےاداریے کی تین اقسام ہیں

    .1معلوماتی اداریے

    .2استدلالی اداریے

    .3تفریحی اداریے

    .4سیاسی اداریے

    .5معاشی اداریے

    .6معاشرتی اداریے

    .7سائنسی معلوماتی اداریے

    فیچر…Feature

    جرنلزم میں فیچر سے مراد ایسی تحریر جس میں  کسی واقعے کی  لفظی تصویر افسانوی یا  ڈرامائی انداز میں  خوب صورتی سےپیش کی جائے۔یہ عام فہم ، پُرکشش اور دلچسپ ہو۔

    اخبار مالکان  عوام کی دلچسپی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے معلوماتی اور دلچسپ فیچر اخبار میں شائع کرتے ہیں۔

    فیچر نویس کے اوصاف

    وسیع مطالعہ ، متوازن شخصیت ، اخبار کی پالیسیوں سے واقفیت ، اپنا اسلوب ، ادب کا رنگ۔

    فیچر کی اصناف

    .1واقعاتی یا خبری فیچر

    .2وضاحتی فیچر

    .3سائنسی فیچر

    .4سوانحی یا شخصی فیچر

    .5تاریخی فیچر

    .6سماجی یا معاشرتی فیچر

    .7ریڈیو فیچر

    .8سیاحتی فیچر

    .9ملاقات یا ذاتی تجربات پر مبنی فیچر

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *