ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

مرید پور کا پیر ۔ پطرس بخاری

تاریخ: September 6, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

مرید پور کا پیر ۔ پطرس بخاری

تعارف مصنف

  • آپ اردو کے نامور مزاح نگار ، افسانہ نگار، مترجم ، شاعر، نقاد، معلم، ماہر نشریات اور پاکستان کے سفارت کار تھے۔
  • پطرس بخاری کا اصل نام سید احمد شاہ بخاری تھا۔
  • آپ پشاور میں پیدا ہوئے۔
  • آپ گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل رہے۔
  • اقوام متحدہ میں آپ پاکستان کے مندوب مقرر ہوئے۔
  • آپ کی مزاح نگاری میں شوخی اور لطافت ہے۔اس میں تمسخر اور طنز کی آمیزش نہیں ہے۔
  • روزمرہ زندگی سے مزاح کے پہلو تلاش کرنا ان کے لئے معمول کی بات تھی۔
  • پطرس کی تخلیقات ذیادہ تر متفرق مضامین ، مقالوں ، دیباچوں اور تقریروں کی صورت میں مختلف رسالوں میں بکھری ہوئی ہیں ۔ تاہم ان کی زندگی میں صرف  ” پطرس کے مضامین ” ہی شائع ہو سکی۔
  • تصانیف :کلیات پطرس، پطرس کے مضامین، پطرس کے خطوط، افسانے ڈرامے اور ناولٹ، خطبات پطرس، تنقیدی مضامین، تخلیقات پطرس اور اقوام متحدہ میں تقاریر کا مجموعہ۔

 

 

مزاح نگاری

یہ انشائیہ کی وہ قسم ہے جس میں با محاورہ زبان کو بڑے لطیف انداز اور وقار کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔  منتخب موضوع اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ قاری اس کی شگفتگی ، لطافت اور طنز و مزاح سے لطف اندوز ہوں ۔ ظرافت کے پہلو اس حد تک نمایاں ہوں کہ پڑھنے اور سننے والے کی زبان اور کان بار محسوس نہ کریں ۔ بلکہ تبسم  ریز رہیں ۔

  • مضامین ِ پطرس۔۔پطرس بخاری
  • خاکم بدہن ، چراغ تلے ، آب گُم۔۔مشتاق احمد یوسفی

سبق کا تعارف

یہ سبق اردو کے نامور مزاح نگار   ” پطرس بخاری ” کا لکھا ہوا ایک مزاحیہ مضمون ہے۔ اس میں انہوں نے ایک خود ساختہ لیڈر کا نقشہ کھینچا ہے۔

مصنف کبھی اپنے وطن نہیں جاتا تھا۔ جب لوگ پوچھتے تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتا۔اس لئے لوگوں میں مختلف غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں ۔انہیں دور کرنے کے لئے مصنف بیان کرتا ہے ۔ ایک سال شہر میں کانگریس کا جلسہ ہوا۔ مصنف کو چھٹیاں تھیں اس لئے وہ بھی چلے گئے وہاں جو کچھ سنا اس کی روداد اپنے بھتیجے کو خط میں لکھ بھیجتا۔ جسے وہ بڑی عقیدت سے پڑھتا اور مقامی اخبار میں چھپوادیتا۔ اس طرح مصنف مرید پور میں ایک لیڈر کے طور پر مشہور ہو گیا۔مصنف ان حالات سے بالکل بے خبر تھا ۔

انہی دنوں پورے ملک میں جلسے جلوس شروع ہوگئے۔ مرید پور میں بھی ایک جلسہ رکھا گیا ، جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ پہلے تو وہ حیران ہوا پھر حامی بھر لی۔تقریر کی خوب تیاری کی اور ایک خاکہ  کاغذ پر نوٹ کرلیا۔

 جب وہ مرید پور پہنچا تو خوب شاندار استقبال ہوا  اور جلسہ گاہ لے جایا گیا۔مصنف کو تقریر کی دعوت دی گئی۔ مصنف کو پہلے نوٹ دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو نوٹ موجود نہیں تھا۔ اس کے حواس گُم ہوگئے کہ اب تقریر کیسے ہوگی۔۔!جیسے تیسے تقریر شروع کی۔مگر آواز کانپنے لگی، بے ربط جملے منہ سے نکلنے لگے۔لوگ ہنسنے لگے۔ کچھ لوگوں نے کاغذ کی گولیاں بنا کر مارنی شروع کر دیں ۔مصنف بھاگ کر سیدھا ریلوے اسٹیشن پہنچا اور ریل میں گھُس گیا۔اس دن کے بعد  مصنف نے کبھی مرید پور جانے کی کوشش نہیں کی۔

خالی جگہیں

  1. خدا آپ سب پڑھنے والوں کو انصاف کی توفیق دے۔
  2. خط پڑھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔
  3. لیڈری کا نشہ ایک لمحے میں ہی چڑھ جاتا ہے۔
  4. گھٹا سر پہ ادبار کی چھا رہی ہے۔
  5. دنیا میری انکھوں کے سامنے تاریک ہو رہی تھی۔
  6. پطرس اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب مقرر ہوئے۔
  7. مرید پور کا سفر آٹھ گھنٹے کا تھا ۔
  8. لیڈر نے اپنی تقریر کا ایک خاکہ سا تیار ک لیا۔
  9. مرید پور کی انجمن نوجوانانِ ہند کی طرف سے لیڈر کو دعوت نامہ موصول ہوا۔
  10. لیڈر کے مطابق مضمون لکھنے کا مقصد غلط فہمیاں دور کرنا تھا۔

 

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *