علم ِ بدیع
یہ اردو ادب کی ایک اہم قسم ہے ۔ اس کے لفظی معنی کلام میں نُدرت پیدا کرنا ، کوئی اچھوتی بات کرنا یا زاویہ پیدا کرنا کے ہیں ۔اس علم میں الفاظ کے معنوی حسن اور طریقۂ استعمال کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ اس علم میں مختلف صنعتیں بیان کی جاتی ہیں ۔ اس کے دو اہم حصے ہیں ۔
| صنائع معنوی | صنائع لفظی |
| کلام میں استعمال ہونے والی زائد خوبیاں اگر ہمارے ذہن کو کلام کے معنوی حسن کی طرف لے جائیں تو انہیں صنائع معنوی کہتے ہیں ۔ اس صنعت میں گہری سطحوں کو ملحوظ ِ خاطر رکھا جاتا ہے اور معنوی حسن کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ | صنعت کے لفظی معنی بناوٹ کے ہیں ۔ بنانے والا صانع اور بننے والا مصنوع کہلاتا ہے ۔ شاعر لفظوں کو سمجھنے اور پرکھنے والا ہوتا ہے ۔ وہ معنوی اعتبار سے لفظوں کی مختلف شکلیں بناتا ہے اور روایتی شاعری میں مختلف صنعتیں استعمال کرتا ہے ۔ |
| صنعت حسن تعلیل | صنعت قلب |
| صنعت لف و نشر | صنعت سیاہ ا لا اعداد |
| صنعت تضاد | صنعت ترصیع |
| صنعت سوال و جواب | صنعت ابہام / ایہام / توریہ |
| صنعت تجنیس | صنعت منقوطہ |
| صنعت جمع | صنعت غیر منقوطہ / عاطلہ |
| صنعت تفریق | صنعت ذوالقوافی |
| صنعت اشتقاق | صنعت لزوم مالا یلزم |
| صنعت تکرار | صنعت مہملہ |
| صنعت مراعات النظیر | صنعت نظم و نثر |
| صنعت تلمیح | صنعت طباق ایجابی |
| صنعت مبالغہ / غلو | صنعت سجع |
| صنعت تجاہل عارفانہ | صنعت تعجب |
| صنعت تنسیق الصفات | صنعت ترافق |
| صنعت تعلی | صنعت تاکید الدم بما یشبہ المدح |
| صنعت مکر شاعرانہ | |
| صنعت ادماج | |
| صنعت تبلیغ | |
| صنعت رد العجز | |
| صنعت مقابلہ | |
| صنعت عکس | |
| صنعت توجیہہ | |
| صنعت غراق | |
| صنعت براعت الا ستہلال | |
| صنعت اطراد |
صنائع لفظی
صنعت قلب : قلب ے لغوی معنی ” بدلنا ” کے ہیں ۔ انقلاب اسی لفظ سے مشتق ہے ۔ اگر کسی لفظ کو الٹنے سے دوبارہ وہی لفظ بن جائے ؛ تو اسے صنعت قلب کہتے ہیں ۔ اس کی تین صورتیں ہیں ۔
- قلب ِ کُل 2 – قلب بعض 3- قلب مستوی
دنیا میں ہے خزانہ لڑائی کا گھر سدا
از روئے غور گنج کو الٹو تو جنگ ہے
صنعت سیاہ الا اعداد : ایسا کلام جس میں اعداد کا ذکر ملے ۔اس کی کئی صورتیں ہوتی ہیں ۔ کبھی ایک مصرعے میں کچھ اعداد کا ذکر ہوتا ہے ۔ اور دوسرے مصرعے میں ان کا مجموعہ ہوتا ہے ۔ کبھی متواتر اعداد ہوتے ہیں ۔ ان کی کوئی معین صورت نہیں ہے ۔
اب تو شش جہت تنگ ہے ہم پر
اس سے ہوتے نہ ہم دوچار اے کاش !
آکے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے
جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پسِ دیوار گرے
صنعت ترصیع / سجع : یہ ایسی صنعت ہے جس میں شعر کے دونوں مصرعوں کے تمام ارکان باہم ہم وزن اور ہم سجع ہوں ۔ سجع کو عموماً نثر کی صنعت شمار کیا جاتا ہے ۔ یعنی دونوں مصرعوں کے ذیادہ یا تمام الفاظ ہم قافیہ ہوں یا ایسے الفاظ جن کی آخری آوازیں ایک جیسی ہوں ۔ جیسے یار ، غار ، انکار ، افکار وغیرہ ۔
باصر ہیں یا بصیر ہیں اہل ِ وفا ہیں ہم
قادر ہیں یا قدیر ہیں اہلِ سخا ہیں ہم
صنعت ابہام / ایہام / توریہ : اس کے معنی ہیں وہم میں ڈالنا ۔شاعر اپنے کلام میں عموماً ایسے ذو معنی الفاظ استعمال کرتا ہے جس میں قریب کا مفہوم ہوتا ہے ، جس کی طرف فوری ذہن جاتا ہے ۔ لیکن غور کرنے پر سمجھ آتا ہے کہ اس کا مقصد بعید کی طرف اشارہ کرنا ہے ۔
شعلے جو اٹھے آتش ِ رخسا ر ِ یا ر کے
بالے کی مچھلیوں کو سمندر بنا دیا
صنعت ِ منقوطہ : ایسا شعر جس میں تمام الفاظ نقطے دار استعمال ہوئے ہوں ۔
نے تیغ نے شقی بچے نے تیغ زن بچے
بنیی بچی نے چین جبین نے ذقن بچے
صنعت غیر منقوطہ / عاطلہ : ایسا شعر یا کلام جس میں کوئی بھی نقطے والا لفظ نہ ہو ۔
اور کسی کا آسرا ہو سر گروہ اس راہ کا
آسرا اللہ کا اور آل ِ رسول ؐ کا
صنعت ذوالقوافی : ایسا کلام جس میں دو قافیے استعمال ہوئے ہوں ۔
صبا اُڑا کے نہ لے جا مرا غبار کہیں
کہ مجھ سے چھوٹنے کی آستان ِ یار نہیں
صنعت ِ طباق : دو ایسے الفاظ کا استعمال جو معنی کے اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد ہوں ۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ؐ دین بھی ایمان بھی ایک
صنائع معنوی
صنعت حُسن ِ تعلیل : تعلیل کے لغوی معنی ” وجہ متعین کرنا ” یا ” وجہ بیان کرنا ” کے ہیں ۔ اصطلاح میں اس سے مراد کسی چیز یا امر کی حقیقی علّت یا وجہ سے توجہ ہٹا کر اس کی کوئی اور وجہ بیان کرنا ہیں ۔ مگر اس میں کوئی شاعرانہ جدّت و نزاکت ہو ۔
کون سی ہے وہ مصیبت مجھ پہ جو ٹوٹی نہیں
رات دن گردش میں ہیں ہفت آسماں مرے لئے
صنعت لف و نشر : ” لف ” کا مطلب ہے ” لپیٹنا ” اور ” نشر ” کا مطلب ہے ” کھولنا ۔ کسی ایک شعر میں کچھ الفاظ لپیٹ کر بیان کرنا ، پھر دوسرے شعر میں ان الفاظ کو کھولنا ۔ یہ ایک مصرعے میں بھی ہو سکتا ہے اور دو مصرعوں میں بھی ۔اس کی تین اہم صورتیں ہیں ۔
1 ۔ مرتب 2 ۔ غیر مرتب 3 ۔ معکوس ا لتر تیب
ترے رخسار و قد و چشم کے ہیں عاشق زار
گُل جدا ، سرو جدا ، نرگس ِ بیما ر جدا
صنعت تضاد : جب شعر میں ایسے الفاظ کو ایک ساتھ لایا جائے جن میں بہ اعتبار معنی تضاد یا ضد پائی جائے ۔ اُسے صنعت تضاد کہتے ہیں ۔
اسے فکر کیا سزا و جزا کی
تری آرزو جس نے صبح مسا کی
صنعت سوال و جواب : اس میں شعر کے اندر ہی سوال کیا جاتا ہے اور پھر شعر میں ہی اس کا جواب دیا جاتا ہے ۔
کہا کہ اونٹ پر بیٹھیں کہا کہ اونٹ پر بیٹھو
کہا کوہان کا ڈر ہے کہا کوہان تو ہوگا
صنعت جمع : کلام میں جب کچھ چیزیں ایک حکم میں جمع ہوں اور پھر ہر ایک کو خصوصیت کے ساتھ منسوب کریں ، اس کو جمع تقسیم کہتے ہیں ۔
رنج راحت غم خوشی کچھ بھی نہیں
جز فریب ِ آگہی کچھ بھی نہیں
صنعت تفریق : یہ صنعت جمع کے الٹ کام کرتی ہے ۔ اس میں فرق بیان کیا جاتا ہے ۔
ترے سرو قامت سے اِک قد ِ آدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
صنعت تجنیس : اس کے معنی ہیں ایک ہی جنس یا ایک ہی نوع کا ہونا ۔ اس کی تین قسمیں ہیں ۔
الف ۔ تجنیس ِ تام : شعر میں ایسے دو الفاظ کا استعمال جن کا تلفظ ایک ہو لیکن مختلف ہوں ۔
سب سہیں گے ہم اگر لاکھ برائی ہوگی
پر کہیں آنکھ لڑائی تو لڑائی ہوگی
ب ۔ تجنیس ِ محرف : کلام میں ایسے الفاظ کا استعمال جن کے حرووف یکساں ہوں مگر حرکات و سکنات میں فرق ہو ۔
یہ بھی نہ پوچھا کسی صیاد نے
کون رَ ہا کون رِ ہا ہوگیا
تجنیس ِ مضارع : جب دو لفظوں کے بعض حروف مختلف ہوں اور ان میں ایک حرف سے ذیادہ قریب المخرج ہوں ۔ یعنی ان کو ادا کرنے میں حلق کا ایک ہی حصہ یا اس کے قریب کا اہم حصہ کام میں لایا جائے ۔
زندگی بھی ہم سے ہے بےزار
زندگی سے بھی ہیں ہم بے زار
صنعت اشتقا ق : جب کلام میں ایک اصل کے چند الفاظ لائے جائیں اور ان لفظوں میں اصل لفظ کے حروف کی ترتیب بھی قائم رہے اور اصل میں جو معنی ہیں اس سے بھی موافقت ہو ؛ یعنی ایسے الفاظ بولے جائیں جو ایک ہی مادے سے بنے ہو ں ۔
تُو مرے حال سے غافل برائے غفلت کیش
ترے اناز تغافل نہیں غفلت والے
صنعت تکرار / تکریر : تکرار یا تکریر ایسی صنعت کو کہتے ہیں جس میں دو لفظ ایک ہی معنی رکھتے ہوں اور شعر یا مصرعوں میں برابر جمع کئے جائیں ۔یعنی کسی شعر یا جملے میں کسی ایک لفظ کی تکرار کی جائے ۔یا دہرایا جائے ۔
پتھر کو گوہر کہہ کہہ کر
بد تر کو بہتر کہہ کہہ کر
صنعت تر صیع : ایسا شعر جس کے دونوں مصرعوں میں ترتیب کے ساتھ ایسے الفاظ لائے جائیں جو ہم وزن اور ہم قافیہ ہوں ۔
تیرا حُسن ہے عالم عالم
میرا عشق ہے تنہا تنہا
صنعت مراعات النظیر : کلام میں ایسے الفاظ جمع کئے جائیں جن کے معنی میں ایک دوسرے کے ساتھایک نسبت واقع ہو ؛ لیکن یہ نسبت تضاد یا تقابل کی نہ ہو ۔
کہاں ہے ساقیِ محفل ، کہاں ہے جام و سبو
ہوائے عطر فشاں نغمہ بار ہے یارو
صنعت تلمیح : تلمیح سے مراد شعر میں کسی مشہور قصے ، کردار ، شخصیت ، یا مذہبی روایت کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے ۔ تلمیح کے الفاظ بہ ظاہر مختصر ہوتے ہیں ، لیکن اس کے پیچھے پورا قصہ یا تاریخ چھپی ہوتی ہے ۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
صنعت ِ مبالغہ : کسی شخص کی تعریف یا مذ مت اس حد تک کرنا کہ سننے والے کو گمان ہو کہ اس وصف کا کوئی اور مرتبہ باقی نہیں رہا ۔ اس کی ایک قسم ” غلو ” ہے ۔ ”غلو” اس بات کو کہتے ہیں جس کا دعویٰ کیا گیا ہو لیکن وہ بات عقل کے قریں قیاس نہ ہو ۔
آج پھر آ گئے کچھ بیتے دن
آج پھر آنکھوں سے دریا بہہ نکلا
صنعت تجاہل عارفانہ : اس کے لغوی معنی ہیں جان بوجھ کر انجان بننا ۔ اصطلاح میں کسی چیز کو جاننے کے باوجود اس سے اپنی ناواقفیت ظاہر کرنا تجاہل ِ عارفانہ کہلاتا ہے ۔
صنم سُنتے ہیں تیری بھی کمر ہے
کہاں ہے، کس طرف کو ہے ، کدھر ہے
صنعت تنسیق الصفات : کسی موقع پر چند الفاظ ایک وزن یا ایک قسم کے ، پے در پے آتے ہیں تو ایک خاص لُطف پیدا ہوتا ہے ۔ جیسے کسی شخص یا چیز کا ذکر اس کی صفات کے ساتھ کیا جائے، خواہ وہ خوبی ہو یا خرابی ۔
بوسہ لیتا ہے جو منہ چڑھ کے برابر گیسو
کتنا گستاخ ہے ، بے ہودہ ہے ، خود سر گیسو
صنعت ِ تعلی : جب شاعر اپنے کسی شعر میں خود اپنی یا اپنے کلام کی تعریف یا بڑائی بیان کرے ؛ اُسے تعلی کہتے ہیں ۔
ہم مزاج ِ غزل سے ہیں خوب آشنا
ہم سے قائم ہے حُسن ِ غزل دوستو
صنعت ِ مکر ِ شاعرانہ : کلام میں جب کوئی ایسی بات کہی جائے جس کا اصل مقصد کچھ اور ہو اور ظاہر کچھ اور کیا جائے ۔
محفل میں تم اغیار کو دُز دیدہ نظر سے
منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو
صنعت ِ ادماج : شعر میں ایسے الفاظ و تراکیب کو استعمال کرنا جن سے مجموعی طور پر دو معنی یا دو مفہوم پیدا ہوتے ہوں ۔ دونوں ہی اپنی جگہ درست ، صاف اور واضع ہوں ۔قاری کی مرضی کہ وہ کسے قبول کرے اور کس کو رد کرے ۔
ترے سرو قامت سے اِ ک قد ِ آدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
صنعت ِ رد العجز : کسی شعر کے دوسرے مصرعے دوسرے ٹکڑے کے تکرار کو رد العجز کہتے ہیں ۔
( شاکرہ کاظمی )